حیرت ہے، فارن آفس میں ایسے ایسے لوگ بھی رہے ہیں!!

نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )

 

’’احوالِ عالم‘‘ روزنامہ دنیا میں جاوید حفیظ کے کالم کا ’’عنوان ‘‘ہے۔ موصوف پاکستان کے فارن آفس سے ریٹائرڈ ہیں۔بعض غیر اہم ملکوں میں سفیرِ پاکستان کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔سفارتی اور خارجی امور ان کا موضوع ہوتے ہیں لیکن پاکستان کی داخلی سیاست کے حوالے سے بھی منہ مارتے رہتے ہیں ۔ اور ہم حیران ہوتے ہیں کہ فارن سروس میں کیسے کیسے اور ایسے ایسے لوگ بھی رہے ہیں۔ اس وقت موصوف کا تازہ کالم ’’مکافاتِ عمل‘‘زیر نظر ہے۔ فرماتے ہیں: ’’میاں نواز شریف، آصف علی زرداری اور جنرل پرویز مشرف ، تینوں متنازع شخصیت ہیں۔ تینوں کو اقتدار سے بے حد محبت تھی۔ ان کی شخصیات میں خود غرضی کی ایک مشترک صفت بھی پائی جاتی تھی۔‘‘ لیکن دنیا کا کونسا سیاستدان ہے، جو غیر متنازعہ ہو؟ سیاستدان تو رہے ایک طرف، بڑے بڑے دانشوروں ، فلسفیوں اور مفکروں کے فکر و نظر سے بھی اختلاف کیا جاتا رہا ہے۔ باقی رہی، خود غرضی کی مشترک صفت تو کون سا انسان ہے ، جو سو فیصد بے غرض ہو۔ کیا خود فاضل کالم نگار یہ دعوی کر سکتے ہیں کہ ان کی سروس بے غرضانہ اور صرف فی سبیل اللہ تھی؟
’’غالب گمان یہ ہے کہ میاں فیملی کی لندن کی پراپرٹی کا ایم ٹویعنی اسلام آباد ، لاہو موٹر وے سے تعلق ہے۔ لندن کے اپارٹمنٹ 1993ء کے آس پاس خریدے گئے اور موٹر وے بھی ان ہی برسوں میں بن رہی تھی‘‘۔ یہ ’’ غالب گمان‘‘ والی بات بھی خوب ہے، گویا خود فاضل کالم نگار کو اس حوالے سے یقین نہیں اور وہ محض ’’گمان ‘‘ سے کام لے رہے ہیں، جس کے ساتھ انہوں نے ’’غالب‘‘ کا سابقہ بھی لگا دیا ہے۔ لیکن کسی ثبوت کے بغیر ، اور محض ’’غالب گمان ‘‘ کے بنیاد پر کسی پر اتنا بڑا الزام لگا دینا۔ کیا کوئی شریفانہ اور دیانتدارانہ حرکت ہے؟
’’غالباََ 1991ء کی بات ہے وزیر اعظم نواز شریف جنوبی کوریا کے سرکاری دورے پر گئے اور وہاں کی اقتصادی ترقی اور شاندار موٹر ویز نے میاں صاحب کو بہت متاثر کیا‘‘۔ یہاں بھی وہی ’’غالباََ‘‘ ۔ حالانکہ موصوف کو خود ان کے اپنے محکمے کے ریکارڈ سے معلوم ہو سکتا تھا کہ میاں صاحب کس سال اور کس مہینے جنوبی کوریا کے دورے پر گئے تھے۔ اور کسی ملک کی اقتصادی ترقی اور شاندار موٹر ویز سے متاثر ہو کر اپنے ملک کے لیے بھی اس طر ح کے خواب دیکھنا اور ان پر عمل کر گزرنا بھی کیا میاں صاحب کا جرم قرار پائے گا؟ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے ریفرنس میں نیب کورٹ کے فیصلے میں فاضل جج نے لکھا کہ استغاثہ، میاں صاحب کے خلاف اقتدار کے دوران کرپشن یا کرپٹ پریکٹیسز ثابت نہیں کر سکا ۔ (لیکن چونکہ سزا دینا تھی اس لیے) آمدن سے زائد اثاثے کے الزام میں سنا دی، اور اسلام آبادہائی کورٹ نے اسی بنا پر ضمانت منظور کر لی کہ خود سزا دینے والا جج یہ کہہ رہا ہے کہ استغاثہ کرپشن یا کرپٹ پریکٹسز کا الزام ثابت نہیں کر سکا۔ باقی رہی آمدن سے زائد اثاثے کی بات تو استغاثہ نے یہ بھی نہیں بتایاکہ آمدن کتنی تھی اور اثاثے کی مالیت کتنی۔۔؟
’’1993ء میں صدر غلام اسحاق خاں نے میاں صاحب کی حکومت کرپشن کا الزام لگا کر برطرف کر دی۔‘‘ لیکن یہا ں کالم نگار یہ بھول گئے کہ سپریم کورٹ نے صدر کے اس اقدام کو بد نیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے حکومت کی بحالی کا حکم جاری کر دیا تھا۔ فاضل کالم نگارکو یہ بھی یاد نہ رہا کہ نواز شریف حکومت کی برطرفی کے بعد اسی صدر غلام اسحاق خاں نے جو عبوری حکومت قائم کی ، اس میں آصف زرداری بھی شامل تھے، جنہیں بے نظیر صاحبہ کے دور میں ایوانِ صدر کے پراپیگنڈہ سیل کے ذریعے ’’مسٹر ٹین پرسینٹ‘‘ بنا دیا گیا۔ ان کے خلاف مقدمات بھی اسی عبوری دور میں ایوانِ صدر کے ایما پر بنائے گئے۔ اسی دور میں وہ حوالہ زنداں ہوئے اور پھر اسی صدر نے زرداری کو لانڈھی جیل سے بلوا کر ، وزرات کا حلف لیا۔
’’1998ء میں وزیر اعظم نے جنرل جہانگیر کرامت جیسے شریف النفس سے استعفےٰ لیاکہ وہ نیشنل سکیورٹی کونسل کی تجویز ایک پبلک پلیٹ فارم پر دے بیٹھے تھے۔‘‘ لیکن خود جنرل جہانگیر کرامت کو ایک سیاسی مسئلے پر پبلک پلیٹ فارم پر اظہار خیال خیال کی غلطی کا احساس تھا جس پر انہوں نے رضاکارانہ استعفے کی پیشکش کر دی۔’’ ان ہی ایام میں امیر المومنین بننے کا شوق بھی چرایا اورچوٹی زیریں جا کر صدر فاروق لغاری سے آئین کے آرٹیکل 58(ٹو) بی بھی ختم کرالیا گیا۔‘‘ گویا چوٹی زیریں جا کرصدر لغاری سے گن پوائنٹ پر 28(ٹو) بی ختم کرائی گئی تھی۔ حالانکہ آئین میں یہ (13ویں)ترمیم پارلیمنٹ نے اتفاق رائے سے دن دہاڑے منظور کی تھی۔58(ٹو) بی اس سے قبل 3منتخب حکومتوں کو قتل کرنے کا ذریعہ بنی تھی، اس کے خاتمے پر فاضل کالم نگار کے پیٹ میں مروڑ کیوں اٹھنے لگے؟
باقی رہی کارگل کی بات۔ تو اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ جنرل مشرف کو کا رگل کی غیر ضروری مہم جوئی معاف نہیں کی گئی تھی۔ مشرف ( اور اس مہم جوئی میں شریک اس کے دو تین ساتھیوں) کا احساسِ جرم ہی تھا جو 12اکتوبر1999ء کی کاروائی تک پہنچا کہ منتخب حکومت قومی سلامتی کو خطرات سے دو چار کر دینے والی اس مہم جوئی پر انہیں کیفر کردار تک نہ پہنچا دے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *