عشق، جب آپ کی ذات یا مذہب الگ ہوں

زیادہ تر انڈین خاندان اپنے مذہب اور ذات کے اندر ہی شادیاں طے کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان سخت دائروں سے باہر کی جانے والی شادیوں کا اکثر پرتشدد انجام ہوتا ہے، جس میں غیرت کے نام پر قتل بھی شامل ہیں۔ لیکن اب کچھ انڈین نوجوان محبت کی خاطر اپنے خاندانوں اور برادریوں سے لڑ جانے کو تیار ہیں۔ بی بی سی کی دویا آریا کی رپورٹ۔۔

روِندر پرمار کو اس بات کا علم تھا کہ ایک اونچی ذات کی عورت کے ساتھ رشتہ بنانا خطرناک ہو سکتا ہے۔

وہ ایک دلِت ہیں (جنہیں پہلے اچھوت کہا جاتا تھا)، ایک ایسی ذات جو انڈیا کی معاشی سیڑھی میں سب سے نیچے تصور کی جاتی ہے۔ انہیں شِلپابا اوپیندرسنہ والہ سے محبت ہوئی جو کہ ایک راجپوت ہیں۔ راجپوت ہندؤؤں کی جنگجو ذات ہے اور ان سے اوپر صرف براہمن ہوا کرتے ہیں۔

ان دونوں ذاتوں کے بیچ ایک ایسی گہری خلیج ہے جسے انڈین معاشرے میں کبھی کبھار ہی پار کیا جاتا ہے۔

روِندر کہتے ہیں، ’ہمیں تو ان کے علاقے سے گزرنے کی اجازت نہیں اور میں نے ان کے خاندان میں شادی کرنے کی جرآت کی۔‘

اپنی ذات سے باہر شادی کرنے والوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ انہیں معاشرے کے خلاف بغاوت کرنے والے دہشت گرد تصور کیا جاتا ہے۔‘

روِندر اور شلپابا ایک دوسرے سے 100 کلومیٹر دور گجرات کے دو گاؤں میں پلے بڑھے۔ ان کی ملاقات فیس بک پر ہوئی جہاں دونوں گھنٹوں ایک دوسرے کے ساتھ مذاق کرتے اور ایک دوسرے کا مذاق اڑاتے۔

لیکن اس ہنسی مذاق نے شلپابا پر گہرا اثر چھوڑا۔

وہ کہتی ہیں، ’میں ایک عام گاؤں کی لڑکی تھی اور میری زندگی گھر اور کالج تک محدود تھی۔ مگر روِندر نے میرا ذہن کھولا اور مجھے اس بات کا احساس دلایا کہ زندگی میں اور بہت کچھ ہے۔‘

سوشل میڈیا کی وجہ سے ایک ایسی جگہ تخلیق ہوئی ہے جو آج سے پہلے کبھی موجود نہیں تھی۔ ذات اور مذہب کی سخت تفریق کا مطلب یہ تھا کہ ایک دوسرے سے ملنا، بات کرنا، دوست بننا ممکن ہی نہیں تھا۔

انڈیا میں ذات کا نظام پیدائشی ہے، اور اپنی ہی ذات میں شادی کرنے کی روایت سے اسے مزید تقویت ملتی ہے۔ ذات کی بنا پر تفریق کی ایک طویل تاریخ ہے اور اکثر اوقات اونچی ذات کی خواتین سے شادی کرنے والے دلِت مردوں کو قتل کر دیا جاتا ہے۔

انڈیا میں ذات یا مذہب کے باہر شادی معمول کے خلاف ہے۔ انڈیا ہیومن ڈویلپمنٹ سروے کے مطابق فقط 5 فیصد شادیاں ذاتوں کے درمیان ہوتی ہیں۔

معاشرے میں روایات، ثقافت اور ’پاکیزگی‘ کو نبھانے کا ذمہ عورت پر عائد ہوتا ہے اور ان کے باہر نکل کر شادی کرنے کو خاندان اور برادری کی بےعزتی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

روِندر اور شلپابا

شلپابا کو روِندر سے شادی کرنے کے لیے اپنے گاؤں سے بھاگنا پڑا۔

شلپابا کو روِندر سے شادی کرنے کے لیے اپبے گاؤں سے بھاگنا پڑا۔ لیکن تشدد کی ڈر اب بھی ختم نہیں ہوا ہے۔ پچھلے تین سال میں وہ کم سے کم 12 بار گھر اور شہر بدل چکے ہیں۔ روِندر پیشے سے انجینئیر ہیں لیکن انہیں نوکری چھوڑ کر دہاڑی پر کام کرنا پڑا ہے۔

شلپابا کہتی ہیں کہ ایک وقت پر پریشانی حد سے زیادہ بڑھ گئی اور دونوں نے صورت حال کے لیے ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہرانا شروع کر دیا۔ بات یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے خودکشی تک کے بارے میں سوچا۔

شلپابا کہتی ہیں، ’روندر نے مجھے سمجھایا کہ خودکشی حل نہیں۔ اب ہم دونوں وکالت پڑھ رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ دونوں وکیل بنیں اور انسانی حقوق کے لیے کام کریں اور ایسا کام کریں کہ ہمارے والدین کو ہم پر فخر ہو۔ شاید تب انہیں احساس ہوگا کہ یہ فیصلہ ہم نے ہنسی مذاق میں نہیں کیا اور شاید پھر وہ ہمیں قبول کر لیں۔‘

نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے مطابق 2016 میں ’غیرت‘ کے نام پر 77 قتل رپورٹ ہوئے۔ اس طرح کے کیس ویسے ہی کم رپورٹ ہوتے ہیں اور ان اعدادوشمار سے قدامت پسندی کی طرف بڑھتے معاشرتی رویوں کی صحیح عکاسی نہیں ہوتی۔

’غیر محفوظ ہونے کا احساس‘

بی بی عائشہ اور ادِتیا ورما دونوں کو 17 سال کی عمر میں عشق ہو گیا۔ ان کی ملاقات بھی فیس بک پر ہوئی۔ انہیں ایک دوسرے کے مذہب سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ لیکن دونوں کے خاندان اس رشتے کے سخت خلاف تھے۔

عائشہ اور ادِتیا

عائشہ اور ادِتیا فیس بک پر ملے

ادِتیا کا تعلق دلی سے ہے مگر سکول ختم کرنے کے بعد انہوں نے بینگلور کے ایک کالج میں اپنا داخلہ صرف اس لیے کروایا کیونکہ عائشہ اس شہر میں رہتی تھیں۔ لیکن پھر بھی عائشہ کے والدین کا دل نہیں جیت پائے۔ ان کے لیے وہ پھر بھی صرف ہندو تھے۔

دو سال تک انتظار کرنے کے بعد عائشہ اور ادتیا وہاں سے بھاگ کر دلی آگئے۔ لیکن روِندر اور شلپابا کی ہی طرح وہ اب بھی خود کو محفوظ تصور نہیں کرتے۔

عائشہ کہتی ہیں، ’ہم دونوں اتنے ڈرے ہوئے تھے کہ 5 ماہ تک ہم صرف ایک کمرے میں رہے۔ ہم کام بھی نہیں کر رہے تھے۔ مجھے لگتا تھا کہ باہر گئے تو ہمیں کوئی مار دے گا کیونکہ میں مسلمان ہوں اور ادِتیا ہندو۔‘

آگاہی پھیلانا

اس ڈر کا پس منظر ایک ایسا انڈیا ہے جہاں مذہب کی بنا پر تفریق بڑھ رہی ہے۔ 2014 میں اقتدار میں آنے والی ہندو قوم پرست حکومت پر مسلمانوں مخالفت کو عام کرنے کا الزام ہے۔

جواہر لعل مہرو یونیورسٹی کے پروفیسر امِت تھورٹ کہتے ہیں کہ ’موجودہ ماحول ایسا ہے کہ اس میں لوگوں کو قریب لانے کی جگہ تفریق کی آگ میں گھی ڈالا جا رہا ہے۔‘

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہندوستان کی تقسیم اس بات کا ثبوت ہے کہ اس طرح کے رویے نئے نہیں، لیکن اس تفریق کو کم کرنے کے لیے وہ سب نہیں کیا جا رہا جو کیا جا سکتا ہے۔

عائشہ کے والدین ادِتیا کو اس صورت قبول کرنے کو تیار ہیں اگر وہ مسلمان بن جائیں۔ ادِتیا کے والدین بھی تب تک عائشہ کو قبول نہیں کریں گے جب تک وہ ہندو نہ بن جائے۔

لیکن عائشہ اور ادِتیا ایک دوسرے کا مذہب اپنا کر اپنا مذہب کھونا نہیں چاہتے۔

انڈیا میں 1872 میں لاگو ہونے والے ایک قانون کے تحت مختلف مذاہب یا ذاتوں سے تعلق رکھنے والے مرد اور خواتین اپنا مذہب تبدیل کیے بغیر اپنی شادی کو قانونی طور پر درج کر سکتے ہیں۔ لیکن ادِتیا کو اس سپیشل میریج ایکٹ کے بارے میں آصف اقبال اور رانو کُلشریشٹھا سے پتہ چلا۔ آصف اور رانو نے سن 2000 میں ایک دوسرے سے شادی کی تھی۔

ان کی شادی کے بعد 2002 میں گجرات فسادات ہوئے جس کے بعد انہیں احساس ہوا کہ ان جیسے جوڑوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

تب انہوں نے ’دھنک‘ نامی ادارہ شروع کیا جو قانونی آگاہی کے ساتھ ساتھ ایسے جوڑوں کی مدد کرتا ہے جو اپنی ذات یا مذہب سے باہر شادی کرنا چاہتے ہیں۔

’اعتماد اور محبت‘

فائل فوٹو

انڈیا میں ذات یا مذہب کے باہر شادی معمول کے خلاف ہے۔

دھنک نے عایشہ کو محفوظ ہونے کا احساس دلایا ہے۔ وہ اب اپنے اور ادِتیا جیسے کئی جوڑوں سے مل چکی ہیں جس کے بعد وہ پرامید ہیں۔

وہ کہتی ہیں، ’اگر آپ کو اپنے ساتھی پر اعتماد ہے اور اگر آپ ان سے بہت محبت کرتے ہیں تو پھر کسی اور چیز کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ اپنے خاندان اور معاشرے کے بارے میں سوچ کر وقت ضائع نہ کریں۔ وہ ایک نہ ایک دن مان جائیں گے۔‘

شادی کے بعد روِندر اور شلپابا دونوں نے نے اپنے خاندانی نام بدلنے کا فیصلہ اس لیے کیا کہ ان سے ان کی ذات پتہ چلتی تھی۔ اب دونوں کا خاندانی نام ’بھارتیہ‘ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *