آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکج: ’6 سے 8 ارب ڈالر قرض ملنے کا امکان‘

اسلام آباد: وفاقی وزیِر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے شرح تبادلہ، پبلک فنانس، مالی خسارے اور توانائی کی قیمتوں پر دستخط شدہ دستاویزی بیل آؤٹ پیکج کو حتمی شکل دے دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس کے ساتھ انہوں نے تصدیق کی کہ آئی ایم ایف کا وفد رواں ماہ کے تیسرے ہفتے میں اسلام آباد کا دورہ کرے گا جس میں تکنیکی امور زیر غور آئیں گے۔

ایک ہفتے تک جاری رہنے والے دورہ امریکا کے بعد قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس اور ریونیو کو اجلاس میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ ’ہم نے سمجھوتے پر اتفاق کرلیا ہے اور تمام بڑے مسائل کو حل کر کے دستاویزی شکل دے دی گئی ہے‘۔

اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’پاکستان نے فنانشل ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کو عملدرآمد رپورٹ بھیج دی ہے جس پر پیرس سے تعلق رکھنے والی ایجنسی، زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے مئی کے تیسرے ہفتے میں اپنا وفد بھیجنے سے قبل نظرِ ثانی کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کا مشن رواں ماہ اسلام آباد کا دورہ کرے گا جس میں متعدد تکنیکی امور کو حتمی شکل دی جائے گی اور اس سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بھی آگاہ کیا جائے گا۔

اجلاس کے دورن مختلف تجارتی چیمبرز، صنعتوں کے نمائندوں اور صوبائی حکام نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے لیے قلیل مدت کی مخالفت کی اور تجویز دی کہ اس کے لیے بہتر منصوبہ بندی اور زائد وقت دیا جانا چاہیے۔

بعدازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ بیل آؤٹ پیکج پر تحریری سمجھوتہ ہوگیا ہے اور تمام پالیسی معاملات پر سمجھوتہ طے پاگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس میں قرض کی کل رقم کا ذکر نہیں ہے، تاہم یہ رقم 6 ارب ڈالر سے 8 ارب ڈالر ہوسکتی ہے، اس کے علاوہ عالمی بینک اور ایشیئن ڈیولپمنٹ بینک کی جانب سے بڑی رقم موصول ہوگی جو پہلے سے طے شدہ تھی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو 15 ارب ڈالر کی مالیاتی کمی کا سامنا ہے جس کے لیے 7 سے 8 ارب ڈالر عالمی بینک جبکہ 6 سے 8 ارب ڈالر آئی ایم ایف اور ایشئن ڈیولپمنٹ بینک سے ملنے کا امکان ہے جبکہ بین الاقوامی بانڈز پیش کرنے کے لیے بھی تیاریاں کی جارہی ہیں۔

اسد عمر کے مطابق اس سلسلے میں نیویارک میں بڑے مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں سے رابطہ ہوا اور انہیں یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہورہی ہے کہ پاکستانی بانڈز کی قیمت میں 9 سے 7 فیصد تک کمی ہوگئی ہے جبکہ اس حوالے سے مجموعی صورتحال بھی خاصی تسلی بخش ہے۔

اس ضمن میں جب ان سے چینی قرضوں سے متعلق آئی ایم ایف کے مطالبات کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی اطلاعات بے بنیاد اور حیران کن ہیں کیوں کہ آئی ایم ایف نے اس بارے میں گزشتہ برس اکتوبر میں پوچھا تھا جس کے بعد حکومت نے چینی قرضوں سے متعلق تمام تر تفصیلات فراہم کردی تھیں کیوں کہ ہمیں محسوس ہوا کہ اس میں کچھ بھی چھپانے کی ضرورت نہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی شراط کا بوجھ عام عوام پر نہیں آئے گا تاہم خراب پالیسیوں کی بدولت بحران کا شکار معاشی معاملات کو بہتر کرنے کے لیے مشکل فیصلے کرنے ہوں گے۔

توانائی کی قیمتوں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس حوالے سے اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا، تاہم حکام اس بارے میں مجھے وقتاً فوقتاً آگاہ کرتے رہیں گے۔

اس کے ساتھ انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ آئی ایم ایف نے دفاعی بجٹ میں کمی کا مطالبہ کیا تھا۔

قائمہ کمیٹی نے وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ حکومت کی کامیاب حکمتِ عملی کے باعث گزشتہ 8 ماہ کے دوران معاشی بحران پر قابو پالیا گیا ہے اور دوست ممالک سے موصول ہونے والے قرضوں نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کرنے میں مدد دی۔

جس کے نتیجے میں اب حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان گزشتہ برس اکتوبر، نومبر میں ہونے والی بات چیت سے معاملات قدرے مختلف ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *