ففٹی شیڈز آف گرے کی رائٹر کا ایک انٹرویو

لندن۔ ای ایل جیمز کو صحافیوں سے گفتگو کرنا بلکل اچھا نہیں لگتا کیونکہ صحافی ذاتیات کے بارے میں بہت سوال پوچھتے ہیں جیسا کہ ان کے پاس کتنی دولت ہے یا کیا انہوں نے گھر میں جنسی تعلقات کے لیے کمرہ تیار کر رکھا ہے یا نہیں وغیرہ وغیرہ۔

پبلسٹی کی طرف ان کی بڑھتا رجحان عجیب اور غیر منطقی ہے۔ ایک مشہور اور دنیا بھر کی توجہ کا مرکز مصنف کی حیثیت سے انہیں عوامی سوالات اور جانچ پڑتال کا سامنا کبھی کبھار کر لینا چاہیے خاص طور پر ایسے موقع پر جب انہوں نے اپنی نئی کتاب کی پروموشن پر کام کرنا ہو۔ لیکن وہ ایسا کرنے پر راضی نہیں ہیں۔

ان کے ایجنٹ ویلری ہوسکنز نے مجھے جیمز سے میٹنگ سے ایک ہفتہ قبل ہی فون پر دھمکی آمیز انداز میں بتا دیا تھا کہ انہیں ایسا کرنا بلکل پسند نہیں ہے۔ عام طور پر اس طرح کا رویہ کسی بھی انٹرویو کو بے سکون بنا سکتا ہے۔ لیکن جب جیمز نے ویسٹ لندن  کے علاقے ایلنگ میں موجود اپنے گھر کے کھلے اور روشنی سے بھرے کمرے میں اپنے خاوند اور مصنف نیال لیونرڈ اور دو ویسٹی دوستوں کے ہمراہ مجھے خوش آمدید کہا تو وہ بلکل بھی پریشان یا بے سکونی محسوس نہیں کر رہی تھیں۔

انہوں نے رائے دی کہ ہم پھیلے ہوئے وسیع کچن میں بیٹھیں جہاں سے گھر کے سامنے باغ کا نظارہ ممکن ہو اور آفس جانے سے قبل کافی اور کروسینٹ سے لطف اندوز ہوں۔ آفس میں ہم ان کے رومانس ناول 'دی مسٹر' کے بارے میں گفتگو کرنےوالے تھے۔ انہوں نے خوبانی کے جیم کے ساتھ پیسٹری بھی پیش کی۔  انہوں نے اپنے 22 اور 24 سالہ بیٹوں کے بارے میں اور اپنے فیورٹ ٹی وی پروگرام 'گیم آف تھرونز' اور 'سٹرینجر تھنگز'  کے بارے میں باتیں کیں۔ جب میں نے پوچھا کہ فارغ وقت میں کیا کرتی ہیں تو انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کوئی خاص مشغلہ نہیں رکھتیں ۔ ان کے ذہن میں ایسی کوئی بات نہیں آئی جسے وہ تفریح کے مقصد کے ساتھ کرنے کی عادی ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ میرا مشغلہ ہمیشہ لکھنا ہی رہا ہے لیکن اب مجھے کچھ اور مشغلہ ڈھونڈنا پڑے گا۔ پچھلے 8 سال میں لکھنے کا یہ مشغلہ ایک بلین ڈالر انٹرٹینمنٹ فرنچائز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور جیمز جو پہلے عام سی کہانیاں ایک گمنام رائٹر کی حیثیت سے لکھ کر آن لائن شیئر کرتی تھیں اب وہ ایک ایسی صنعت کی شکل اختیار کر چکا ہے جس نے جیمز کو ان کا اپنا ہی ایمپائر کا مالک بنا دیا  ہے۔

جب جیمز نے پہلی بار ففٹی شیڈز آف گرے  2011 میں ایک چھوٹی آسٹریلین پریس سے ریلیز کی  تو انہیں امید تھی کہ اس کتاب کی کچھ ہزار کاپیاں فروخت ہو جائیں گی اور آن لائن کاپی کیٹس ان کا کام چرا نہیں پائیں گے۔ لیکن ان کی حیرانگی کی بات یہ تھی کہ اس کتاب کی دنیا بھر میں 150 ملین سے زیادہ کاپیاں فروخت ہوئیں۔ عربی اور منگولین زبانوں سمیت اس کتاب کی 50 سے زیادہ زبانوں میں ترجمے کیے گئے۔ اس سیریز کو پھر ایک فیچر فلم سیریز میں ڈھال لیا گیا جس نے دنیا بھر میں 1 ارب ڈالر سے زیادہ کا بزنس کیا ۔ جیمز نے اس سیریز میں معاون پروڈیوسر کا کردار ادا کیا۔ اس سیریز کےذریعے جنسی پیچیدگیوں اور غیر فطری طریقے سے دلچسپی رکھنے والے افراد  اور ان کے مسائل وغیرہ کے بارے میں ناظرین کو آگاہی ملی۔

جیمز جو کہ ایک مزاحیہ مزاج اور غیر محتاط گفتگو کیوجہ سے جانی جاتی ہیں نے کہا: "یہ اب بھی میرے لیے حیران کن ہے۔ میں اسے ایک عرصے سے دیکھ رہی تھی۔  اب پتا نہیں کیا ہو گیا ہے۔"

ایک کامیاب ملٹی میڈیا فرنچائز کی نگرانی کرتے ہوئے جیمز کے پاس ان کے لکھنے کا  مشغلہ پورا کرنے کے لیے وقت نہیں بچتا۔ اس سے اوپر یہ کہ جیمز جو 56 سال کی ہیں، نے اپنے بلاک بسٹر آغاز کی وجہ سے ناممکن توقعات کا سامنا کیا، کیوں کہ شائقین نے مزید سیکوئلز کے لیے  دباو بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ ناگزیر طور پر ان کے بہت سے قارئین کسی ایسی کہانی سے مایوس ہوں گے جس میں سوڈومیسوچسٹک ارب پتی کرسچین گرے اور ان کے  ساتھی اناسٹیزیا سٹیلی جو اپنی مرضی سے ان کے جنسی ملازم بنی کے درمیان تعلقات کو شامل نہ کیا گیا ہو۔

لہٰذا انہیں کچھ نیا لکھنے میں تھوڑی دیر لگی۔

"میں اس کے بارے میں ناقابل یقین حد تک پریشان ہوں،" وہ کہتی ہیں۔ "اب میں دوسری کہانیاں  لکھنا چاہتی ہوں ۔ میں ایک عرصے سے ان دونوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہوں۔"

ففٹی شیدز سے آگے کا سفر

"دی مسٹر" کے ساتھ جو ان کا فکشن مین پہلا کارنامہ تھا اور جس نے انہیں دنیا بھر میں توجہ دلائی، اب  جیمز اپنے کیرئیر کا ایک نیا فیز شروع کرنے کی امید رکھتی ہیں۔ ان کی  تازہ ترین  کہانی ایک معمولی محبت کی داستان ہے جس کی لندن اور کارن وال  میں سیٹنگ کی گئی ہے ۔ اس کہانی میں  انہوں نے ایک دولت مند برطانوی ارسٹوکریٹ کا ذکر کیا ہے جو اپنے گھر میں صفائی کرنے والی ایک خوبصورت نوجوان عورت کی محبت  میں گرفتار ہو جاتا ہے، جو البانیا سے آئی ہے۔ ہالی ووڈ کی نظر سے دیکھیں  تو یہ سنڈریلا اور ڈاؤنٹن ایبے کے ملاپ جیسا ہے۔

جیمز نے ناول کی تحقیق کے لیے 2 مرتبہ البانیا کا دور کیا، اور اس ملک کے بارے میں کتابوں کی ایک چھوٹی سی لائبریری کو جمع کیا، جس میں البانیا کی ڈکشنری، البانیا کے سوشل کوڈز اور قوانین اور البانیا میں ہونے والے جرائم کے بارے میں ایک کتاب شامل تھی۔ ان کے شوہر جو ایک گھریلو خانساماں ہیں، نے البانیا کے روائتی کھانے بنانا سیکھا۔

یہ ایک تبدیلی تھی جو ان کے "ففٹی شیڈز" کی ریسرچ کی وجہ سے آئی تھی، جس میں کسی اندھیرے والے کونے پر بیٹھ کر انٹرنیٹ پر  مصروف رہنا، اور جنسی تعلقات کے مناظر دکھانے والی ویب سائٹس کا مطالعہ شامل ہے۔

ان شائقین کے لیے جو خوبصورت الفاظ میں لکھی ہوئی ایک اور مزاحیہ کہانی کی توقع رکھتے ہیں، "دی مسٹر" اس پر پوری اتر سکتی ہے۔ جنسی مناظر واضح اور وسیع ہیں، لیکن اتنے حدود سے باہر نہیں ہیں جتنے کے ففٹی شیڈز میں ہیں۔

لیکن جیمز کا  گدگدی سے ہٹ کر کوئی اور بھی ارادہ تھا۔ افسانے کے علاوہ "دی مسٹر" غیر متوقع طور پردوسرے اہم عنوانات جیسے معاشی عدم مساوات، غیررجسٹر شدہ ملازمین  کی کہانی، قدامت پسند معاشروں میں عورتوں پر جبر اور جس طرح سے ادارے اور حکومتیں امیروں اور طاقت ور لوگوں کو اوپر لے جاتے ہیں اور کمزور کو مزید کمزور کرتے ہیں جیسے اہم موضوعات کو بھی زیر بحث لاتی ہے۔

یہ موضوعات ان دنوں برطانیہ سے متعلق معلوم ہوتے ہیں  کیونکہ ملک  کے بریکسٹ  معاملے نے نسلی بنیادوں، کلاس، اور شناخت کے معاملات  پر عوام کو تقسیم کر دیا ہے۔ پچھلے کچھ عرصہ سے جیمز  ان معاملات پر گہرائی سے نظر رکھتی ہیں اور خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ امیر اور دولت مند بننے کے بعد یہ دیکھنے کے قابل ہوئی  ہیں کہ کیسے امیر لوگوں کو ہر قسم کا  سماجی تعاون حاصل ہو جاتا ہے۔

"میرے لیے یہ اہم ہے کہ میں ان معاملات کو کہانی میں شامل کروں،" انہوں نے کہا۔ "ایک ناقابل یقین حد تک دولت مند شخص کے طور پر آپ پیسے کے مالک ہوتے ہیں۔"

جیمز  چاہتی ہیں کہ برطانیہ یورپین یونین میں رہے، وہ اپنے اس موقف کا سوشل میڈیا پر کھل کر پرچار کرتی ہیں یہ جانتے ہوئے کہ  یہ کام انتہائی پر خطر ہے کہ اس کی وجہ سے ان کے کچھ شائقین ان سے دور ہو جائیں گے۔ یہ معاملہ  'دی مسٹر' کے بارے میں دئیے گئے انٹرویوز میں  کئی بار سامنے لایا گیا ہے۔اس کے علاوہ انہوں نے فرانسیسی اور نارویجین میڈیا اخباروں کو بھی انٹرویوز دیتے ہوئے اس مسئلہ پر گفتگو کی ہے۔

انہیں ڈر ہے کہ اس پر انہیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ آج کل دور ہی ایسا ہے  اور اس لیے بھی کہ وہ اپنے ہر عمل اور نظریہ پر خود کو جواب دہ سمجھتی ہیں۔

"ایک کامیاب ادھیڑ عمر بھاری جسم کی مالک خاتون کے ہوتے ہوئے ایک خاتون کو یہ محسوس کرنا چاہییے کہ  لوگ بہت ناراض ہوتے ہیں کہ آپ حد سے باہر جا رہے ہیں،" انہوں نے کہا۔ "یہ چیز مجھے  بہت پریشان کرتی ہے ۔"

"ہم زیادہ پیپر حاصل نہ کر پائے"

جنسی تعلقات کے بارے میں شاندار کتاب لکھ کر شہرت حاصل کرنے والی جیمز کا اصل نام ایریکا مچل ہے انہوں نے کئی دہائیوں تک ٹیلیویژن میں کام کیا، بی بی سی میں بطور پراڈکشن ایگزیکٹو اور دوسری کمپنیوں کے ساتھ بھی وابستہ رہیں۔ وہ برکنگھم شائر میں پلی بڑھی، جہاں ان کے والد بی بی سی کے ساتھ کیمرہ مین کے طور پر کام کرتے تھے اور ان کی والدہ جو چلی سے ہجرت کر کے آئی تھیں ایک سیلز  ریپریزنٹیٹو کے طور پر کام کرتی تھیں۔ انہوں نے یونیورسٹی آف کینٹ سے ہسٹری کی تعلیم حاصل کی، پھر نیشنل فلم اور ٹیلیویژن سکول میں ملازمت حاصل کی۔ وہ اور ایک سکرین رائٹر اور ناولسٹ لیونارڈ وہاں ملے اور 1987 میں شادی کر لی۔

رومانس ہمیشہ ان کی  پسند تھی ۔ کام پر روزانہ خود کو محظوظ کرنے کے لیے وہ تاریخی رومانس اور جنسی تعلقات کے بارے میں جو بھی مواد ملتا پڑھ گزرتی تھیں۔

پھر انہیں سٹفنی میئر کی کتاب "ٹوائلائٹ" ملی جو ایک نوجوان بد روح کے معاشقے کی کہانی پر مشتمل تھی۔ دوسرے بہت سےبہادر مصنفین کی طرح  جیمز نے  اس پر اپنے خیالات کو قرطاس پر منتقل کر کے سنوکوین آئس ڈریگن کے نام کے ساتھ آن لائن پبلش کیا۔ بعض  عجیب و غریب وجوہات کی بنا پران کی یہ تحریر وائرل ہو گئی۔

انہوں نے کاپی رائٹ کی خلاف ورزی سے بچنے کے لیے اپنے کرداروں کا نام تبدیل کیا اور 2011 میں ایک چھوٹا سا آسٹریلوی اشاعتی ادارہ اسے شائع کرنے پر راضی ہو گیا۔

ایک سال کے اندر جیمز کے شائقین کی تعداد اس قدر بڑھ گئی جسے انہوں  نے "دی گریٹ میڈنس" کا نام دیا۔

بڑے اشاعتی ادارے اور فلم سٹوڈیوز نے ان کے ساتھ رابطے شروع کر دیے۔ ایک اشاعتی ادارہ ناول کی جلد کو تبدیل کرنا چاہتا تھا تا کہ مشہوری کے لیے ایک ننگے سینے والے مرد کی تصویر لگائی جائے۔ دوسرے نے کہا کہ سیکس کی طرف جانے میں بہت وقت لگ گیا۔

ونٹیج اور اینکر کتابوں کی پبلشر اینی میسیٹ نے جیمز کا دل جیت لیا جب انہوں نے کہا کہ ان ناولوں کو کتاب خانے کی سامنے والی لائن میں رکھنا چاہیے، نہ کہ پیچھے کہیں دفن کر دیا جائے۔ ونٹیج نے ایک  مشکل ڈیل  کے ذریعے آسٹریلین پبلشر سے پبلشنگ رائٹس حاصل کر لیے اور جیمز سے بھی کتاب کی اشاعت کے حقوق حاصل کر لیے۔ کمپنی نے تدوین کے لیے 7 ہندسوں پر مشتمل رقم ادا کی اور پہلی اشاعت میں 750000 کاپیوں کا آرڈر دیا۔ یونیورسل پکچرز نے 5 ملین ڈالر کے عوض فلم کے حقوق خریدے، کئی دوسرے سٹوڈیوز نے اس سے بھی زیادہ کی پیشکش کی، جو ملٹی ملین ڈالرز ڈیل کرنے کے خواہشمند تھے۔

یہ کتاب برطانیہ میں اس تیزی سے فروخت ہوئی کہ پرنٹرز کی سلور سیاہی ختم ہو گئی جس کی وجہ سے آئکنک بلیک اور میٹالک گرے کور کو استعمال کرنا پڑا، جسے جیمز نے خود ڈیزائن کیا تھا۔ یونائیٹڈ سٹیٹس میں، ونٹیج ہفتہ وار ایک ملین سے زیادہ کاپیاں فروخت ہوئیں، اور پیپر سپلائرز کی ڈیمانڈ پر پورا اترنا مشکل ہو گیا۔میسیٹی کا کہنا ہے کہ  "ہمارے پاس کاغذ کم ہو گئے تھے اور غیر یقینی کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔"

کتاب کو سائن کرتے ہوئے شائقین روئے، جس کی وجہ سے جیمز بھی روئیں (ان کے مشتہر ہمیشہ ٹشو باکس اپنے ساتھ رکھتی تھیں)۔ پورٹ لینڈ میں، ایک مقامی ٹی وی نیوز چینل ''اور'' نے ان کی کار کا پیچھا کیا۔

View this post on Instagram

First panel #BookBonanza18

A post shared by E L James (@erikaljames) on

جیمز اپنی اس اچانک کامیابی پر حیران تھیں۔ شروع سے ہی انہوں نے اپنے ایجنٹوں کو بتا دیا تھا کہ وہ مشہور نہیں ہونا چاہتیں۔

"میں نے کہا، یہ میری غلطی نہیں ہے، آپ نے غضب کی کتابیں لکھی ہیں نہ کہ میں نے،" ان کی ایجنٹ ہوسکن نے اپنی یاددہانی بتائی۔

جیمز بعض اقسام کی جنسی فطرتوں کے الیے ایک مبلغ بن گئیں جس کے بارے میں عورتیں اکثر خاموش رہتی ہیں یا شرم محسوس کرتی ہیں۔

"یہ صرف ان کا کسی چیز کو چھیڑنا ہی نہیں تھا بلکہ انہوں نے اسے کمرشلائز کیا،" یونیورسٹی آف اوتاہ کی انگلش کی ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر اینی جیمیسن نے کہا جنہوں نے فین فکشن کی تعلیم حاصل کی ہے۔

جیمز نے "ففٹی شیڈز" سے ہر چیز کے اجازتی معائدے شروع کیے۔ جن میں برانڈڈ شراب، لنگری وغیرہ شامل ہیں اور خود ہی ایسی بہت سی چیزوں کی ڈویلپمنٹ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ انہوں نے "ففٹی شیڈز" ٹیڈی بیئر کا بھی اجازت نامہ جاری کیا۔

"ہم نے چیزوں کی ٹریڈ مارکنگ اس لیے شروع کی کہ لوگ ان اشیا پر قابض نہ ہو جائیں  اور خودد سے ہی ان کی اشاعت اور برانڈنگ نہ کرنے لگیں۔

جیمز میں کچھ نپل کلیمپ دکھانا چاہتی ہیں جنہیں بنانے میں انہوں نے سیکس ٹوائے میکر لووہونی کی مدد کی جو ایک برٹش کمپنی ہے جس نے ففٹی شیڈز کے تھیم کے ساتھ کئی مصنوعات تیار کی ہیں۔ لوو ہونی نے پہلے کچھ بھاری صنعتی کلیمپس کی پیشکش کی جو جیمز نے مسترد کر دیے ۔

"وہ ایسے دکھائی دے رہے تھے جیسے وہ فریکنسٹین سے چھلانگ لگا سکتے ہوں،" جیمز کہتی ہیں۔ انہوں نے کمپنی سے درخواست کی کہ وہ انہیں خوبصورت انداز میں اور ایسا بنائیں کہ انہیں تسلی ہو۔

جیمز نے ساتھ والے کمرے میں موجود اپنے اسسٹنٹ کو بلایا  جس نے شاندار گلابی رند کے کلیمپس پیش کیے۔ جیمز کو اشیا ء پکڑاتے ہوئے انہوں نے روکھے لہجے میں کہا: اب مجھے نہ کہیے گا کہ میں اس کا عملی مظاہرہ کر کے دکھاوں۔

ٹیلنٹ یہاں ہے۔

دوپہر کے بعد ایک کار آئی اور جیمز کو ایک فوٹو شوٹ کےلیے کینسنگٹن ہوٹل لے گئی ۔ یہ فوٹو شوٹ 'یو' میں ایک نئے فیچر کے لیے لیا جانا تھا۔ 'یو' ا یک میگزین ہے جو ہر اتوار کو 'دی میل' کی طرف سے شائع کیا جاتا ہے۔ کار میں جیمز نے پہلی 'ففٹی شیڈز ' فلم پر تنقیدی  نظر ڈالی ۔ ان کا خیال تھا کہ یہ فلم عوام کی توجہ ناول کی طرف کھینچنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ ان کے ایجنٹ  نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ کسی دوسرے موضوع پر گفتگو کریں۔

ہوٹل کے سامنے چالٹ بش موجود تھے جو Arrow کی پبلسٹی پر کام کرنے پر معمورہیں جو کہ جیمز کا برطانوی پبلشنگ ہاوس ہے۔ جیمز نے بش سے آداب کا تبادلہ کیا ، اپنے مینی کئیور کیے ہوئے ناخن دکھائے  جن پر گرم پنک کلر کی پالش انہوں نے لگا رکھی تھی جو 'دی مسٹر' کے کور کے رنگ سے میچ کرتی تھی۔

یہاں ٹیلنٹ موجود ہے۔ بش نے جیمز کو اپنے ساتھ لیا اور میک شفٹ ڈریسنگ روم میں لے گئے جہاں ہیئر سٹائل لسٹ اور میک اپ آرٹسٹس موجود تھے۔ جیمز نے کہا: کیا خوبصورت سماں ہے۔ میک آرٹسٹ نے جواب دیا: چونکہ آپ مصنفہ ہیں اس لیے آپ کو یہ اچھا لگتا ہے۔

جیمز نے گاون کی ایک بڑی فہرست میں سے ایک بہترین گاون نکالا ۔ یہ سارے گاون ایک ٹیم نے جیمز کو فراہم کی تھی تا کہ وہ اس میں سے اپنی پسند کاگاون لے سکیں۔ ایک گاون انہوں نے 'میٹرونی' قرار دے کر ریجیکٹ کر دیا۔ دوسرے کو کافتانی اور تیسرے کو پرنٹی قرار دےکر پرے کر دیا۔ ایک اور چمکدار چغہ دیکھ کر انہون نے کہا : یہ بہت۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کے ساتھی سٹائلسٹ نے بات ختم کرتے ہوئے کہا: یہ بہت سکوئینی ہے۔اس کے بعد جیمز نے اپنا ذاتی ملکیت میں سے ایک لباس نکالا۔ یہ ایک لمبا نیلے رنگ کا چغہ تھا جس کا گلا 'وی' سٹائل کا تھا۔ یہ لباس انہوں نے ففٹی شیڈز  کے فلم پریمئیر کے لیے  منتخب کیا تھا۔

میک اوور جاری رہا  اور جیمز کی پبلسسٹ بش  نے 'دی مسٹر' کے لیے کچھ مارکیٹنگ سٹنٹس پر بات کرنے کی تجویز دی۔ پہلی تجویز جو مسترد ہو گئی یہ تھی کہ کورن وال سے ایک لائٹ ہواس سے ہلکی سی پنک لائٹ خارج کی جائے  ۔ لائٹ ہاوس سے تعلق رکھنے والون نے یہ تجویز اس لیے مسترد کر دی کہ گرم اور پنک لائٹ ہاوس سمندری جہازوں کےلیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا تھا۔

جیمز اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ یہ چیزسمندری طوفان کا باعث نہیں بن سکتی۔ ان کا کہنا تھا: لائٹ ہاوس کا آئیڈیا تو بہت اچھا ہے لیکن اس کی وجہ سے زندگی خطرے میں نہیں پڑنی چاہیے۔ مشہور مصنفہ کی اگلی تجویز اتنی خطرناک نہیں ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ایک خاتون ہو جو پیانو بجانا جانتی ہو اور سلون سکوائر میں پیانو بجا سکے کیونکہ ناول کی ہیروئن پیانو بجانے کی شوقین ہے۔ جیمز کو یہ آئیڈیا بہت پسند ہے۔

بش نے پوچھا: تو پھر کوئی خاتون پیانسٹ؟ جیمز نے کہا: جی ہاں۔ بش نے کہا: ٹھیک ہے میں اس پر کام کروں گا اور پھر فون پر نمبر ملانے لگے۔ جیمز نے آہستہ سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ پیانوآن  ہونا چاہیے۔ فوٹو شوٹ کے بعد جیمز نے ایک ہوٹل بار میں نیگرونی کی چسکیاں لیں۔ یہ ہوٹل بلکل بھی شہرت نہیں رکھتا اس وجہ سے جیمز کو یہ پسند ہے۔ اجنبی لوگ جیمز کو آسانی سے پہنچان نہیں سکتے ۔ مزاحیہ انداز اپناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ایک سپائی ایجنسی کھولنا چاہتی ہیں جس میں اوسط عمر کی خواتین شامل ہوں۔

وہ کہتی ہیں: آپ ہر جگہ اور جہاں چاہیں جا سکتے ہیں۔ آپ نظروں سے بلکل اوجھل رہیں گے۔

انہیں بے چینی اس بات کی ہے کہ دی مسٹر کی پبلسٹی کے سلسلہ میں انہیں حد سے زیادہ ایکسپوز ہونا پڑے گا۔ اس سے قبل بھی ایک بار ان کا ایک فین عوامی جگہ پر ان کے پاس پہنچ گیا جو انہیں بلکل اچھا نہیں لگا۔  انہوں نے مزید کہا:ایک دن ایسا واقعہ پیش آیا تو مجھے اندازہ ہوا کہ میں بہت زیادہ مصروف ہو گئی ہوں۔

شہرت کے لیے تخلیق شدہ شاہکار

ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ قارئین جیمز کی کتاب 'دی مسٹر' کا رد عمل کیسا دیں گے اور کیا ان کا جیمز کے لیے پیارکرسچئن گرے سے ان کے تعلق کو کمزور کر دے گا اور اسی طرح کی مزید کہانیوں کی توقعات بڑھیں گی یا نہیں۔

دوسرے بڑے بیسٹ سیلر لکھنے والے مصنفین جن میں سٹیفنی مئیر اور جے کے رولنگ شامل ہیں نے اپنی تحاریر کا زاویہ بدل دیا ہے اور فینٹسی رائٹر سے اپنی نوعیت تبدیل کر دی ہے تا کہ ان کے قارئین کی دلچسپی برقرار رہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیمز کی اپنی 'ففٹی شیڈز' کی سیریز میں دلچسپی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اب وہ رومانس پر لکھنا پسند کرتی ہیں اور اس سلسلے میں ایک گوسٹ سٹوری لکھ چکی ہیں جس کی سیٹنگ جدید لندن میں ہے اور یہ کہانی بہت جلد شائع ہونے والی ہے۔ اس کے علاوہ وہ 'دی مسٹر' کی دوسری قسط بھی لکھنے کا سوچ رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں: ہمارے پاس اتنے زیادہ آئیڈیاز اور عوامی توقعات ہوتی ہیں اس لیے ہم واپس اسی سفر کا آغاز کر سکتے ہیں جو ہم نے دس سال قبل کیا تھا۔

اب قارئین نے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں۔ اب وہ یقینی بناتے ہیں کہ جیمز لکھیں یا کوئی اور لیکن کہانی ضرور جاری رہنی چاہیے۔ فین فکشن ڈاٹ نیٹ اور واٹ پیڈ جیسے ویب سائٹس پر نووارد مصنفین  'ففٹی شیڈز' پر ہزاروں کہانیاں لکھ کر شئیر کر دیتے ہیں۔ جیمز کہتی ہیں کہ وہ ایسی کہانیاں نہیں پڑھتیں لیکن وہ مانتی ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ رائٹر کی بجائے فینز کی مرضی چلے۔ اب یہ کردار ہر شخص کی ملکیت بن چکے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ قارئین کا غلبہ (فینڈم) ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *