دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

ایاز امیرAyaz Amir

وزیراطلاعات، پرویز رشید کے مبینہ بیان کے مطابق یہ مدرسے ’’ہمارے عطیات اور قربانی کی کھالوں سے چلنے والی جہالت کی ایسی یونیورسٹیاں ہیں جو معاشرے میں نفرت اور تنگ نظری پھیلاتی ہیں۔‘‘اس کابینہ ، جس کے رشک ِ ماہتاب اوج ِ کمال میں کسی آنچ کی کسر نہیں، میں وزیر ِ اطلاعات کے بیانات کو تواتر سے دہرانے میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں اور اس عمل میں مجال ہے جو ان پر تھکاوٹ یا اکتاہٹ کے آثار ہویدا ہوں۔ موصوف ہمہ وقت اپنی قوت ِ گویائی اور حاضرین کی قوت ِ سماعت کا امتحان لینا زندگی کی دلیل سمجھتے ہیں ، چنانچہ جب اس امتحان ِ زیست کی جامد ساعت دور ِ جدید کی مہان ابتلا، ٹی وی پر وارد ہوتی ہے تو حاضرین و ناظرین(بلکہ جن وانس) کے سامنے کوئی جائے مفر دکھائی دیتی۔
یوں تو زیر ِ آسماں ہزارہا موضوعات، لیکن پرویز رشید کا خصوصی موضوع عمران خان ہیں۔ بس خاں صاحب کے منہ سے کسی بیان کا اداہونا شرط۔ اور بیانات کے داغنے میں خاں صاحب بھی کم نہیں۔ تو پھر بے چاری گردش ِ لیل و نہار اپنا کام جاری رکھے، ہمارے وزیر ِ اطلاعات کو اس سے کوئی غرض نہیں، ان کے بیانات کا تسلسل عوام کےلئے پیران ِ تسمہ پا۔ صابر سے صابر شخص بھی بدک کر کسی قریبی دیوار میں سر(فی الحال اپنا) دے مارنے پر تل جائے۔ لیکن جب گفتار کے غازی انہی صاحب نے لاکھوں افراد کے دل کی صدا بن کر ان مدرسوں کو’’جہالت اور لاعلمی کی فیکٹریاں ‘‘قراردیا تو اس کے بعد گویا سٹی گم ہوگئی۔ انواع واقسام کے ملا غصے سے کھولتے ہوئے وزیر صاحب پر چڑھ دوڑے اور ان کے استعفے کا مطالبہ کرنے لگے ۔ ان مولانا حضرات کو حقیقی غصے میں آتے دیکھنا ایک نئی پیش رفت ہے، کیونکہ اس سے بیشتر ان کے اشتعال میں آمد سے زیادہ ورد کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ حسب عادت آگ بگولا ہوتے ہوئے کراچی کی جامعہ کے مفتی صاحب اس حد تک چلے گئے کہ اُنھوں نے پرویز رشید کو’’دائرہ ِ اسلام سے خارج‘‘ قرار دیتے ہوئے انہیں سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ اسلام آباد میں لگے ہوئے بینرز میں وزیر ِ اطلاعات کے لئے سزائے موت تجویز کی جارہی ہے۔
یقیناً صاحبان ِ جبہ و دستار اور خطیبان منبرو محراب اپنا کام ادھورا چھوڑنے کے عادی نہیں، اور جب کوئی ان کے غضب کا نشانہ بنتا ہے، اور ان کا غضب ایسا تیرنیم کش نہیں جس کا کوئی ہدف ہی نہ ہو، تو وہ اس کی جان لئے بغیر نہیں ٹلتے۔ گشت پر موجود ایک پولیس پارٹی کا سامنا کچھ باریش نوجوانوں سے ہوا جوایسے بینر لگارہے تھے تو پولیس کو بھاگتے ہی بنی۔ یہ ہے اس ریاست کے دالحکومت میں امن و امان کی صورت ِحال۔ جب اُن نوجوانوں کا کھوج لگایا گیا تو وہ F6/4 کے مدرسے سے تعلق رکھتے تھے، لیکن کسی کوان کے دروازے پر دستک دینے کی ہمت نہ ہوئی۔ دارالحکومت میں امن و امان کے ماسٹر وزیر داخلہ ہیں، لیکن اُن کی مہارت کا جادو صرف پریس کانفرنس کے دوران سرچڑھ کر بولتاہے۔ ایجاز و اختصار کے دھنی لیکن گردش ِ دوران، یعنی وقت،طبع آزاد کو سلاسل کرنے سے عاجز، کہ ان کا ایک مختصر سا جملہ بھی پھیلائو کے اعتبار سے ایک گھنٹے پر محیط ، لیکن جہاں تک عملی انتظامات کاتعلق تو اسلام آباد انتظامیہ لال مسجد کے خطیب، مولانا عبدالعزیز کی شعلہ بیانی پر بھی کوئی ایکشن لینے سے قاصر۔ اور ، جیسا کہ ہم سب نے ٹی وی پر دیکھا،ایک تنہا گن مین، سکندر، نے دارالحکومت کی پوری انتظامیہ کو گھنٹوں یرغمال بنائے رکھا، چنانچہ ان سے ان جہادی دستوں کی طرف سے ایک وزیر کو موت کی دھمکیاں دینے کے خلاف کسی کارروائی کی توقع عبث ہے۔
اس سے پہلے کہ دہشت گردی کی سرکوبی کے لئے وسیع پیمانے پر تشہیر کردہ نیشنل ایکشن پلان کا ملک میں کہیں نفاذ ہو، کیا بہتر نہیں ہو گا کہ اسے سب سے پہلے دارالحکومت میں نافذ کرکے دیکھا جائے؟جب ہم پڑھتے ہیں کہ راجن پور یا رحیم یار خان میں ڈاکوئوں کے گروہوں نے پولیس اہلکاروں کو اغوا کرلیا تو ہم کہتے ہیں کہ اُن دور افتادہ مقامات پر ریاست کی عملداری نسبتاً کمزور تھی ، لیکن یہاں ہم اُن کچے کے علاقوں کی نہیں ، دارالحکومت، جو کہ طاقت اور اقتدار کا مرکز ہے، کی بات کررہے ہیں۔ اس کے باوجود یہاں بعض مدرسوں کے طلبہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے رہے ہیں، لیکن انہیں قانون کی گرفت میں کون لائے گا؟
بہرحال، غلطیوں کا کفارہ ادا کرنے کا وقت کبھی نہیں گزرتا، چنانچہ اٹھئے جناب، جاگئے حضور، وقت ِ قیام آن پہنچا۔ آپ کے منہ سے نکلنے والا جملہ قوم کے دل کی آواز ہے۔ مقدس دستوں کو غصہ اس لئے بھی زیادہ ہے کہ وہ دائیں بازو کی جماعت، جو نیکی کی تبلیغ کرنے اور رمضان پیکیج دینے کی طرف جھکائو رکھتی ہے، سے ایسے حملے کی توقع نہیں کررہے تھے۔ اشتعال کی دوسری وجہ الزام کا انتہائی دوٹوک ہونا ہے۔ پرویز رشید الفاظ سے کھیلتے ہوئے ذومعانی بات بھی کرسکتے تھے اور پھر علم بیان پر ان کی مہارت کسی سے کم نہیں، لیکن اس موقع پر دریا کو کوزے میں بندکردیا’’جہالت اور لاعلمی کی فیکٹریاں‘‘۔ اس جملے کا مزہ کم نہیں ہوتا اور بقول غالب، ’’کھینچتا ہے جس قدر ، اتنا ہی کھچتا جائے ہے‘‘۔ پوری کتاب لکھ لیں اس موضوع پر لیکن اختصار سے کہی گئی اس بات کا حق ادا نہیں ہوتا۔ یہ اس جملے کی گہرائی ہے جس نے مولانا حضرات کو لرزا کررکھ دیا ۔
کیا وزیر ِ داخلہ ، چوہدری نثار ، بھی اپنے دوست وزیر سے کچھ سیکھ سکتے ہیں کیونکہ ان کی تکلمانہ مساعی عموماً مفہوم اور معقولیت کا خون کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتی ہے۔ جب بھی مجھے قومی اسمبلی میں ان کی تقریر سننی پڑتی تو میں نہیں جانتا تھا کہ اب کیا کروں۔ طویل اور اکتادینے والے خطاب میں سے ایک جملہ بھی یاد نہیں رہتا تھا کہ جناب نے کہا کیا ہے۔ تاہم حیرت کی بات یہ ہے کہ وزیر ِ داخلہ، جنھوں نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنی ہے، کے بارے میں شنید ہے کہ ان کی وزیر ِ اعظم سے بول چال بند ہے۔ اگر یہ بات درست ہے ، اور اُنہیں اکثر اعلیٰ سطحی اجلاس میں نہیں دیکھا جاتا، تو وہ باعزت طور پر اپنا راستہ الگ کیوں نہیں کرلیتے یا حکومت ان سے یہ اہم ترین ذمہ داری واپس کیوں نہیں لے لیتی؟نواب مرزا خان داغ نے کیا خوب کہا۔
عذر آنے میں بھی ہے اور بتاتے بھی نہیں
باعث ِ ترک ِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
اور غزل کا مقطع تو بہت ہی برمحل ہے
زیست سے تنگ ہو اے داغ تو جیتے کیوں ہو
جان پیاری بھی نہیں، جان سے جاتے بھی نہیں
یہ سب کچھ اپنی جگہ پر ، ہمارا ’’اچھائی ‘‘ کی طرف سفر جاری ہے۔ مشرف دورمیں بیدار ہونے والی لبرل سوچ کا ایک پہلو یہ تھا کہ اسلام آباد کے اول درجے کے ہوٹلوں میں مہمانوں کو اپنی قلبی طمانیت کی اجازت ہوتی تھی بشرطیکہ وہ وجہ طمانیت اپنے ساتھ کہیں سے لے آئیں۔ میں اکثر شاہین کیمسٹ اور مجلس کے سامنے واقع لیونا کیپریز (Luna Caprese)میں جایا کرتا تھا لیکن اب یہ بند کردیا گیا ہے۔ پی ایم ایل (ن) کے مذہبی نظریات کا دور دورہ دکھائی دیتا ہے۔ اسلام آباد کی انتظامیہ سکندر کے خلاف کچھ نہ کرسکی تھی، یہ اشتعال انگیز بینرز لگانے والوں کا کیا بگاڑسکتی ہے، لیکن اس نے فوراً ہی اُن مقامات کو سختی سے بند کرادیا جہاں ، جیسا کہ میں نے کہا ،طمانیت ِ قلب کا اہتمام ہوتا تھا۔ کراچی کور کمانڈر نے حالیہ خطاب میں سندھ میں اتھارٹی میں پائے جانے والے خلا اور اداروں کی ناقص کارکردگی کی طرف نشاندہی کی ہے تو کوئی بات نہیں، ہم نے تو اور آبلوں پر بھی بہت مدت سے حنا باندھی ہوئی ہے۔ یہاں دفاعی اداروں کو ایک بات دھیان میں رکھنی چاہئے کہ گرچہ سول حکمراں بے حد نااہل ہیں۔
اہم سیاست دانوں کی بدعنوانی کے چرچے چاروانگ عالم مشہور اور ان کے اثاثے بیرونی ممالک میں محفوظ لیکن تجربات نے کم از کم ایک بات ہمیں ذہن نشین کرادی ہے کہ دفاعی اداروں کو ملک کی زمام ِ اختیار اپنے ہاتھ نہیں لینی چاہئے۔ اگر فوج ایک مرتبہ پھر ملک کے مسیحا کاکردار ادا کرنے کے لئے بیتاب ہورہی ہے تو پھر اسے چاہئے کہ شارٹ کٹ کی بجائے پہلے ڈی گال کی طرح جنگ جیتیں اور پھر سیاست کے میدان میں آکر قومی قیادت سنبھالیں۔ تیسری دنیا میں فو ج کی طرف سے اقتدار پر قبضہ کرنے کی مثالیں جنرل السیسی اور پرویز مشرف کے اقتدار جیسی ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں ڈی گال کبھی پیدا نہیں ہوا، نہ کسی اتاترک نے سراٹھایا۔ اس وقت پاکستان کو کسی طاقتور شخصیت کی ضرورت ہے ورنہ انتخابات کے نتیجے میں تو ایسی ہی حکومت آئے گی جو بینر بھی نہیں اترواسکتی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *