ساکھ

محمد طاہرM tahir

جعلسازی ، جعلسازی کا جواز نہیں۔ مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ ریاست کس جعلساز اورجعلسازی کے خلاف حرکت میں آتی ہے اور کس کے خلاف نہیں؟ اس سے بھی بڑا سوال ہے کہ وہ جب ایسا کرتی ہے تو کیوں کرتی ہے؟ آخر کیوں نیب، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کے اداروں کو کسی بھی بدعنوان شخص یا ادارے کے خلاف حرکت میں آنے کے لئے ’’اوپر کے احکامات‘‘ کا انتظار کرنا پڑتا ہے؟ یہ ادارے اپنے داخلی نظم میں بلاامتیاز بروئے کار آنے کی اہلیت سے محروم کیوں ہیں؟ ایگزیکٹ کے خلاف ایف آئی اے کو حرکت میں آنے کے لئے ’’وزارتِ داخلہ‘‘ کے احکامات کا انتظار کیوں کرنا پڑا؟ پھر ایگزیکٹ سے ہی ملتے جلتے دوسروں کے سنگین جرائم میں ایف آئی اے خاموش کیوں ہے؟ان سوالات کے جواب سے دراصل ریاست پاکستان کی اصل حقیقت و بناوٹ کا پتا چلتا ہے۔
ایگزیکٹ کی جعلی تعلیمی اسناد کا معاملہ ایک ایسے معاشرے میں’’زیادہ‘‘ بھیانک بنا کر پیش کیا جارہا ہے جہاں ہر چیز جعلسازی پر مبنی ہے۔بارِ دگر عرض ہے کہ جعلسازی ،جعلسازی کا ہرگزجواز نہیں۔ مگر جہاں جعلسازی ایک منبع کے طور پر اپنا وجود رکھتی ہووہاں اُس سے نکلنے والی نہریں ہی صرف قابلِ اعتراض نہیں ہوسکتی۔ اِس کے لئے ایک مجموعی اعتراض کا مکمل ضابطہ درکار ہوتا ہے۔ جعلسازی سے نجات ہاتھوں سے لڑ کر نہیں ذہنوں کو ختم کرکے ملے گی۔ مگر ریاست پاکستان کا طریقۂ کار کیا ہے؟ ذرا ٹٹول لیجئے! ریاست کے ہر ادارے کو کسی بھی تحرک کے لئے ایک دھکا (پُش) چاہئے ہوتا ہے۔ اور یہ دھکّا کبھی بھی اصولی اور ہمہ گیر نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ مخصوص لوگوں کے خلاف ،مخصوص حالات میں اور مخصوص قسم کا ہوتا ہے۔ پاکستان کی فیصلہ ساز قوتیں دباؤ ، ضرورت یا مفاد کی تین تحریکوں سے ریاستی اداروں کو کسی کے خلاف دھکّا لگاتی ہیں۔یہ نکتہ مزید واضح ہونا چاہئے۔ ریاستی ادارے کسی بھی بدعنوانی کے خلاف حرکت میں آتے ہیں تو وہ کسی اخلاقی یا قانونی قوت کے بل پر ایسا نہیں کرتے۔وہ دراصل کسی بھی بدعنوانی کے خلاف حرکت میں آتے ہوئے اُتنے ہی بڑے بدعنوان پہلے سے ہی ہوتے ہیں۔ ایگزیکٹ کے خلاف تحقیق یا تفتیش کرنے والا ایف آئی اے کون سی ساکھ رکھتا ہے؟ اس کی ہزارداستانیں زباں زدِ عام ہیں۔ بنیادی طور پر یہ ریاست ایک ایسا آہنگ اختیار کر چکی ہے جس میں مجرم ، مجرموں کے خلاف تحقیقات کر رہے ہوتے ہیں۔ اس لئے جرائم کے واضح آثار نظر آنے کے باوجود بھی اس کے خلاف نفرت کا وہ طوفان معاشرے میں نہیں اُٹھ پاتا۔ کیونکہ عوام نفسیاتی اور شعوری طور پر یہ راسخ تصور رکھتے ہیں کہ یہ سب ایک جیسے لوگ ہیں۔ ایگزیکٹ ہی نہیں ، معاشرے میں رونما ہونے والے بد سے بدترین اخلاقی ، سیاسی اور سماجی بحرانوں کے حالیہ واقعات پر نگاہ ڈالئے ! عوام میں کہیں پر بھی ، کسی بھی سطح پر اور کسی بھی نوع کی کوئی عمومی بے چینی پیدا نہیں ہوتی۔ یہ سارے فضیتے اور بکھیڑے محض عوام کے لئے تماش بینی کے لذیذ نظاروں سے بڑھ کر کوئی اور چیز بن نہیں پاتے۔چنانچہ اس معاشرے کے بد سے بدترین مسئلے پر بہتر سے بہترین لطائف وجود میں آجاتے ہیں۔ ہم اپنے رُلادینے والے بدترین المیوں کو ہنسی اڑانے والی ہنسی میں اڑا دیتے ہیں۔ یہ معاملہ بجائے خود ایک بہت بڑے بحران کا اشارہ کررہا ہے۔ اور اُس سے بھی بڑا بحران یہ ہے کہ ہم ایک بحران کے طور پر اس کا شعور تک نہیں رکھتے۔
ایک مفروضے کے طور پر اس کو درست مان لیجئے کہ ایگزیکٹ پر جعلی تعلیمی اسناد کے مکروہ دھندے میں ملوث ہونے کے جو الزامات ہیں، وہ سب کے سب باون تولے پاؤ رتی درست ہیں۔ سوال ایک دوسرا ہے ، کیا ریاست ایگزیکٹ کے خلاف اس لئے حرکت میں ہے کہ وہ اس دھندے کو بہت مکروہ سمجھتی ہے اور اِسے کسی بھی سطح پر گوارا کرنے کے لئے تیار ہی نہیں؟ جواب ہے ،ہرگز نہیں۔اگر یہ ریاست اور حکومت جعلی تعلیمی اسناد کے مکروہ دھندے کی پہلے سے ہی مخالف ہوتی تو وہ اس کے خلاف پہلے سے ہی بروئے کار بھی آجاتی۔ کیا ہم بھول گئے ہیں کہ پارلیمنٹ میں کتنے اراکین جعلی تعلیمی اسناد کے مقدمات میں نااہل قرار پائے ہیں۔پارلیمنٹ کے بیشتر اراکین ایک ایک کر کے جعلی تعلیمی اسناد کے باعث نااہل قرار پاتے گئے۔ مگر کیا کسی بھی سطح پر بجائے خود جعلی تعلیمی اسناد کے اس مکروہ دھندے کی تلاش اور بیخ کنی کا سوال اُٹھا۔ ان تمام نااہل اراکین میں سے کسی ایک کی جعلی سند کسی بھی سطح پر ایگزیکٹ سے حاصل نہیں کی گئی تھی۔ بلکہ یہ پورا گورکھ دھندا پاکستان اور مغربی ممالک سے جڑا ہوا تھا۔ پھر اُن پاکستانی اداروں کے خلاف قانون کسی بھی سطح پر حرکت میں کیوں نہیں آیااور مغربی ممالک کے خلاف کوئی فضا کیوں پیدا نہیں کی جاسکی؟بات بہت سادہ ہے ۔ یہ فیصلہ کن قوتوں کی کوئی ترجیح سرے سے ہی نہیں ہے۔
جعلی تعلیمی اسنا د سے زیادہ بڑے ایک دوسرے پہلو کو دیکھتے ہیں۔جو اس صورتِ حال کو مزید واضح کرتا ہے۔پاکستان میں اعلی تعلیم کی اسناد پر ماہرینِ تعلیم عرصہ دراز سے سوال اُٹھاتے ہیں کہ یہ ایک بہت بڑی جعلسازی میں تبدیل ہوگئی ہے۔ ڈاکٹریٹ کی جعلی اسناد عام طور پر حاصل کر لی جاتی ہے۔ یہ جعلی اسناد بھی دو طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک تو سرے سے ہی جعلی اسناد ہوتی ہیں مگر جعلی اسناد کی ایک دوسری قسم بھی ہے جو پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اس میں اسنا د تو اصلی ہوتی ہے مگر اس کے حصول کا پورا طریقہ جعلسازی پر مبنی ہوتا ہے۔ پاکستان میں ڈاکٹریٹ کی بیشتر اسناد پر اِس نوع کے سوالات موجود ہیں۔ مگر حکمرانوں کے کانوں پر جُوں تک نہیں رینگتی۔ شعبۂ ابلاغ عامہ سے ہی ایک مثال پیشِ خدمت ہے۔ پاکستان کی ایک اہم ترین جامعہ کے اس شعبے میں ایک اُستاد نے اپنے ہی دوسرے ساتھی اُستاد کی پوری کی پوری تحقیق کو لفظ بہ لفظ نقل کیا ۔ یہاں تک کہ اُس تحقیق کا دیباچہ تک تبدیل نہیں کیا۔ اُستاد موصوف کو یہ توفیق بھی نہیں ہو سکی کہ وہ دیباچے میں اصلی محقق کی جانب سے تحقیق کی غرض سے کئے گئے دوسرے ملک کے سفر میں پیش آنے والے واقعات اور ملنے والے افراد کے نام ہی بدل دیتے۔ جب کہ وہ اس سفر کے دوران پاکستان کے اندر ہی موجود تھے اور باقاعدہ کلاسیں لے رہے تھے۔مگر اس پوری کی پوری مسروق تحقیق پر اُنہیں بھی ’’ڈا کٹریٹ‘‘ کی سند سے نواز دیا گیا۔ اس طرح ایک جیسے الفاظ پر مبنی ایک ہی تحقیق پر دو افراد الگ الگ ’’ڈاکٹریٹ ‘‘ کی اسناد رکھتے ہیں۔ اس کا سب سے مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ اُس استاد سے پڑھنے والے طلبا گزشتہ روز ایگزیکٹ کے دفتر کے باہر کھڑے جعلی تعلمی اسناد پر ہونے والی سرکاری کروٹوں کا مشاہدہ بیان کر رہے تھے۔
شرم یہاں کسی کو بھی نہیں آتی۔ اب ذرا ڈاکٹر عطاالرحمان کا حال بھی سن لیجئے۔ جو ایگزیکٹ کے معاملات پر سب سے زیادہ لب کشائی اور تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ ایچ ای جے کے ایک باوقار ادارے سے وابستہ رہے۔ موصوف کے دور میں بھارت سے ہونے والی تحقیق کو جوں کا توں نقل کرکے ’’ڈاکٹریٹ‘‘ کی نامعلوم کتنی ہی اسناد عطا کی جاتی رہیں۔( اس ضمن میں کسی بھی اعتراض کی صورت میں متعلقہ تحقیقات کے تمام حوالے پیش کر دیئے جائیں گے۔جن کی تمام نقول راقم السطور کے پاس محفوظ ہیں۔ یہاں تفصیلات اس لئے بیان نہیں کی جارہی ہیں کیونکہ بحث کا یہ مرکزی نکتہ نہیں ، بلکہ یہ ایک مسئلے کی وضاحت میں دی گئی محض مثال ہے) ڈاکٹر موصوف ایک سے زائد مرتبہ تحریری اور زبانی یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ وہ ایڈز اور کینسر جیسے امراض کے علاج دریافت کر چکے ہیں۔ کراچی یونیورسٹی میں سابق شیخ الجامعہ ڈاکٹر عبدالوہاب کے زمانے میں خود اُنہوں نے اس پر اُن سے وضاحت طلب کی اور اس دنیا کی سب سے بڑ ی تحقیق کے دعوے کے ثبوت مانگے تو اُنہوں نے جو دلچسپ پینترے بدلے ، وہ کسی کتاب الحیل کی نئی تدوین کا باعث بن سکتے تھے۔ جو بجائے خود ایک ڈاکٹریٹ کی سند کے قابل تھے۔ اُس زمانے میں راقم کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر عطا الرحمان نے کہا کہ مجھے تو پاکستان میں اب رہتے ہوئے بھی شرم آنے لگی ہے جہاں تحقیق کا راستا اس طرح روکا جاتا ہے۔ مگر پھر وہ اچانک جنرل پرویز مشرف کے عہد میں وفاقی وزیر کے منصب سے سرفراز کر دیئے گئے۔ اور مشرف صاحب اُن کا نام لے لے کر اُن کی تصنیفات کی تعداد بتاتے نہ تھکتے تھے۔ اس میں دوسروں کی لکھی ہوئی وہ تحقیقی تصنیفات بھی شامل تھیں جس میں بطور کورس انچارج ڈاکٹر موصوف کا نام لکھا ہوتا۔ پاکستان میں تعلیمی جعلسازیوں کی کوئی حد نہیں۔ جعلی اسناد کے مکروہ دھندے کی کوئی ایک جہت بھی نہیں۔ کیا حکومت اس پورے کھیل کو ختم کرنے کے لئے میدان میں اُتری ہے؟ کیا ذرائع ابلاغ جو ایگزیکٹ کو اپنے نشانے پر لے چکے ہیں، دراصل تعلیم کی جعلی اسناد کے حوالے سے کوئی حساسیت رکھتے ہیں؟ یہ ذرائع ابلاغ جعلی تعلیمی اسناد میں اتنی بھی دلچسپی نہیں رکھتے، جتنی کہ اُنہیں گلوکارہ حمیرا ارشد کی طلاق کی خبر سے دلچسپی ہے۔ یا ایان علی کے جھانکتے بدن کو دکھاتے یا چھپاتے کپڑوں سے دلچسپی ہے۔ یا پھر بھارتی اداکار سلمان خان کی سزا سے دلچسپی ہے۔ مسئلہ جعلی تعلیمی اسناد کا نہیں۔ بلکہ یہ ہے کہ فیصلہ کن اور فیصلہ ساز قوتوں کی ترجیحات کیا ہے؟اور اُن کے مفادات کی تکمیل کو دراصل کس چیز کی ضرورت ہے؟
چوہدری نثار نے جس طرح ایگزیکٹ کے خلاف فوری قدم اُٹھایا ہے، سوال یہ ہے کہ ریاست اُس ہی جیسے دوسرے معاملات میں بھی اس طرح بروئے کار کیوں نہیں آتی؟ کیا وہ تب ہی تحریک پائے گی جب کوئی فضیتا (اسکینڈل) نیویارک ٹائمز میں چھپے گا اور اُس کی حمایت میں دیگر ذرائع ابلاغ کے مالکان اپنا ایک اکٹھ بنا لیں گے؟ کیا چوہدری نثار اس طاقت ور حلقے کے ہاتھ کی چھڑی ہیں؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *