’شادی کے جھوٹے وعدے پر کیا گیا سیکس ریپ ہے‘

اگر مرد شادی کے وعدے سے مکر جائے تو کیا دو بالغوں کے درمیان رضا مندی سے کیا گیا سیکس بھی ریپ کہلائے گا؟

انڈیا کی سپریم کورٹ نے حال ہی میں اس سوال کا جواب ’ہاں‘ میں دیا ہے۔

اس اہم فیصلے میں سپریم کورٹ نے ایک ذیلی عدالت کی جانب سے اس فیصلے کو برقرار رکھا ہے جس میں ایک ایسے شخص کو ریپ کا مجرم قرار دیا گیا تھا جس نے ایک خاتون سے شادی کا وعدہ کر کے جنسی تعلق قائم کیے رکھا تاہم بعد میں شادی کرنے سے انکار کر کے کسی اور سے شادی کر لی۔

عدالت کے ججوں ایل نجسوارا اور ایم آر شاہ کا کہنا تھا کہ عورت نے اپنی رضا مندی اس لیے دی کیونکہ اس نے اس بات پر یقین کیا تھا کہ وہ شخص جو پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہے اس سے شادی کرے گا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا اس لیے محض جنسی تعلق کے لیے اسے رضا مندی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

سیکس اور جنسیت کے معاملے میں انڈیا اب بھی بڑے پیمانے پر قدامت پسند معاشرہ ہے۔ کنوار پن کو عورت کے لیے انتہائی ضروری تصور کیا جاتا ہے اور شادی سے پہلے سیکس کرنے والی عورت کے لیے شادی میں مشکل ہو سکتی ہے۔

ججوں کا کہنا تھا کہ ملزم کی شادی نہ کرنے کی ’نیت‘ نہیں تھی، ان کا مزید کہنا تھا کہ ’دھوکہ دہی سے کیے گئے سیکس کو رضا مندی قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘

اگرچہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے ان کی دس برس قید کی سزا کو کم کر کے سات برس کر دیا تاہم عدالت کا کہنا تھا کہ ’اسے (ملزم) کو اپنے کیے کی سزا ملنی چاہیے۔‘

یہ انڈیا میں اپنی نوعیت کا پہلا کیس نہیں ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پولیس نے سال 2016 میں ایسے 10068 کیسز ریکارڈ کیے۔ سنہ 2015 میں ان کیسز کی تعداد 7655 تھی۔

سپریم کورٹ کے جج نے ذیلی عدالتوں کو مشورہ دیا کہ عدالتیں ’انتہائی احتیاط سے اس بات کا جائزہ لیں کہ مرد متاثرہ عورت سے واقعی شادی کرنا چاہتا تھا یا پھر اس نے شروع سے ہی اپنی ہوس کی تسکین کے لیے جھوٹے وعدے کیے۔‘

اس کا مطلب ہوا کے اگر ملزم یہ ثابت کر دے کہ وہ پہلے اس عورت سے شادی کرنا چاہتا تھا تاہم بعد میں ارادہ بدل لیا تو پھر جنسی تعلق ریپ نہیں کہلائے گا۔

چونکہ ارادوں کو ثابت کرنا آسان نہیں ہے اس لیے زیادہ تر معاملات میں فیصلہ ججوں کی صوابدید پر ہوتا ہے اور اس حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں کہ اس قانون کا غلط استعمال ممکن ہے۔

انڈیا میں کئی لوگوں کا خیال ہے کہ ریپ کے قوانین کو جنسی تعلقات کے مقدمات میں استعمال نہیں کیا جانا چاہیے خصوصاً جن معاملات میں خواتین اپنی مرضی سے کسی سے تعلق قائم کرتی ہیں۔

خود عدلیہ میں بھی کئی لوگوں کا یہی نظریہ ہے اس لیے ایسے مقدامات میں سزا کا تناسب کم ہے اور زیادہ تر کیسز میں ملزم بری ہو جاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *