قانون کا عملی نفاذ

" سارہ ملکانی "

سندھ ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ 2013 کے تحت دی گئی ایک حالیہ سزا  ایک اچھی خبر بھی ہے اور اپنے اعمال پر نظر ڈالنے کا ایک موقع بھی۔اچھی خبر اس لیے کہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان میں گھریلو تشدد کا شکار ہونے والوں کے لیے انصاف ممکن ہے،اور پریشانی کا باعث اس لیے کہ قانون پاس ہونے کے چھ سال بعد ایک واقعہ میں پہلی بار سزا ہوئی ہے۔

23 فروری 2019 کے دن کراچی کی ایک عدالت نے ایک شخص کو سندھ ڈومیسٹک وائلنس (روک تھام اور تحفظ) ایکٹ 2013 کے تحت 6 ماہ قید سزا سنائی اور اسے حکم دیا کہ وہ متعلقہ شخص  کو بطور ہرجانہ 45000 روپے ادا کرے۔ دو سال قبل اس شخص کی اہلیہ (جو اب سابقہ ہے) نے شادی کے بعد شروعاتی دنوں ہی سے اس کی طرف سے جنسی اور جسمانی زیادتی کا شکار ہونے کے بعد اس قانون کے تحت ایک شکایت درج کروائی تھی۔ اس خاتون نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ تب کیا جب ایک دن اس کے شوہر نے اسے اتنا مارا کہ اسے جان بچانے کے لیے اپنے  والدین کے گھر جانا پڑا۔ ملزم جسمانی زیادتی کے ساتھ ساتھ جذباتی، نفسیاتی اور  لسانی زیادتی کے الزام میں مجرم ثابت ہوا، جو دونوں جرائم سندھ ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ کے تحت آتے ہیں۔ یہ سزا اسے پاکستان پینل کوڈ کے تحت جسمانی تکلیف دینے کی وجہ سے بھی سنائی گئی۔

اس بات سے مکمل اتفاق رکھتے ہوئے کہ ڈومیسٹک وائلنس انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، عدالت نے کہا: "بے شک پاکستان میں گھریلو زیادتیوں کا ارتکاب بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے۔ اس قانون کو معاشرے کے کمزور طبقے مثلا عورتوں اور بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے  منظور کیا گیا  کیونکہ عام طور پر ہمارے پدرانہ معاشرے  ایسے جرائم ہوتے ہیں اور مظلوم ڈر کی وجہ سے اپنی تکلیف بیان بھی نہیں کر سکتے  کیونکہ ایسا کرنے سے انہیں گھر سے نکالے جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔"

"سندھ ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ کو ایسے اقدامات کے لیے پاس کیا گیا جو عورتوں، بچوں یا کسی کمزور شخص کے خلاف گھریلو تشدد سے تحفط فراہم کریں۔: اس میں تمام گھریلو تشدد کی تعریف کچھ یوں کی گئی ہے :  "اس میں وہ تمام طرح کے تشدد شامل ہیں جو جنسی بنیادوں پر یا کسی بھی قسم کے نفسیاتی اور جسمانی تشدد کے زمرے میں آتے ہوں۔ اور یہ تشدد خواتین، بچوں اور دوسرے مجبور افراد کے خلاف ہو۔ اور یہ جرم کسی ایسے شخص کی طرف سے کیا گیا ہو جو کسی بھی طرح گھریلو سطح پر مظلوم کے ساتھ رشتہ میں بندھا ہو ا ہو۔ "

بلوچستان نے ایسا ہی ایک قانون 2014 میں منظور کیا جب کہ پنجاب نے پنجاب پروٹیکشن آف وومین اگینسٹ وائلنس ایکٹ 2016 میں نافذ کیا جو گھریلو زیادتیوں کا شکار ہونے والی عورتوں کے لیے تحفظ کے مختلف طریقے بیان کرتا ہے ۔  لیکن سندھ قانون کے برعکس، یہ گھریلو زیادتی میں ملوث لوگوں پر مجرمانہ سزائیں نافذ نہیں کرتا۔ خیبر پختونخواہ میں اسمبلی ارکان کی سخت مخالفت کی وجہ سے گھریلو تشدد کا قانون ابھی منظور نہیں کیا گیا۔

سندھ میں اس نایاب سزا کو ممکن بنانے میں کئی عوامل جڑے ہوئے ہیں۔ درخواست گزار کے پاس مضبوط حمایتی نیٹ ورک تھا جیسے اس کی ماں اور اس کے  ملازمت کے ادارے کے سربراہ اس کے ساتھ کھڑے تھے جب اس نے یہ کیس لڑا۔ ٹریل میں سستی یا تاخیر کی وجہ سے یہ حمایت کافی اہم تھی۔ اگرچہ  قانون میں لکھا ہے کہ اس ایکٹ کے تحت کوئی  بھی کاروائی 90 دن کے اندر مکمل ہو جانی چاہیے  پھر بھی یہ کاروائی تقریبا دو سال تک چلتی رہی۔ یہ تاخیر بنیادی طور پر ملزم کو ایک جگہ سے دوسری جگہ تک منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ میڈیکو لیگل ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ثبوت اور گواہ بھیجنے میں تاخیر  کی وجہ سے ہوئی۔

اس سزا میں کارآمد ایک اور اہم عنصر مضبوط میڈیکل شواہد تھے۔ تشدد جس کی وجہ سے درخواست گزار کو گھر سے باہر جانا پڑا، کے فورا بعد ڈاکٹروں نے اس کا معائنہ کیا، جنہوں نے ایک میڈیکو لیگل رپورٹ تیار کی۔ یہ ایک اہم ثبوت تھا  خاص طور پر اس لیے کہ ایسے کیس میں کوئی گواہ بھی سامنے کو تیار نہ تھا جو کہ گھریلو تشدد کے واقعات میں عام طور پر ہوتا ہے۔ جج کی حساسیت بھی ایک مثبت اثر تھا۔ اگرچہ یہ ان کے سامنے پہلا ڈومیسٹک وائلنس کا کیس تھا، انہوں نے اس نظریے کو آڑے نہیں آنے دیا کہ گھر کے اندر ہونے والا تشدد اور زیادتی ایک خاندان کا ذاتی مسئلہ ہے ۔

تاہم، کیس کے دوران حائل ہونے والی کئی رکاوٹوں نے ایسا کیس عدالت میں لانے کی مشکلات کو واضح کیا۔ بنیادی طور پر پولیس نے مجرم کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا۔ مظلوم  کو اس قانونی حکم کا سہارا لینا پڑا جس کے تحت  درخواست دہند ہ ڈائریکٹ  مجسٹریٹ کے سامنے براہ راست درخواست دائر کرنے کا اختیار رکھتا ہے ۔ اسی درخواست کی بنیاد پر مجسٹریٹ نے مجرم کے خلاف  لگنے والی دفعات کا تعین کیا۔

اس قانون کے تحت ایک سب سے اہم حل پروٹیکشن آرڈر ہے، جو کہ تشدد کرنے والے کو درخواست گزار کے ساتھ کسی طرح کا رابطہ کرنے سے روکتا ہے۔ عورتیں جو گھریلو تشدد سے بھاگ نکلتی ہیں، کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے فوری تحفظ کی ضرورت پڑتی ہے چونکہ انہیں جوابی کاروائی کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ کیس شروع ہونے کے بعد اگرچہ مجرم لگاتار اسے ہراساں کرتا رہا اور دھمکیاں دیتا رہا، درخواست گزار کو اس سہولت کا سہارا لینا پڑا۔ بد قسمتی سے پولیس پروٹیکشن آرڈر  پر عمل نہیں کر رہیی تھی لیکن اس کے باوجود یہ صرف مظلوم کی مزاحمت تھی جو  اور اس کے خاندان اور دوستوں کی معاونت اور سپورٹ تھی  جس کی وجہ سے وہ اس قانونی جنگ کو آخر تک لے جانے میں کامیاب ہوئی۔

سندھ ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ کی کچھ شقیں ابھی تک عملی طور پر نافذ نہیں ہیں۔  یہ قانون سہولت دیتا ہے کہ  مظلوم کی راہنمائی اور حمایت کے لیے ایک پروٹیکشن آفیسر تعینات کیا جائے  جو کیس کے اندراج کی نگرانی کرے۔ اس طرح کے افسران مظلوم کو اہم سپورٹ فراہم کرتے ہیں جس کی انہیں اس مشکل صورتحال میں اشد ضرورت  ہوتی ہے ۔

حال ہی میں، سندھ ہائی کورٹ نے اس قانون کے نفاذ میں  تاخیر کا نوٹس لیا۔ ہائی کورٹ جج جسٹس صلاح الدین پنوہار کے سامنے کئی درخواستیں آئیں، جو عورتوں کو فیملی ارکان کی طرف سے دھمکیوں اور ہراساں کرنے کے خلاف درج کروائی گئی تھیں، اور جو قانون ساز اداروں کی طرف سے کسی طرح کی پروٹیکشن حاصل کرنے کے قابل نہیں تھیں۔ جسٹس پنوہار کو معلوم ہوا کہ سندھ ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ ایسے مسائل کو حل کرنے کے لیے خاص طور پر منظور کیا گیا، اسے استعمال میں نہیں لایا جا رہا تھا۔ انہیں معلوم ہوا کہ سندھ حکومت اس قانون کے بار ےمیں پولیس اور عدلیہ کے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے میں ناکام رہی ہے، جج نے حکومت کو ہدایت بھی کی کہ وہ فوری طور پر پروٹیکشن کمیٹی اور پروٹیکشن افسروں کی تعیناتی کو یقینی بنائے۔

ان اقدامات کے ساتھ، ایسا لگتا ہے کہ ہمارے قانونی اداروں نے با معنی طور پر یہ تسلیم کرنا شروع کر دیا ہے کہ ریاست گھریلو زیادتیوں کے  مظلوم افراد کو انصاف اور پروٹیکشن فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے۔ تاہم ابھی تک اس قانون کے ذریعے جنسی بنیادوں پر تشدد کا خاتمہ ممکن بنانے میں  ابھی کافی وقت لگے گا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *