بچوں کی تربیت

واک پر نکلتے ھی راحیل نے ایک سوال کر دیا۔ ابو ! یہ بچوں کی تربیت کیسے کی جا سکتی ھے۔ اور کیا اس کے لیے کوئ خاص قائدہ قانون ھے ؟ ھمارا معمول ھے۔ ھم روزانہ واک پر جاتے ھیں۔ اور واک کے دوران ھم کسی نہ کسی موضوع پر گفتگو بھی جاری رکھتے ھیں۔ یوں واک بھی ھو جاتی ھے اور دماغ کی ورزش کا سامان بھی ھو جاتا ھے۔ ہمارے موضوعات میں کافی ورائٹی ھے۔ اور یہ عموما سیاست، تاریخ، ادب، فلاسفی ، سائیکولوجی، سوشیالوجی ، کرنٹ افئیرز ، میڈیسن اور روز مرہ کی زندگی کا احاطہ کرتے ھیں۔ میں راحیل کا سوال سن کر ھلکا سا مسکرایا۔ کل یہی سوال نبیل نے مجھے کیا تھا۔ گویا یہ دونوں بچے آجکل ایک ھی طرح سوچ رھے تھے۔ میں نے راحیل کی جانب دیکھا اور کہا۔ تم ماشااللہ اب خاصے بڑے ھو۔ شادی شدہ ھو۔ ڈاکٹر ھو۔ سمجھ دار ھو۔ مجھ سے بہتر جانتے ھو۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ میرا اور تمہارا باپ بیٹے کا رشتہ کھلی کتاب کی مانند تمہارے سامنے ھے۔ اسی رشتے اور تعلق کے اندر سے کچھ اصول وضع کر لو۔ جو باتیں اچھی لگتی ھیں ۔ انہیں اپنا لو۔ جہاں مزید بہتری کی گنجائش ھے۔ وہاں بہتر کر لو۔ لو، بن گیا قانون و قائدہ ۔ راحیل میری بات سن کر مسکرانے لگا۔ آپ بلٹ پوائنٹس میں مجھے بتائیں۔ تاکہ یاد رھیں۔ اور بوقت ضرورت کام آئیں۔ یار راحیل، یہ تو ایک مسلسل عمل ھے۔ زندگی کا اوڑھنا بچھوڑنا ھے۔ ضرورت نہیں پڑتی ، سانسوں کی مانند یہ تربیت چلتی رھتی ھے۔ کوشش کرو۔ بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارو۔ ان سے دوستی کرو۔ ان سے اپنی اور ان کی باتیں شئیر کرو ۔ انہیں اتنی اجازت دو۔ وہ اپنے جذباتی اور نفسیاتی مسائل تمہارے ساتھ شئیر کر سکیں۔ بطور باپ اپنے بچوں کے ساتھ خوف اور ڈر اور تصنوع کا تعلق قائم نہ کرنا۔ یہ جو مائیں بچوں کو دھمکاتی رھتی ھیں۔ ابو کو بتا دوں گی۔ گویا ابو نہ ھوا۔ بھاو بلا ھو گیا۔ اور کئ باپ بھی اس میں مزہ لیتے ھیں کہ ان کے بچے ان سے ڈرتے ھیں۔ اولاد عزت کرتی ھے۔ اور محبت بھی کرتی ھے۔ لیکن یہ عزت اور محبت وہ باپ سے باپ کے طور پر کرتی ھے۔ اپنا فرض سمجھتی ھے۔ میرا کہنا کچھ اور ھے۔ اولاد اور ماں باپ میں بے تکلفی ، دوستی اور احترام دوستوں کی مانند ھونا چاھیے۔ جب باپ کام سے گھر آتا ھے۔ تو تھکا ھوتا ھے۔ ادھر بچے بھی باپ کے انتظار میں ھوتے ھیں۔ یہ ایک مشکل وقت ھوتا ھے۔ جو باپ یہ سمجھتے ھیں وہ اپنے بچوں کے لیے محنت کرتے ھیں ان کے آرام اور آسائش کے لیے کماتے ھیں۔ تاکہ ان کی خواھشات پوری کر سکیں۔ وہ ایک تکنیکی غلطی کرتے ھیں۔ بچوں کو باپ کا ٹائم بھی چاھیے۔ کوشش کرو۔ گھر آ کر کچھ دیر بچوں کے ساتھ گزارو۔ کوئ گیم کرو۔ اور ھاں اپنا موبائل فون ، لیپ ٹاپ اور ٹی وی بھی بند کر دو۔ بچہ اگر آپ کے پاس آنا چاہ رھا ھے۔ تو بیوی کو آواز دے کر نہ کہیں۔ اسے لے جاو۔ مجھے تنگ کر رھا ھے۔ تنگ تو آپ اسے کر رھے ھیں۔ بچہ اگر کوئ قابل ستائش بات کرتا ھے۔ تو اس کی دوسروں کے سامنے بھی تعریف کرو۔ اگر کوئ ناپسندیدہ بات کرتا ھے۔ تو اسے چھپا لو۔ بچوں کو اعتماد دینا بہت ضروری ھے۔ ان کی انسلٹ مت کرو۔ کبھی گھور کر نہ دیکھو۔ اور جسمانی طور پر مارنے کا تو سوچو بھی نہیں۔ اگر بچہ ضد کرتا ھے۔ تو اس کا دھیان ھٹا دو۔ توجہ ادھر ادھر کر دو۔ کبھی ضد پوری بھی کر دو۔ لیکن وہ اس کا عادی نہ بن جائے۔ بچوں کے ساتھ ان ڈور اور آوٹ ڈور گیمز کرو۔ اور ھاں، بچوں کو کبھی براہ راست اخلاقی اور خشک لیکچر نہ دو۔ بچوں میں شعوری طور پر مزاحمت کا مادہ ھوتا ھے۔ آپ کے خشک لیکچرز اس پر اثر نہیں کرتے۔ ھاں ، ان ڈائریکٹ طور پر انہیں سمجھا لو۔ کوئ قصہ، کوئ کہانی، تاریخ سے کوئ صفحہ ، کوئ داستان، لیکن افسانوی نہیں، حقیقت اور زندگی کے قریب ، بچوں کو بے معنی خواب نہ دکھائیں۔ بچوں کا تخیل اور تصور بہت طاقتور ھوتا ھے۔ وہ کہانیوں اور واقعات سے خود نتائج اخذ کر لیتے ھیں۔ آپ ان کے سامنے ایک سچوئیش رکھ دیں۔ وہ خود کو بہتر کرتے جائیں گے۔ اگر آپ کے ذرائع آمدن کم ھیں۔ تو اپنے بچوں سے یہ بھی شئیر کریں۔ انہیں بتائیں ان کی پڑھائ ، محنت اور قابلیت چند سالوں میں کم ذرائع آمدن کو ختم کر دیں گے۔ یقین کریں ۔ بچے آپ کی صورتحال کو سمجھ لیں گے۔ خاص طور پر انہیں اس ماحول اور گفتگو سے بچائیں جو انہیں انتہاپسندی کی جانب لیجا سکتا ھے۔ بچوں کے ذھن کو کھلا رھنے دیں۔ وہ تنقید اور سوال کرتے رھیں۔ اور آخر میں میں پھر یہی کہوں گا۔ وہ آپ کا احترام کسی خوف یا فرض کے تحت نہ کرے۔ محبت اور دوستی اس کی بنیاد ھونی چاھیے۔ آپ کا بچہ یہ سوچے۔ میں نے اپنے ابو کو ناراض نہیں کرنا ۔ اس لیے نہیں کہ اس سے گناہ ھوتا ھے۔ بلکہ اس لیے کہ اس کی محبت آپ کی ناراضگی کی متحمل نہ ھو سکے۔ شادی سے پہلے آپ اپنے حصے کی آزاد اور انفرادی زندگی گزار چکے ھیں۔ جن بچوں کو آپ اس دنیا میں لائے ھیں ۔ اب آپ کی زندگی پر ان کا حق ھے۔ آپ محنت کریں۔ پیسے کمائیں ۔ بچوں کی ضروریات پوری کریں۔ لیکن ایسا نہ ھو۔ آپ کے بچے آپ کو ایک ایسی پروڈکٹ سمجھنا شروع کر دیں۔ جس کا کام محض پیسے کمانا اور ان کی خواھشات اور ضروریات پوری کرنا ھے۔ اولاد اور ماں باپ کے رشتے کی یہ بدترین شکل ھے۔ میں ایسے گھروں سے واقف ھوں۔ جہاں باپ اپنے ھی گھر میں آوٹ سائیڈر بن جاتا ھے۔ اور یا پھر بچے گھروں کو چھوڑ کر چلے جاتے ھیں۔ خاص طور پر وہ باپ جو بسلسلہ روزگار دوسرے ممالک میں چلے گئے۔ ایک وقت آتا ھے۔ جب وہ چھٹی پر گھر اتے ھیں۔ اور بچے ان کی آمد کو اپنی زندگی میں مداخلت سمجھنے لگتی ھے۔ کیونکہ وہاں رشتوں میں کشش اور محبت ختم ھو جاتی ھے۔ اپنے رشتے کو خوبصورت بنائیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *