انتظار ختم، جنوبی کوریا اور امریکا میں فائیو جی ٹیکنالوجی متعارف

موبائل فونز نیٹ ورک پر جدید ترین فائیو جی ٹیکنالوجی کی تیاری کافی عرصے سے جاری تھی اور اس حوالے سے متعدد کمپنیوں نے موبائل فونز بھی بنانا شروع کردیے تھے۔

جنوبی کوریا، امریکا، چین و جاپان سمیت دیگر ممالک فائیو جی ٹیکنالوجی پر بیک وقت کام کر رہے تھے۔

امریکا اور جنوبی کوریا اس ٹیکنالوجی پر کام میں دیگر ممالک سے آگے تھے اور امریکا کی جانب سے تو اس ٹیکنالوجی کو 2018 کے آخر تک متعارف کرانے کا اعلان بھی کردیا گیا تھا۔

تاہم امریکا سمیت دیگر ممالک 2018 تک فائیو جی ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے میں ناکام رہے۔

لیکن اب بیک وقت جنوبی کوریا اور امریکا نے دنیا کی اس تیز ترین ٹیکنالوجی کو متعارف کرادیا۔

تاہم دونوں ممالک کی جانب سے ایک ہی دن میں فائیو جی ٹیکنالوجی کو متعارف کرائے جانے پر تنازع بھی سامنے آیا ہے۔

امریکی کمپنیوں اے ٹی اینڈ ٹی اور ویریزون کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے پہلے ٹیکنالوجی متعارف کرائی۔

اس ٹیکنالوجی پر کافی عرصے سے کام جاری تھا—فوٹو: شٹر اسٹاک

اس ٹیکنالوجی پر کافی عرصے سے کام جاری تھا

ساتھ ہی دوسری جانب جنوبی کوریا کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے پہلے فائیو جی ٹیکنالوجی متعارف کرائی۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ جنوبی کوریا نے سب سے پہلے فائیو جی ٹیکنالوجی متعارف کرائی۔

جنوبی کوریا کی جانب سے فائیو جی ٹیکنالوجی کو متعارف کرائے جانے کے محض 2 گھنٹے بعد امریکی کمپنیوں اے ٹی اینڈ ٹی اور ویریزون نے بھی محدود علاقوں میں اس ٹیکنالوجی کو متعارف کرایا۔

جنوبی کوریا کے حکام نے گزشتہ ہفتے ہی اعلان کیا تھا کہ و ایک ہفتے کے اندر فائیو جی ٹیکنالوجی متعارف کرادیں گے۔

جنوبی کوریا نے 3 اپریل کو فائیو جی ٹیکنالوجی متعارف کرائی، جس کے 2 گھنٹے بعد ہی امریکی کمپنیوں نے بھی اس ٹیکنالوجی کو متعارف کرایا۔

جنوبی کوریا کی جانب سے فائیو جی ٹیکنالوجی کو محدود علاقوں کے بجائے اسے کمرشل بنیادوں پر ہر کسی کے لیے متعارف کرایا گیا۔

جنوبی کوریا اور امریکا کی جانب سے بیک وقت فائیو جی ٹیکنالوجی کو متعارف کرائے جانے کے بعد اب خیال کیا جا رہا ہے کہ جلد ہی دیگر ممالک بھی اس ٹیکنالوجی کو متعارف کرائیں گے۔

فائیو جی کی رفتار کیا ہے؟

اس کی رفتار حالیہ نیٹ ورک سے 100 فیصد تیز ہے—فائل فوٹو: دی ورج

اس کی رفتار حالیہ نیٹ ورک سے 100 فیصد تیز ہے

فائیو جی نیٹ ورک موجودہ موبائل انٹرنیٹ کنکشنز سے سو گنا جبکہ گھروں کے براڈ بینڈ کنکشنز سے 10 گنا تیز ہوگا۔

فائیو جی کے ذریعے ڈھائی سے تین گھنٹے کی فلم محض ایک سیکنڈ میں ڈاؤن لوڈ کی جا سکے گی۔

گزشتہ سال موبائل ورلڈ کانگریس میں سام سنگ نے فائیو جی ہوم روٹر کو پیش کیا تھا جس کی رفتار 4 گیگابائٹس فی سیکنڈ تھی، یا یوں بھی کہا جاسکتا ہے 500 میگا بائٹس فی سیکنڈ، جس کی مدد سے پچاس جی بی کی فائل صرف 2 منٹ جبکہ سو جی بی کی فلم 4 منٹ میں ڈاﺅن لوڈ کی جاسکتی ہے۔

فائیو جی ٹیکنالوجی کو جدید انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب قرار دیا جا رہا ہے یہ ٹیکنالوجی آرٹیفیشل انٹیلی جنس، خود کار گاڑیوں، بجلی گھروں، ہسپتالوں کے آلات سمیت دفتری امور کے دیگر آلات میں بھی استعمال کی جا سکے گی اور اس سے کام کا معیار حالیہ معیار سے 100 فیصد بہتر ہونے کا امکان ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *