اداکارہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام کا کیس اداکار نے جیت لیا

آسکر ایوارڈ یافتہ اداکار 67 سالہ جیفری رش نے آسٹریلوی اخبار پر دائر کیا گیا ہتک عزت کا مقدمہ جیت لیا۔

اداکار نے گزشتہ برس آسٹریلوی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ پر جھوٹی خبر شائع کرنے کے بعد ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔

آسٹریلوی اخبار نے نومبر 2017 میں جیفری رش کے خلاف صفحہ اول پر رپورٹ شائع کی تھی، جس میں ان پر ایک اداکارہ کے حوالے سے جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

آسٹریلوی اخبار میں شائع رپورٹ میں جیفری رش کی ساتھی اداکارہ ایرین نارولز کا حوالہ دے کرآسکر ایوارڈ یافتہ اداکار پر سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔

یہ رپورٹ عین اس وقت شائع کی گئی تھی جب دنیا بھر میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے حوالے سے ’می ٹو مہم‘ کا آغاز ہوا تھا۔

می ٹو مہم کا آغاز اکتوبر 2017 میں پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن کے خلاف بیک وقت 100 خواتین کے سامنے آنے کے بعد ہوا تھا۔

ہولی وڈ پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن کے خلاف متعدد معروف اداکاراؤں نے بھی جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے تھے، جس کے بعد ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔

جیفری رش نے اخبار کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا—فوٹو: اے پی

جیفری رش نے اخبار کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا

می ٹو مہم نے جہاں امریکا اور برطانیہ میں تہلکہ مچا دیا تھا، وہیں اس نے آسٹریلیا، جرمنی، فرانس، بھارتاور کینیڈا سمیت دیگر ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور اس مہم کے سلسلے میں آسٹریلوی اخبار نے جیفری رش کے خلاف رپورٹ شائع کی تھی۔

جیفری رش کے خلاف شائع کی گئی رپورٹ میں اداکارہ ایرین نارولز نے الزام عائد کیا تھا کہ 67 سالہ اداکار نے انہیں اسٹیج ڈرامے کے دوران کام کرتے وقت جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔

اداکارہ نے الزام عائد کیا تھا کہ جیفری رش نے اسٹیج پر ان کی چھاتی کو نامناسب انداز میں چھونے سمیت انہیں نازیبا موبائل پیغامات بھیجے تھے۔

اداکارہ ایرین نارولز نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ جیفری رش ڈریسنگ روم میں ان کے ساتھ نامناسب حرکتیں کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

اداکارہ کی جانب سے الزامات عائد کیے جانے کے کچھ دنوں بعد ہی جیفری رش نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دسمبر 2017 میں عدالت سے رجوع کرلیا تھا۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق جیفری رش کی جانب سے دائر کی گئی اخبار کے خلاف ہتک عزت کی درخواست پر اگست 2018 میں ٹرائل شروع ہوا اور نومبر 2018 کے اختتام تک ٹرائل اختتام پذیر ہوا۔

عدالت نے ٹرائل کے اختتام پر ہتک عزت کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا، جسے 11 اپریل 2019 کو سنایا گیا۔

جیفری رش اور ایرین نارولز نے اسٹیج ڈرامے میں ایک ساتھ کام کیا تھا—فوٹو: دی آسٹریلین

جیفری رش اور ایرین نارولز نے اسٹیج ڈرامے میں ایک ساتھ کام کیا تھا

فیصلے میں عدالت نے جیفری رش کے خلاف لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف پیش کیے گئے تمام ثبوتوں کو ناکافی قرار دیا۔

عدالت نے جیفری رش کے خلاف لگائی گئی رپورٹ کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے اسے اداکار کے لیے مالی نقصان کا سبب بھی قرار دیا۔ عدالت نے اخبار کو حکم دیا کہ وہ اداکار کو ہرجانے کے طور پر 6 لاکھ 10 ہزار امریکی ڈالر فراہم کرے۔

عدالت نے قرار دیا کہ اخبار کی جانب سے جھوٹی رپورٹ شائع کیے جانے کے بعد 67 سالہ اداکار کو مالی نقصان پہنچا اور انہیں کئی کاموں سے فارغ کردیا گیا۔

خیال رہے کہ جیفری رش کے خلاف ایک اور ساتھی اداکارہ یائل اسٹون نے بھی جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

یائل اسٹون نے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کو بتایا تھا کہ جیفری رش نے انہیں 2010 میں اسٹیج پرفارمنس کے ایک منصوبے کے دوران جنسی طور پر ہراساں کیا۔

اداکارہ نے الزام عائد کیا تھا کہ جیفری رش نے ڈریسنگ روم میں ان کے سامنے برہنہ رقص کیا اور انہیں بار بار نامناسب موبائل پیغامات بھیجتے رہے۔

اداکارہ نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ جیفری رش شوٹنگ کے دوران اداکارہ کو نہانے کے دوران برہنہ دیکھنے کی کوششیں بھی کرتے رہے۔

جیفری رش نے یائل اسٹون کے الزامات کو بھی بے بنیاد قرار دیا تھا۔

یائل اسٹون نے بھی اداکار پر الزام عائد کیا تھا—فائل فوٹو: نیوز ڈاٹ کام ڈاٹ اے یو

یائل اسٹون نے بھی اداکار پر الزام عائد کیا تھا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *