سچ کی طاقت

ہر دس سال کے لگ بھگ کے عرصہ کے بعد کچھ حلقے مضبوط صدارتی نظام کے لیے آوازیں اٹھانا شروع کر دیتے ہیں جس کے ساتھ لوکل گورنمنٹ کی مضبوطی کے بھی مطالبات دہرائے جاتے ہیں۔ آج تک تو یہ خواہش فوجی بغاوت کے ذریعے پوری کی جاتی رہی جس میں جنرل ایوب، ضیاالحق، اور پرویز مشرف جیسے ڈکٹیٹروں نے اقتدار پر قبضہ کیا۔ لیکن چونکہ ان جرنیلوں کو کبھی کھبار آخر کار سیاسی حالات یا دوسرے معاملات کی وجہ سے دباو کا سامنا کرنا پڑتا تھا اس لیے انہیں کسی حد تک اختیارات پارلیمانی سسٹم کو قائم رکھتے ہوئے استعمال کرنے پڑتے تھے۔ یہ ہائیبرڈ سسٹم 18ویں ترمیم کے بعد ناکارہ بنا دیا گیا جو 2010 میں منظور ہوئی۔ یہ 1973 کے آئین کےمنظور ہونے کے ٹھیک 37 سال بعد پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی جدو جہد کے نتیجہ میں منظور کی گئی۔ اس کے ذریعے صدارتی عہدہ کو بے اختیار بنا دیا گیا اور سیاسی اور قانون سازی کے اختیارات فیڈل لیول پر وزیر اعظم اور کابینہ اور نیشنل اسمبلی اور سینیٹ کو منتقل کر دیے گئے۔ اس سے بھی اہم بات یہ کہ اس ترمیم کے ذریعے معاشی اور انتظامی اختیارات صوبوں کو منتقل کر دیے گئے اس امید کے ساتھ کہ صوبائی حکومتیں یہ اختیارات لوکل گورنمنٹ تک منتقل کریں گی۔

لیکن ایسا نہیں ہوا۔ تمام صوبے میں صوبائی حکومتوں کی زیر نگرانی لوک لیڈران کی سربراہی میں ایک محرک لوکل گورنمںٹ کے قیام کے خلاف ہیں۔ اس سے بھی مشکل صورتحال یہ ہے کہ فیڈرل گورنمنٹ بڑھتے ہوئے ڈیفنس بجٹ اور قرضوں کے بوجھ کے نیچے دبی جا رہی ہے  اور 18ویں ترمیم کے تحت این ایف سی کے ذریعے صوبوں کو دیے جانے والے فنڈز کے فیصلے سے خوش نہیں ہے۔ اس لیے ہمیں ایک اوپر نیچے دونوں سطح پر سیاسی اور معاشی بحران کا سامنا ہے  جس کی وجہ سے موجودہ گورنمنٹ سسٹم کی قبولیت اور فائدہ مند ہونے کے حوالے سے عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ ایک ایسے نظام کی خواہش انگڑائی لے رہی ہے  جو اوپر نیچے دونوں سطوحات پر کار گر ثابت ہو سکے۔

البتہ حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ ہم نے صدارتی عہدہ کو برائے نام بنا کر اختیارات صوبوں کو منتقل کر دیے ہیں لیکن ملی ٹیبلشمنٹ کے اختیارات، مطالبات اور جبلیات پر کنڑول کے لیے کوئی طریقہ اختیار نہیں کیا گیا۔ صدارت کا چھاتا اتار دینے کے بعد ریاست کے دائمی اداروں کی طرف سے یہ مطالبات اور اختیارات زیادہ زور سے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ پچھلے چند سال میں اس ڈیپ سٹیٹ نے سیاسی لیڈران اور گورنمنٹس کو اکھاڑنے اور بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، الیکشن پر اثر انداز ہونے کی روش اختیار کیے ہے اور خارجہ پالیسی پر مکمل کنٹرول رکھا ہے۔ اب جب کہ معاشی اور گورننس کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے اور مس ہینڈلنگ پر تنقید زور پکڑتی جا رہی ہے تو ملی ٹیبلشمںٹ بھی بے چین ہو رہی ہے  اور عدلیہ اور میڈیا میں سے اٹھنے والی آوازوں کو کنٹرول کر کے چیک اینڈ بیلنس کو یقینی بنانے کی کوشش میں ہے۔

میڈیا کو ڈائریکٹ ار انڈائریکٹ پریشر سے زیر کر لیا گیا ہے۔ ڈائریکٹ پریشر کے لیے دروازے پر دستک، نا معلوم نمبرز سے فون کالز اور لا پتہ کیے جانے کی دھمکیوں کے ذریعے کیا گیا۔ ان ڈائریکٹ پریشر پیمرا، کیبل آپریٹرز، ایف آئی اے، نیب، اور ایف بی آر کی طرف سے ڈالا گیا۔ ایک نایاب جدت کے بعد ہمارے پاس کچھ نا معلوم کارندے ہیں جو ہر وقت پریشانی کے عامل میں نیشنل سکیورٹی کونسل کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر وقت پٹیشن دائر کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں اور ملکی مفاد کے خلاف کام کرنے والوں اور غیر محب وطن سرگرمیوں میں ملوث افراد اور اداروں کے خلاف ہر وقت قانونی کاروائی کی شکایت کے لیے موجود رہتے ہیں۔

اس طرح کی ہراسمنٹ کا طریقہ اب ججز کے خلاف بھی اپنا جا رہا ہے۔ ایسے ججز کو گمراہ قرار دیا جاتا ہے جو طاقتور کے خلاف کلمہ حق کہنے کی جرات کرتے ہیں۔ اس نئے طریقہ کار کا پہلا نشانہ جسے ملی ٹیبلشمنٹ کی طرف سے یہ کڑوی گولی کھانا پڑی جسٹس شوکت عزیز صدیقی تھے جو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس تھے۔ شوکت صدیقی ایسے جج تھے جو پہلے ڈیپ سٹیٹ کے حمایتی تھے لیکن کچھ عرصہ قبل سے سخت رویہ اپنا کر اصول پر سمجھوتہ نہ کرنے والے شخص بن چکے تھے اب ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس داخل کیا گیا ہے جس کا وہ سامنا کر رہے ہیں۔

اب ہمیں معلوم ہوا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس فائز عیسی کے خلاف 9 پٹیشنز داخل کی جا چکی ہیں جن میں ان کے فیض آباد دھرنا کیس پر سوموٹو کیس کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں انہوں نے پچھلے سال الیکشن سے قبل تحریک لبیک کے دھرنا کے دوران اختیارات کے غلط استعمال اور سیاستدانوں اور ریاستی اداروں کی طرف سے جان بوجھ کر کاروائی سے گریز کے بارے میں سخت ریمارکس دیے تھے۔ جسٹس فائز عیسی نے پیمرا پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ایسے ٹی وی چینلز  جنہوں نے لائسنس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تحریک لبیک کے لیڈران کی نفرت انگیز تقاریر نشر کیں کے خلاف کاروائی کاوائی نہ کی اور نہ ہی براڈ کاسٹرز کے حقوق کو تحفظ فراہم کیا۔ انہوں نے لکھا کہ سیاست میں دخل اندازی اور میڈیا پر قدغن لگانا سکیورٹی فورسز کی دیانت داری پر سوال کھڑے کرتا ہے۔ انہوں نے اس تاثر پر سختی سے ناراضگی کا اظہار کیا کہ ایک خفیہ ایجنسی  ایسے معاملات میں حصہ دار رہی جو ان سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے پاکستان الیکشن کمیشن کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی ذمہ داریاں اختیاری نہیں ہیں۔ ساتھی ہی جسٹس فائز عیسی نے شیخ رشید، اعجاز الحق اور دوسرے پی ٹی آئی کے سیاستدانوں کے شعلہ انگیز بیانات پر بھی سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ ان سب لوگوں نے فیصلے کے خلاف پٹیشن دائر کر کے ان تمام ریمارکس کو حذف کرنے کی اپیل کی ہے  اور کچھ سزائوں اور فرد جرم کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ جسٹس فائز عیسی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ احمقانہ حرکت ہو گی جس سے ایک بار پھرتوجہ عدلیہ کو اپنے کام کے لیے استعمال کرنے والوں کی طرف  ہو جائے گی۔

جیسا کہ ہماری سیاسی تاریخ سے پتا چلتا ہے، نہ ہی صدارتی نظام اور نہ ہی ملی ٹیبلشمنٹ کی براہ راست یا خفیہ طریقے سے مداخلت  ملک کو ایک مستحکم پاکستان بنا سکتی ہے۔ اس طرح کے عارضی حل اس ملک کی مشکلات کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ ہماری بچت صرف اسی میں ہے کہ ہم ایک نیشنل اور جمہوری اتفاق رائے قائم کریں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *