اردو میڈیم

اگر آپ کراچی کے کسی بڑے ریسٹورنٹ میں کھانا کھائیں، تو چانس ہیں کہ آپ کے قریبی ٹیبل پر ہونے والی گفتگو انگریزی میں سنیں گے۔

یہی صورتحال آئس کریم  پارلر اور کیفے میں بھی ہوتی ہے خاص طور پر انے میں جو ڈیفنس اور کلفٹن کے پوش علاقوں میں قائم ہیں اور جہاں بچے بھی انگریزی کے مختلف لہجوں میں بات کرے سنائی دیتے ہیں۔ ۔اسی طرح  اونچے کارپوریٹ دفاتر  میں بھی دیکھا جا سکتا ہے جہاں بڑے افسروں پر اردو بولنے پر پابندی ہوتی ہے۔

تو پاکستان میں کیا ہو رہا ہے جو ایک  ایسا ملک ہے  جس نے 72 سال قبل برطانوی حکومت سے آزادی حاصل کی؟ ہمارے اس وقت کے آقاؤں کی زبان عشروں بعد کیوں پروان چڑھائی جا رہی ہے؟ اس رحجان نے ہماری مقامی اور قومی زبان کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے اور ہماری تخلیقی صلاحیت کو کمزور کر دیا ہے۔

اپنے دوستوں سے بات کرتے ہوئے ہم بے خبری میں اردو سے انگریزی اور پھر اردو میں منتقل ہوتے رہتے ہیں جب ہمیں ایک زبان میں صحیح لفظ  نہیں ملتا۔ اورمیں اقرار کرتا ہوں کہ میں خود اسی سنڈروم کا شکار ہوں ۔ مجھے یاد  ہے  کہ سالوں قبل ہمارے ایس ٹی پیٹرک  سکول میں بریک کے دوران اپنے دوستوں کے ساتھ اردو میں بات کرنے کی وجہ سے ہم پر 25 پیسے جرمانہ کیا جاتا تھا ۔

ایک دن کراچی کی زم زمہ روڈ پر بریڈخریدنے جاتے ہوئے میری ملاقات  ایک 10 سال کے لڑکے سے ہوئی جو مجھ سے بچوں کی کتاب خریدنے کا کہہ رہا تھا۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہ تھی۔ تاہم جو چیز غیر معمولی  تھی وہ اس کا مجھ سے انگریزی میں بات کرنا تھا اگرچہ وہ واضح طور پر کسی ملازم طبقے کی فیملی سےمعلوم ہوتا  تھا  اس وجہ سے ممکن نہیں لگتا کہ وہ کسی  پرائیویٹ سکول میں زیر تعلیم رہا  ہو۔

ایک عام خیال ہے کہ انگریزی ایک طاقتور زبان ہے۔ امیر والدین کے بچوں کے درمیان اردو میڈیم ایک بے عزتی ہے۔ بچے شروع سے یہ سمجھتے ہیں کہ اردو وہ زبان ہے جس میں آپ اپنے ملازم کو حکم دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں جبکہ انگریزی  والدین دوستوں اور فیملی ارکان سے بات کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

غریب والدین بھی اس بات کو سمجھتے ہیں، اور اپنے بچوں کو انگلش میڈیم سکولوں میں پڑھانے کے لیے اپنے  محدود وسائل میں سے بڑی رقم قربان  کردیتے ہیں۔ تاہم،  بہت کم ایسے ادارے ہیں  جو  درست انگریزی میں ہدایات دیتے ہیں۔ یہ ادارے  بہت زیادہ فیسیں لیتے ہیں جو کہ بہت سے والدین کی گنجائش سے باہر ہوتی ہیں۔

لیکن اگر آپ خوش قسمتی سے اچھی انگریزی بول سکتے ہین اور کسی ادارے  سے گریجویٹ بن جاتے  ہیں ، تو آپ کے لیے بہت سے دروازے کھل جاتے ہیں۔ ذہانت کا اس سے کوئی تعلق نہیں کیوں کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگر آپ روانی کے ساتھ انگریزی بول سکتے ہیں تو نہ صرف آپ ایک ہوشیار انسان ہیں بلکہ آپ کا تعلق بھی ایک اچھے اور کھاتے پیتے گھرانے سے ہے۔ اس صورت میں آپ زندگی کا آغاز ایک برتری کے ساتھ کرتے ہیں  اور کم خوش قسمت لوگوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جن کا لہجہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کا تعلق  اردو میڈیم سے ہے۔

اور اگر یہ کمتر  طبقہ آپ سے انگریزی  میں بات کرنے کی جرات کرے  تو بھی بہت ممکن ہے کہ آپ ان کو اردو میں جواب دے کر ان کو ان کی اوقات یاد دلائیں گے ۔ لسانوں کی بنیاد پر یہ تکبرانہ رویہ ہمارے معاشرے کو برطانوی معاشرے کی طرح تقسیم کرتا ہے۔ یہاں، مہنگے بورڈنگ سکولوں جیسے ایٹون اور ہیرو میں حاضری آپ کو نہ صرف صحیح لہجہ عطا کرتی ہے،بلکہ ایک ایسا رویہ عطا کرتی ہے جو فورا آپ کو کسی ایلیٹ سکول کی پراڈکٹ کے طور پر متعارف کرواتا ہے۔ اس سہولت کی قیمت چکانے کے لیے  والدین اپنے  گھروں کو گروی رکھ دیتے ہیں۔

انگریزی میں روانی کے واضح فوائد کے باوجود اس کے استعمال اور تدریس کے  میں ایک بڑی منافقت  چھپی ہوئی ہے ۔ ہمارے قانون ساز اور سرکاری نمائندے اردو کا استعمال کرتے ہیں اور اسی کی تبلیغ کے لیے اپنے ہونٹوں کو استعمال کرتے ہین۔ لیکن اندازہ لگائیں کہ ان کے بچوں کو کہاں تعلیم دلائی جاتی ہے؟ حتی کہ ہمارے سینیئر علماء  بھی اپنے بچوں کو اعلی تعلیم کے لیے امریکہ  بھیجنے کی وجہ سے جانے جاتے ہیں اور اس دوران وہ  امریکہ مخالف نعرے  بھول جاتے ہیں جو ان کی زبان پر عام طور پر سنے جاتے ہیں ۔

لاہور ایچیسن کالج اور کراچی گرامر سکول جیسے سکولوں میں داخلہ سونا خریدنے جیسا ہے۔ دونوں سکولوں میں بہت سی درخواستیں آتی ہیں اور 5 سال تک کے بچوں کی قابلیت کا معائنہ بھی کیا جاتا ہے، اگرچہ میری سوچ سے باہر ہے کہ اتنے چھوٹے بچے سے کیا جاننے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ لیکن صرف یہ چیز یقینی بنانے کے لیے کہ ان کے والدین اچھے بھلے کمانے والے ہیں، انہیں انٹرویو کے لیے بھی بلایا جاتا ہے۔

داخلہ ملنے کے بعد بچے کی زندگی کی سمت طے کر دی جاتی ہے۔  گریجویشن اکثر امریکہ میں کروائی جاتی ہے، پھر کسی معروف کارپوریشن، ترجیحی طور پر ملٹی نیشنل کارپوریشن،  میں ملازمت کے لیے آتے ہیں، یا والد کی کمپنی میں آتے ہیں، اپنے برابر کے کسی خاندان سے شادی کرتے ہیں، اور پھر بچوں کو کسی ایلیٹ سکول میں داخل کرنے کو یقینی بنانے کی کوششوں میں جٹ جاتے ہیں۔

لیکن زندگی کی سمت طے کرنے کی اس ریس میں ہم بہت بڑا نقصان اٹھاتے ہیں  ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے خدا داد صلاحیتوں کے مالک بچے  امیر لوگوں کی وجہ سے اپنے حق سے محروم کر دیے جاتے ہیں اور وہ پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ ہمارے انگلش سے چمٹے رہنے کی وجہ سے یہ لوگ  ہماری دی ہوئی مشکلات سے لڑتے لڑتے زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

لہٰذا ہم نے   اہم عہدوں سے  صرف خواتین اور اقلیتوں کو ہی دور نہیں رکھا بلکہ ہم نے صرف انگریزی کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہوئے بہت سے با صلاحیت بچوں اور نوجوانوں کو پرے دھکیل دیا ہے۔ اس سے ایسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے کہ زیادہ تر بچے جب سکول سے رخصت ہوتے ہیں تو وہ نہ انگریزی پر اور نہ ہی اردو پر مکمل عبور رکھتے ہیں ۔ اور ناگزیر طور پر ہم اپنے ثقافتی ورثے کا ایک اہم حصہ کھو دیتے ہیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *