ایمسٹرڈیم کے ریڈ لائٹ زون کے شاید دن گنے جا چکے

نیدرلینڈز کی پارلیمان کے سامنے ایک درخواست پیش کی جائے گی جس میں جسم فروشی پر پابندی کا مطالبہ کیا جائے گا۔

اس پٹیشن پر تقریباً 42،000 لوگوں نے اپنے دستخط کیے ہیں، جس کی وجہ سے ایک ایسے ملک کے قانون ساز اس موضوع پر بحث کریں گے جہاں جسم فروشی سے متعلق انتہائی نرم قوانین ہیں۔

مسیحیت پر مبنی اس مہم کا نام ’آئے ایم پرائیس لیس‘ یا ’میری قیمت نہیں‘ ہے۔

اس کے کارکنان جسم فروشی کے گاہکوں کے لیے اپنے ملک کے اقتصادی اور سماجی ماڈل کے تحت سزا مقرر کروانا چاہتے ہیں۔

انھوں نے انسٹا گرام پر اپنے حامیوں کی تصاویر بھی لگائیں ہیں جن میں انھوں نے ایسے نعروں والے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے مثلاً جن پر لکھا ہے ’میری قیمت نہیں‘، ’اگر آپ کی بہن ہوتی تو؟‘ اور ’جسم فروشی عدم مساوات کی وجہ بھی ہے اور نتیجہ بھی‘۔

تاہم جواب میں کسی نے لکھا ’میں اپنی مرضی سے جسم فروشی کرتی ہوں اور میری طرح اور بھی بہت ہیں۔ اس مہم سے میری نوکری کئئ گنا زیادہ خطرناک ہو جائے گی۔‘

قانون کیا کہتا ہے؟

نیدرلینڈز میں سیکس کی خرید و فروخت جائز ہے جب تک یہ بالغ افراد کے بیچ ہو۔

لیکن نورڈک ماڈل کے تحت سوئڈین، ناروے، آئس لینڈ، شمالی آئر لینڈ اور فرانس میں خریداروں کے لیے سزا مقرر ہے۔

کارکنان کیا کہتے ہیں؟

اس مہم کے جوان کارکنان کہتے ہیں کہ غیر محفوظ عورتوں کی حفاظت کرنے کے لیے زیادہ اقدامات اٹھانے چاہییں۔

’آئے ایم پرائس لیس‘ پٹیشن کے مطابق نیدرلینڈز کی سیکس کے کاروبار کے بارے میں قوانین قدیم اور استحصالی ہیں اور ان کو سویڈین جیسے ممالک سے سیکھنا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ جن ممالک میں یہ ماڈل قائم کیا گیا ہے وہاں سیکس خریدنے کم لوگ جاتے ہیں، انسانی سمگلنگ کم ہوتی ہے اور جسم فروشی کی وجہ سے کم لوگوں کے ساتھ استحصال ہوتا ہے۔

اس پٹیشن کے پیچھے ’ایکسپوز‘ مہم ہے جس کے بانیوں میں سے ایک سماجی کارکن سارا لوس ہیں۔ یہ ایسی خواتین کی بحالی کے لیے کام کرتی ہیں جو ماضی میں جسم فروش تھیں۔

وہ کہتی ہیں ’ہم حقوقِ نسواں کے کارکن ہیں، مسیحی ہیں اور ہم میں سے چند غیر جانبدار بھی ہیں۔‘

ایکسپوز

’خیال یہ تھا کہ نیدرلینڈز کی پالیسی محفوظ ہے، کہ جسم فروشی کو قانونی بنا دینا بہتر ہے، کہ سیکس بیچنا ایک آزادی ہے۔ لیکن اتنا کچھ غلط ہو رہا ہے۔ یہاں پر اتنی انسانی سمگلنک ہے اور اس حوالے سے ایمسٹرڈیم سب سے زیادہ غیر محفوظ ہے کیونکہ یہاں سستی جسم فروشی کی مانگ سب سے زیادہ ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ عورتوں کو یہ اشارہ ملتا ہے کہ جسم فروشی پیسے کمانے کا آسان طریقہ ہے، جبکہ ان کے پاس اور راستے ہونے چاہییں۔

ان کا کہنا ہے ’ایسی صرف چند عورتیں ہیں جو کوئی اور نوکری ڈھونڈنے کے قابل نہیں۔ ان کو نیا ہنر سیکھنے میں مدد ملنی چاہیے۔‘

جسم فروش کیا کہتے ہیں؟

ایمسٹرڈیم کا ریڈ لائٹ زون اس دارالحکومکت کے سب سے مشہور مقامات میں سے ایک ہے اور یہ ایک ایسے ملک میں واقع ہے جہاں جسم فروشی کو روایتی طور پر آزادیِ انتخاب کی نظر سے دیکھا گیا ہے۔

عوام اور سیاست دانوں میں سے اکثر کہتے ہیں ’اگر ایک عورت اپنا جسم بیچنا چاہتی ہے تو یہ اس کی مرضی ہے‘۔

جسم فروش

’ایمسٹرڈیم انسانی سمگلنک کے حوالے سے سب سے زیادہ غیر محفوظ ہے کیونکہ یہاں سستی جسم فروشی کی مانگ سب سے زیادہ ہے'

ان لال بتیوں کے پیچھے کام کرنے والی عورتوں نے بھی مجھے یہی بولا ہے کہ یہ ان کا آزاد انتخاب ہے، لیکن تفصیلی گفتگو کے بعد اکثر معلوم ہوتا ہے کہ یہ فیصلے ایسے حالات میں لیے جاتے ہیں جب ان کے پاس کوئی اور چارہ نہ رہے۔

ان میں ایسی مائیں بھی ہوتی ہیں جو رومانیہ میں اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلوانا چاہتی ہیں اور ایسی جوان لڑکیاں جو اتنی تذلیل دیکھ چکی ہیں کہ وہ اپنی نظر میں گر چکی ہیں۔

فوکسی جسم فروشوں کی ایک تنظیم، پراؤڈ، کی رکن ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گاہکوں کو سزا دینے کی کوشش میں جسم فروشوں کو ہی سب سے زیادہ نقصان پہنچے گا۔

وہ کہتی ہیں ’یہ پٹیشن سیکس ورکرز کے حق میں نہیں ہے۔ یہ انجیل پڑھنے والے ہیں جو ہمیں روکنا چاہ رہے ہیں۔‘

’اگر یہ درخواست منظور ہو جاتی ہے تو جسم فروش غیر قانونی طور پر کام کریں گے اور ان کے تشدد کا نشانہ بننے کے امکانات بڑی جائیں گے۔ گاہکوں کو پتا ہو گا کہ ہم پولیس کے پاس نہیں جا سکتے اور یہ کانڈم اتارنے کی کوشش بھی کریں گے جس سے ہمیں ایچ آئے وی ہونے کا خطرہ بھی زیادہ ہو جائے گا۔ فرانس میں بھی نورڈک ماڈل لانے کے بعد یہی ہوا تھا۔‘

اس درخواست کے جواب میں وزارتِ انصاف کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا انسانی سمگلنگ کے خلاف اقدامات لینے اور جسم فروشوں کو فنڈز مہیا کرنے کا ارادہ ہے تاکہ وہ کام چھوڑ سکیں۔ انھوں نے کہا کہ ان منصوبوں پر ابھی مشاورت جاری ہے اور ان کو اسی سال پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔

لیکن نیدرلینڈز کے موجودہ آزادانہ قوانین میں کسی قسم کی اچانک تبدیلی کو سیاسی اور سماجی سطح پر مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا، بالخصوص ان لوگوں سے جو جسم فروشی کو جبر نہیں بلکہ آزادی انتخاب سمجھتے ہیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *