اسد عمر کا وزارت خزانہ اور وفاقی کابینہ چھوڑنے کا فیصلہ

وزیر خزانہ اسد عمر نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے وفاقی کابینہ کا حصہ بھی نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسد عمر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ وزیر اعظم کابینہ میں ردوبدل کے نتیجے میں چاہتے ہیں کہ میں وزارت خزانہ کی جگہ پیٹرولیم کا قلمدان سنبھال لوں لیکن میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں کابینہ میں کوئی بھی عہدہ نہیں لوں گا۔

انہوں نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ عمران خان پاکستان کی واحد امید ہیں اور انشااللہ نیا پاکستان ضرور بنے گا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسد عمر کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب گزشتہ ہفتے ہی وہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ سے بیل آؤٹ پیکج پر گفتگو کے لیے واشنگٹن گئے تھے جبکہ ان کی عالمی بینک کے حکام سے بھی ملاقاتیں ہوئی تھیں۔

تاہم اسی دورے کے دوران ان کو عہدے سے ہٹائے جانے اور کابینہ میں اہم تبدیلیوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں جسے حکومت نے مسترد کردیا تھا۔

خیال رہے کہ 15 اپریل کو حکومت نے وفاقی کابینہ میں تبدیلی کے حوالے سے میڈیا میں زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے انہیں من گھڑت قرار دیا تھا۔

ذرائع ابلاغ میں 15 اپریل کی صبح سے ہی یہ خبریں زیر گردش تھیں کہ حکومت نے وزیر خزانہ سمیت 5 اہم وزارتوں کے قلمدان میں تبدیلی کا فیصلہ کر لیا ہے اور جلد ہی اس سلسلے میں اعلان متوقع ہے تاہم وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ان خبروں کی تردید کی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ حکومتی وزراء کے قلمدان تبدیل کیے جانے کے حوالے سے خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وزراء کی تبدیلی وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہے اور میڈیا اس ضمن میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔

انہوں نے مزید لکھا تھا کہ اس وقت پاکستان اہم مرحلے سے گزر رہا ہے اور اس نوعیت کی قیاس آرائیوں سے ہیجان جنم لیتا ہے، جو ملک کے مفاد میں نہیں۔

بعدازاں 16 اپریل کو پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے اے آر وائی نیوز اور بول نیوز کو وفاقی کابینہ اور وفاقی وزر ا کے قلمدان میں تبدیلی کی خبر نشر کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیے تھے۔

پیمرا کی جانب سے دونوں نشریاتی کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا تھا کہ ’ یہ خبر جعلی تھی کیونکہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے فوری طور پر ایسی کسی خبر کو مسترد کردیا تھا‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *