تنقید کا خوف؟

یہ ان لوگوں کے لیے انتہائی پریشان کن ہفتہ رہا ہو گا جو آزادی اظہار پر یقین رکھتے ہیں۔ بین الاقوامی واقعات سے ہٹ کر  (جیسے کہ وکی لیکس  کی وجہ سے پہچان رکھنے والے جولین اسانج کی گرفتاری)، پاکستان اپنے ہی چیلنجز کا سامنا کرتا دکھائی دیتا ہے۔ صحافی شاہزیب جیلانی کا نام ایف آئی آر میں دیا گیا اس لیے کہ انہوں نے لاپتہ افراد کے بارے میں رپورٹنگ کرتے ہوئے ایسے معاملات کی طرف اشارہ کیا جو درخواست گذار کے مطابق قابل مباحثہ نہیں ہیں۔

دوسری طرف اسحاق ڈار بظاہر ٹی وی پر آنے کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔ ان کا ایک حالیہ انٹرویو شروع ہوتے  ہی آف ائیر کر دیا گیا۔ اس سے قبل ان کے چند انٹرویو شایداچانک آنے کی وجہ سے نشر ہو گئے ۔ جو لوگ ان کے انٹرویو کی ریٹنگ کے ٹرینڈ سے واقفیت حاصل کرنے میں دیر کر گئے انہیں  اپنی سستی کی سزا ملی اور ان کے پروگرام آف ائیر کر دیے گئے۔

ہمارا آزادی اظہار کے راستے میں اب بہت سے ممنوعہ علاقے حائل ہوتے جا رہے ہیں۔ اور  ہر معاملے میں C کا لفظ گھسیڑنے کا رویہ اختیار کیا جا چکا ہے۔ یہ لفظ  اس قدر عام ہو گیا ہے کہ اسے پاکستان میں ایک عالمگیر سچائی کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے اور عالمی سطح پر اس پر بحث کی جاتی ہے۔ ہر سیمینار، ادبی تہوار اور ٹویٹ کے ساتھ ساتھ غیر ملکی پریس میں شائع ہونے والی کہانی اس کا ذکر کرتی ہے۔ اس کامقابلہ اس دعوے سے کیا جاتا ہے کہ سر عام ایسا کہنے کی آزادی  کا مطلب ہی سینسر شپ کا خاتمہ ہے۔  اگر کوئی  کھلے عام  آزادی رائے پر قدغن پر آواز اٹھاتا ہے  تو پھر قدغن ہے کہاں؟ (یہ بیان حال میں اسلام آباد میں ایک فیڈرل منسٹر نے ایک سوال کے جواب میں دیا تھا۔)۔

شاید سچ کہیں درمیان میں پوشیدہ ہے۔

بے شک  پاکستان میں میڈیا کو کافی عرصہ بعد اس طرح کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اورایسی پابندیاں معمول کا حصہ نہیں ہیں۔  لیکن وقت کی تبدیلی اور نئے پلیٹ فارمز کی سہولت کی وجہ سے ان پابندیوں پر پہلے کے مقابلے میں اب  کھلے عام گفتگو کی جا سکتی ہے۔

اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ مزاحمت کی شکلیں تبدیل ہو چکی ہیں۔ کچھ خاص وجوہات کی بنیاد پر  اب ٹریڈ یونینز کی طرف سے گلیوں میں نکلنے اور پابندیوں کے خلاف احتجاج منعقد کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی جا رہی۔ شاید پرانے وقتوں میں یہ معاملے کو سامنے لانے کا واحد راستہ تھا۔ ان دنوں سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر انفرادی آوازیں شعور اجاگر کرنے میں لگی ہیں۔اب ٹویٹ کے ذریعے ایسی پابندیوں  کے خلاف آواز بلند کی جا سکتی ہے اور نتیجتا یہ شکنجہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہوتا۔

صرف منظم احتجاج نہ ہونے کی وجہ سے کوئی یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ آزادی اظہار پر لگائی گئی پابندیاں منظر پر نہیں لائی جاتیں۔

یونین کی عدم موجودگی شاید ایک اور وجہ سے پریشان کن ہے۔ یہ صحافیوں کے درمیان اتحاد کی عدم موجودگی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم صحافت کو کریمینلائز کرنے کے رحجان کے خلاف مزاحمت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔  چاہے صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہو یا ان کی کہانیوں کی جانچ پڑتال کے لیے جے آئی ٹی بنائی جائے، ایک گروپ ایسا ضرور ہوتا ہے  جو اس طرح کے اقدامات کی حمایت میں کھڑا نظر آتا ہے۔  اور اس کا مطلب تھا کہ یہ چیز معمول سے ہٹ کر نہیں ہے کہ غلط یا غیر منصفانہ بات سنی جائے یا دیکھی گئی چیز پر تبصرے کو جرم کے طور پر دیکھا جائے۔

شاید یہ اتحاد کی عدم موجودگی کی سب سےبڑی   وجہ ہے۔

جہاں تک عوام کا تعلق ہے، اس سے جڑا ایک اور مسئلہ صحافیوں کے قابل اعتماد ہونے کے بحران بھی ہے  (صحافت پر جتنا بھی دباو ہو، صحافیوں کو ایک کمیونٹی کے طور پر  اپنے طبقہ کی اصلاحات سے توجہ نہیں ہٹانی چاہیے۔ ) بہت سے قارئین اور سامعین اب  کچھ صحافیوں کو غیر جانبدار نہیں سمجھتے ۔

ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ 2018 کے الیکشن سے قبل اسلام آباد میں ووٹ کے لیے آنے والی عوام کا موڈ جانچنے کی کوشش میں میں ایک ساتھی صحافی کے ساتھ ایک دکان میں داخل ہوئی۔ دوکان مالک ن لیگ کا حمایتی ہونے کی وجہ سے مارکیٹ میں مشہور تھا۔ جب ہمارے مقاصد واضح ہو گئے اس نے کہا کہ اے آر واائی یا 92 نیوز کے علاوہ وہ کسی کو بھی انٹرویو دینے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ اس کا ایک دوست جو دوکان پر بیٹھا تھا مسکرایا اور پوچھنے لگا: "لیکن جیو کے بارے میں کیا خیال ہے؟" (وہ دوست پی ٹی آئی کا حمایتی تھا)۔

یہ بات قابل تشویش ہے کہ صحافی یا وہ ادارہ جس کے لیے وہ کام کرتے ہیں سیاسی جماعتوں  کے حمایتی سمجھے جاتے ہیں۔ یہ چیز دباؤ کو نہ تو جسٹیفائی کرتی ہے اور نہ کبھی کرے گی، لیکن اس چیز سے باخبر ہونا ضروری ہے کہ ایسے نظریات صحافیوں کو عوام کی خاطر کام کرنے سے روکتے ہیں۔ اور بطور نتیجہ عوام سنسر شپ اور پابندیوں کے خلاف آوازوں کو نظر انداز کر دے گی۔

لیکن اب ریاست کے لیے، جو کہ ایک حد تک اس دباؤ کی ذمہ دار ہے (شاید اس لیے کہ کمرشل مفاد ہمیشہ آزادی اظہار پر بھاری رہا ہے لیکن پاکستان میں اس پر کم ہی بحث کی جاتی ہے۔)

یہ بدقسمتی ہے کہ پی ٹی آئی جو اپنی کامیابی کے لیے میڈیا کی احسان مند ہے، اب حزب اختلاف  اور مخالف آوازوں کو دبائے جانے پر خاموش ہے۔ ورنہ اسحاق ڈار کے انٹرویو پر پابندی کی اور کیا وجہ ہو سکتی ہے؟  یقینا جو لوگ پی ٹی آئی کو ووٹ دینے زیادہ پر جوش تھے اتنی سمجھ رکھتے ہوں گے کہ ڈار نے ہماری معیشت کے ساتھ کیا کیا ہے اور اس موقع پر ان کا تبصرہ کیسے غیر متعلق ہو سکتا ہے۔ ان کی آواز کو خاموش کرنے والوں کو کچھ حاصل نہیں ہو گا  صرف حکومت کو اس کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔  اس اقدام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت تنقید سے خوفزدہ ہے،  چاہے حکومت اپنے آپ کو اس انٹرویو کی بندش کا ذمہ دار نہ بھی کہے۔

لیکن زیادہ اہم  بات یہ ہے کہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو آزاد پریس کی اہمیت کو نہیں بھولنا چاہیے۔

حالیہ پاک بھارت بحران اسی طرح کا ایک کیس ہے۔ اگر پاکستان کے پاس کوئی پیغام تھا، تو یہ اسے ملک میں موجود میڈیا کے ذریعے بھیج سکتا تھا۔ انڈیا کی طرف سے کیے جانے والے حملے کے دنوں میں ملک میں موجود صحافی بالا کوٹ سٹرائیک کی رپورٹ کرنے میں سب سے آگے تھے جو ہوئی ہی نہیں۔ یاد کیجیے ایک اینکر جو رپورٹ کر رہا تھا کہ انڈین سٹرائیک کا نشانہ بننے والا صرف ایک کوا تھا؟

لیکن اگر اس میسج کو معتبر رکھنا ہے، تو یہ ریاست پر ہے کہ وہ یقین دہانی کرے کہ جب وہ اینکر یا کوئی بھی بول رہا تھا، تو کیا اس کی آواز آزاد لگ رہی تھی۔ صرف  اس صورت میں ہی  اس کی کہانی قابل یقین مانی جائے گی جب اس کی رائے آزادانہ ہو گی۔

یہ آوازیں صرف حکومتوں پر تنقید ہی نہیں کرتیں۔ بعض اوقات یہ آوازیں دوسری حقیقتیں سامنے لانے کے لیے ضروری ہوتی ہیں، لیکن اس کے لیے ماحول جس میں وہ بولتے ہیں کو بھی معتبر بنانا ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *