یہ کیا حماقت ہے بھئی ۔۔۔ ؟

مجھے لگتا ہے کہ ابکے پڑوس میں مودی سرکار دوبارہ اقتدار میں آئی تو کہیں وہ اپنے بہت بڑے محسن اور ہمارے وزیرخارجہ کو اپنے سب سے بڑے ریاستی اعزاز سے ہی نہ نواز دے کیونکہ وہ گزشتہ دو ماہ میں دوبار اسکا استحقاق جو پیدا کرچکے ہیں ۔۔۔​ ابھی نندن کی جلد رہائی کے فیصلے کے بعد اب جس کسی نے بھی​ شاہ محمود قریشی صاحب کا وہ بیان پڑھا ہے کہ جس میں انہوں نے آئندہ چند روز میں پاکستان پہ بھارتی جارحیت کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے تو وہ میرے اس رمز کو بخوبی سمجھ جائے گا​ کیونکہ شاہ محمود کے اس سے بین السطور مودی کی امیج سازی بھارت کے ایک ایسے مخلص محافظ کے طور پہ ہوتی جھلک رہی ہے کہ جس نے گویا خدانخواستہ مملکت پاکستان اور اسکی حکومت​ و اداروں کی نیند اڑا کے رکھ دی ہیں اور یوں مودی کی اس برانڈنگ​ میں نئی جان پڑجائے گی کہ جسکے تحت وہ​ خود کو دیش کا​ محافظ اور چوکیدار کا برانڈ بناکر دکھانے میں پہلے بھی کافی حد تک کامیاب دکھائی دے رہا ہے ۔۔۔ بلاشبہ اس تاثر کا​ تمام تر فائدہ نریندر مودی کو ہی پہنچے گا اور اسکی انتخابی مہم جو راہول گاندھی کی ڈھیلی اور غیردانشمندانہ حکمت عملی کے باعث پہلے ہی سخت آزمائشوں کا شکار ہے اسے اس بیان سے ایک اور سخت​ مشکل درپیش ہوجائے گی​ ۔۔۔۔​
​ بالائے ستم یہ کہ محض اسی بیان پہ بس نہیں کیا گیا بلکہ دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے بھی اس ضمن میں ایک بیان جاری کیا ہے اور بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو بھی دفتر خارجہ طلب کرکے اس نوع کے اقدام سے باز رہنے کی تنبیہ بھی کی گئی ہے ۔۔۔​ سوال یہ ہے کہ کیا یہ انکشاف اور اس پہ حکومتی ردعمل سے اندر خانے بھارتی حکومت کو آگاہ نہیں کیا جاسکتا تھا ،،، اور کیا اس سے انکی صفوں میں ویسی ہی کھلبلی نہیں مچ جاتی کہ جیسی کہ ہونی چاہیئے تھی ۔۔۔ لیکن اسے کھلے بندوں بیان کرنے سے تو بہت کچھ بگڑ گیا ہے ۔۔ کیونکہ اس ردعمل کے اظہار سے پہلے یہ کیوں نہیں سوچا گیا کہ کھلے عام ایسا گھبرایا گھبرایا سا ردعمل ظاہر کرنے سے بھارتی عوام پہ ہمارا قومی امیج کیا بنے گا ۔۔۔ اور اس شدید بوکھلاہٹ کے تاثر سے مودی سرکار کو کس قدر فائدہ پہنچے گا جو کہ پہلے ہی بڑی مکاری سےخود کو ملکی سلامتی کا چوکیدار اور محافظ باور کراتے نہیں تھک رہی اور حیرت انگیز طور پہ اسکا یہ منجن خوب بکتا دکھائی بھی دے رہا ہے کیونکہ اسکے مقابل جو فرد کھڑا ہے وہ مودی جیسے عیار اور لفظوں کے کھلاڑی کے مقابل محض طفل مکتب ہے اور جسکے ڈھیلے ڈھالے انداز اور روکھی پھیکی تقریروں نے کانگریس کی انتخابی مہم کو بیجان اور پھیکا سیٹھا بناکے رکھ دیا ہے - راہول گاندھی کے بونگے پن کا تو یہ عالم ہے کہ مودی کے خلاف انکے ترکش میں جو زبردست طاقت والے بالکل صحیح​ تیر موجود بھی ہیں تو وہ انہیں ڈھنگ سے چلا ہی نہیں پارہے اور مودی بڑی صفائی سے ان سے خود کو بچاکر انہی تیروں کو نئے ڈھنگ سے راہول ہی پہ پھیکتے چلے جارہے ہیں​ ​
راہول گاندھی کے ڈھیلے پن کی ایک بڑی مثال رافیل طیاروں کا مشہور گھوٹالہ کیس ہے کہ جس میں وہ درست ہوکے بھی درست نتائج برآمد کرنے میں یکسر ناکام ہیں - اس رافیل معاملے میں یہ الزام سامنے آیا ہے کہ مودی جی نے اپنے دوست انیل امبانی کو نوازنے کے لیئےانہیں رافیل ڈیل میں شامل کیا اور یوں 30 ہزار کروڑ کی رقم کو چوری کرایا - اس معاملے میں مودی جی کے اقرباء پروری کے ثبوت بہت واضح ہیں مگر اس بڑے ثبوت پہ بھی وہ ابھی تک مودی کا بال بیکا کرتے نہیں دکھائی دے رہے کیونکہ مودی اس بار جنگی جنون پیدا کرکے خود کو بھارت دیش کے محافظ اور چوکیدار کے برانڈ کے طور پہ مارکیٹ کرنے میں زبردست کامیابی حاصل کرتے نظر آرہے ہیں اور اس معاملے میں وہ فوج اور میڈیا کو اپنے ساتھ ملانے میں بھی پوری طرح کامران دکھائی دیتے ہیں - فوج تو انکے ساتھ اس لیئے خوشی خوشی ساتھ کھڑی ہوگئی ہے کیونکہ سقوط ڈھاکہ کے بعد سے اسکے پلے کوئی کارنامہ نہیں ہے اور ڈھاکا کی لنکا بھی انہوں نے مکتی باہنی کے لاکھوں مقامی کارکنوں کی بہت بڑی شورش اور بغاوت کے بل پہ ہی ڈھائی تھی اور یہ انکا اکیلے کا کارنامہ ہرگز نہیں تھا لیکن پھر 1984 میں امرتسر میں گولڈن ٹیمپل پہ ہونے والی خونی لشکر کشی المعروف آپریشن بلیو اسٹار نے انہیں دنیا بھر میں رسواء کردیا تھا پھر یہ اسکی نحوست ہی تھی کہ جب اسے ابتک انکی ذلت کا یہ سلسلہ نہیں رکا اور کبھی میزورام کے قبائل تو کبھی​ ناگالینڈ کے لشکر اور ساتھ ساتھ​ آسام کے نکسل باغیوں کے ہاتھوں انہیں مسلسل خجل خوار ہونا پڑرہا ہے اور کشمیر تو انکے لیئے گویا اک دائم کوچہء رسوائی بن ہی چکا ہے​ تو ایسے میں جب مودی اپنے محافظ کے امیج کو بنانے کے لیئے جعلی اسٹرائیکس کا ڈرامہ رچائیں اور اسکا بیٹھے بٹھائے مفت کا کریڈٹ فوج کو بھی مل رہا ہو تو فوج کوئی پاگل تونہیں کہ آخر کیوں اور کیسے اس پھوکٹ کے اعزاز کو لینے سے انکار کردے​ جو کہ اسے کچھ کیئے بغیر مل رہا ہے اور اب مودی کے ہر جھوٹ پہ سر ہلانے ہی سے اسکے جھوٹے پندار کی بحالی و سلامتی​ کا تمامتر انحصار ہے کیونکہ اسی میں دونوں کی بقاء کا راز مضمر ہے​ ​
مودی کی یہ کامیابی بھی معمولی نہیں کہ کہ وہ بڑی مکاری کے ساتھ اپنے مبینہ فوجی آپریشنوں کے ثبوت مانگے جانے کو غداری کے مترادف ٹہرادیتے ہیں اور اس کام میں انہیں میڈیا کی بھرپور مدد میسر رہتی ہے کیونکہ مودی جی اپنے گجراتی ارب و کھرب پتی سرمایہ دار دوسستوں سے حاصل کردہ خطیر فنڈز کے بل پہ انہیں بےتحاشا اشتہارات سے نواز رہے ہیں - لیکن اپنی پاکستان مخالف انتخابی مہم میں انہیں اب تک جو سب سے بڑی کامیابی میسر آئی ہے وہ انہیں اپنے ہنر سے نہیں بلکہ خود پاکستانی حکومت کی حماقت سے مل پائی ہے اور وہ یہ ہے کہ جب بھارتی پائیلیٹ ابھینندن پاکستان میں پکڑا گیا تھا تو مودی سرکار کی سٹی گم ہوگئی تھی اور انکے دیش کے محافظ ہونے کے سارے بڑبولے دعوووں کےبت منہ کے بل گرپڑے تھے ۔۔ اور اسی لیئے بوکھلا کے پہلے مرحلے میں تو بھارتی حکومت نے ایسے کسی واقعے ہی کی تردید کرکے جان چھڑانا چاہی تھی لیکن ابھینندن کے باپ ورتھمان نے سارا کھیل ہی بگاڑدیا کیونکہ وہ ریٹائرڈ ایئرمارشل تھا اور جانتا تھا کہ اسکے ملک کی طرف سے اس انکار سے اسکے بیٹے کی سلامتی کس قدر خطرےمیں پڑسکتی تھی اور​ اسی لیئے جب اس نے پریس کانفرنس کرکے احتجاج کرنے کی دھمکی دی تو ناچار مودی سرکار کو یہ حراست تسلیم کرنی ہی پڑی تاہم اس سے اسکے چھکے اور بھی زیادہ چھوٹ گئے تھے کیونکہ مودی جی نے جس محنت سے اس جارحیت کے بل پہ اپنے انتخابی کانٹوں کو راستے سے چن کے پھینک دینے کا سپنا دیکھاتھا وہ ایک ڈراؤنے خواب میں بدل چکا تھا ۔۔۔​ لیکن ایسے میں اسکے امریکی دوست مدد کو آگے بڑھے اور پاکستانی انتظامیہ سے ابھی نندن کی فوری واپسی کا مطالبہ منوالیا گیا جو کہ نہایت حیرت انگیز تابعداری کی بڑی گھناؤنی مثال بن گیا جسکی شاید خود امریکیوں اور بھارتی حکام کو بھی توقع نہیں تھی کیونکہ بھارت میں انتخابات کا اعلان ہوچکا تھا اور ابھینندن کی پاکستان میں حراست سے مودی کا بھارت محافظ والا امیج اس بری طرح برباد ہوجانا تھا کہ الیکشن میں فتح پاسکنے کا تصؤر بھی نہیں کیا جاسکتا تھا
لیکن ہونی ہوکے رہی اور پھر بڑی پھرتی سے مودی سرکار نے اپنے پائیلیٹ کی اس واپسی کو اپنے امیج کی بحالی کے ایک زبردست موقع میں تبدیل کردیا اور وہ بھارتی عوام کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہی کہ ابھینندن کو پاکستانی حکومت​ نے اس قدر جلد صرف مودی کے خطرناک ردعمل کے خدشے اور ڈر کے سبب چھوڑا ہے
اور یوں مودی نے بہت زبردست سیاسی داؤ کے ذریعے پاکستان کی کامیابی کو بھی ناکامی بناکے رکھ دیا - اب پھر پاکستان ایسی ہی صورتحال سے دوچار نظر آرہا ہے کیونکہ صاف محسوس ہورہا ہے کہ مودی جی نے اپنی انتخابی مہم میں مزید ولولہ پیدا کرنے اور اپنی کامیابی کو یقینی بنانتے کے لیئے اپنے مغربی دوستوں کی مدد سے پاکستان کی حکومت سے وہ احمقانہ بیان دلوادیا ہے کہ جسکی اسے اس مرحلے پہ شدید ضرورتھی​ ۔۔۔ بظاہر تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے شاہ محمود کا یہ بیان بظاہر حفظ ماتقدم کی ذیل میں ہے اور اس سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ اس سے بھارت کو یہ صاف پیغام دینا مقصود ہے کہ ہم غافل نہیں ہیں اور ہمیں تمہاری جانب سے جارحیت کے تازہ خفیہ منصوبے کا علم ہوگیا ہے اور یوں بھارت اپنا پلان بینقاب ہوجانے کا سن کے اسے ترک کرنے پہ مجبور ہوجائے گا لیکن جو لوگ ذرا سی بھی جنگی نفسیات اور حکمت عملی کا ادراک رکھتے ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں ابھی ڈیڑھ ماہ پہلے پاکستان کے ہاتھوں دو طیاروں کے مارگرائے جانے اور یوں تازہ تازہ ہزیمت اٹھانے کے بعد مودی جی پاکستانی فوج کی پیشہ ورانہ اہلیت کے ارے میں چونکہ حکمت دو ماہ پہلے 2 بھارتی جہازوں کے مار گرائے جانے تاز کے پلان تخریبی منصوبوں کا بخوبی علم ہوگیا ہےپاکستان کو بھارتی جارحیت سے محفوظ بنانے کے لیئے​ اس بیان سے پاکستان کو اپنے دفاع کی مد میں کوئی فوری یا شارٹ ٹرم​ فائدہ پہنچے نہ پہنچے مگر ایک طویل مدتی یا لانگ ٹرم نقصان پہنچ جانے کے امکانات بہت واضح ہیں کیونکہ درحقیقت اس بیان سے بھارتی انتخابات میں مودی سرکار کو زبردست تقویت پہنچنے کا قوی امکان ہے​
یہاں آخر میں میرا سوال عمران خان سے ہے اور وہ یہ کہ کیا ان کی حکومت کو بربادی کے لیئے اب بھی​ واقعی کسی دشمن کی ضرورت ہے یا اس کم کے لیئے اسکے اپنے ہی کافی ہیں ،،؟ اور کیا شاہ محمود قریشی بھی ویسا ہی 'اپنائیت' والا​ کردار ادا کرتے نہیں دکھائی دے رہے کہ جیسا بھٹو نے ایوب خان کی حکومت گروانے کے لیئے ادا کیا تھا اور اس حکومت کا وزیرخارجہ ہونے کے باوجود ان سے آپریشن جبرالٹر جیسی حماقت کا ارتکاب کروکے ان کے زوال کا سفر آغاز کرادیا تھا ۔۔۔ بس اب یہاں میرے تھوڑا کہے کو کافی جانیئے کہ نیک و بد ہم حضور کو سمجھائے دیتے ہیں ،،،!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *