بھارتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ، 12 ریاستوں کی 95 نشستوں پر پولنگ

بھارت میں لوک سبھا (ایوانِ زیریں) کے 17ویں انتخابات کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوگیا جس میں 12 ریاستوں کی 95 نشستوں پر ووٹنگ جاری ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق جن ریاستوں میں آج ووٹنگ جاری ہے ان میں آسام، بہار، چھتیس گڑھ، مقبوضہ جموں اینڈ کشمیر، کرناٹکہ، مہاراشٹرا، مانی پور، اوڈیشا،اتر پردیش، مغربی بنگال، پودوچھری شامل ہیں۔

بھارت میں دوسرے میں مرحلے میں جاری انتخابات مجموعی طور پر 15 کروڑ 50 لاکھ افراد اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

دوسرے مرحلے میں جاری انتخابات میں آج 97 نشستوں پرووٹنگ ہونی تھی تاہم 2 نشستوں پر انتخابات ملتوی ہونے کے باعث 95 نشستوں پر ووٹنگ جاری ہے۔

گزشتہ روز الیکشن کمیشن نے بھارتی ریاست تامل ناڈو م غیر قانونی رقم کے ذریعے ووٹرز کو لالچ دینے کے الزام پر ویلور کے پارلیمانی حلقے انتخابات ملتوی کردیے تھے۔

الیکشن کمیشن کی نگرانی ٹیم، اور محکمہ انکم ٹیکس کے مشترکہ چھاپے میں ایک دکان سے ووٹرز کی تقسیم کے لیے رکھے گئے ایک کروڑ 48 لاکھ بھارتی روپے برآمد کیے تھے۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست تری پورا کی نشست پر سیکیورٹی خدشات کے باعث انتخابات ملتوی ہوگئے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے کہا کہ امن و امان صورتحال انتخابات کے انعقاد کے لیے ناکافی ہیں، تری پورا کی نشست پر پولنگ اب 23 اپریل کو ہوگی۔

ایک ارب 30 کروڑ آبادی والے ملک میں 7 مراحل میں ہونے والے انتخابات کا آغاز 11 اپریل کو ہوا تھا اور پہلے مرحلے میں 91 نشستوں پر انتخابات ہوئے تھے۔

بھارت میں 7 مراحل میں ہونے والے انتخابات میں پارلیمنٹ کی 543 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی، جن میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کا اعلان 23 مئی کو ہوگا۔

پہلے مرحلے میں 11 اپریل کو اترپردیش، آروناچھل پردیش، آسام، بہار، چھتیس گڑھ، بھارت کے زیر تسلط جموں کشمیر، مہاراشٹرا، مزورام، مانی پور، میگھالیہ، ناگالینڈ، اوڈیشا، سکم، تیلانگانا، تری پورا، اتر پردیش، اتر کھنڈ، مغربی بنگال، اندمن، نکوبر اور لکشادیپ میں انتخابات ہوئے تھے۔

اسی طرح 23 اپریل کو شروع ہونے والے تیسرے مرحلے میں 14 ریاستوں آسام، بہار، چھتیس گڑھ، گجرات، گوا، جموں وکشمیر، کرناٹکہ، کیرالہ، مہاراشٹرا، اوڈیشا، اتر پردیش، مغربی بنگال، دادرا اور نگر حویلی، دامان اور دیو کی 115 نشستوں پر الیکشن منعقد کیے جائیں گے۔

بھارتی انتخابات کا چوتھا مرحلہ 29 اپریل کو ہوگا، جہاں 9 ریاستوں کی کل 71 نشستوں پر امیدواروں کا انتخاب کیا جائے گا، جن ریاستوں میں اس مرحلے میں انتخابات ہوں گے اس میں بہار، مقبوضہ جموں کشمیر، جھاڑ کھنڈ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹرا، اوڈیشا، راجستھان، اتر پردیش اور مغربی بنگال شامل ہیں۔

پانچویں مرحلے میں 6 مئی کو بھارت کی 7 ریاستوں میں 51 نشستوں پر انتخابات ہوں گے، جس میں بہار، بھارت کے زیر تسلط جموں اور کشمیر، جھاڑکھنڈ، مدھیہ پردیش، راجستھان، اترپردیش اور مغربی بنگال کی ریاستیں شامل ہیں۔

لوک سبھا کی نشستوں کے لیے انتخابات کا چھٹا میدان 12 مئی کو سجے گا، جہاں بہار، ہریانہ، جھاڑ کھنڈ، مدھیہ پردیش، اترپردیش، مغربی بنگال، دہلی میں 59 نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔

بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) دوسری مرتبہ اقتدار میں آنے کی خواہش مند ہے جبکہ ان کے مدمقابل کانگریس پھر سے واپسی کی خواہش مند ہے۔

حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور اپوزیشن جماعت کانگریس اور ان کے رہنماؤں کی جانب سے ووٹرز سے مختلف انداز میں اپیلیں کی جارہی ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی جنہوں نے الیکشن کے قریب آتے ہیں اپنا ٹوئٹر کا نام بھی چوکیدار نریندر مودی کردیا تھا۔

انتخابات کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوتے ہی نریندر مودی نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کیا کہ آج لوک سبھا کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہورہا ہے، مجھے امید ہے کہ نوجوان پولنگ بوتھ کا رخ کریں گے اور ووٹ دیں گے۔

دوسری جانب کانگریس جماعت کے سربراہ راہول گاندھی نے ٹوئٹ کیا کہ یاد رکھیں کہ جب ووٹ دیں تو انصاف کے لیے دیں.

انہوں نے مزید کہا کہ بے روزگار نوجوانوں، کسانوں،ان تاجروں کے لیے جن کے کاروبار تباہ ہوئے ان کے لیے انصاف کے ووٹ دیں۔

بھارتی انتخابات پر مقبوضہ کشمیر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال
دوسری جانب بھارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور نام نہاد انتخابات کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق حریت قیادت نے ’نام نہاد‘ بھارتی انتخابات سمیت کشمیر عوام اور قیادت کے خلاف مظالم پر مقبوضہ وادی میں مکمل شٹر ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔

ہڑتال کے موقع پر بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے 3 اضلاع سری نگر، بڈگام اور گاندربل جانے والے راستے بند ہیں جہاں بھارتی لوک سبھا میں انتخابات میں دوسرے مرحلے کے لیے پولنگ کا انعقاد کیا گیا ہے۔

آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے مقبوضہ وادی کے عوام سے نام نہاد الیکشن کے مکمل بائیکاٹ کا مطالبہ کیا تھا۔

اس موقع پر تینوں اضلاع میں بھارتی پولیس اور پیراملٹری اہلکاروں کی نفری میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ گزشتہ رات سے مقبوضہ کشمیر میں موبائل انٹرنیٹ سروس اور ٹرین سروس بھی معطل کی گئی ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *