بچوں نے تشدد کرنے والے والدین کو معاف کر دیا

امریکی ریاست کیلی فورنیا کے ایک جوڑے کو ان کے بچوں نے معاف کر دیا ہے جبکہ ان والدین کو اپنے بچوں پر تشدد کرنے اور انھیں بھوکا رکھنے کا جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔

ڈیوڈ اور لویز دونوں کے بچوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ ان مظالم کے باوجود اب بھی اپنی والدہ اور والد سے پیار کرتے ہیں۔

ان میاں بیوی کو جنوری سنہ 2018 میں اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب ان کی بیٹی گھر سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئی تھی۔

اس جوڑے پر بچوں پر تشدد کرنے کا جرم ثابت ہوا تھا۔

والیدن نے کیا کہا؟

David and Louise Turpin

عدالت میں ڈیوڈ اور لویز ٹرپن رونا شروع ہو گئے اور انھوں نے اپنے بچوں کے رکھے جانے والے ناروا سلوک پر معافی مانگی۔

والد کے وکیل نے ان کی جانب سے بیان کو پڑھا جس میں درج تھا۔

’میری جانب سے گھر میں دی جانے والی تربیت اور نظم و ضبط قائم رکھنے میں میری اچھی نیت شامل تھی۔‘

’میں نے کبھی یہ نہیں چاہا کہ میرے بچوں کو تکلیف ہو۔‘

’مجھے اپنے بچوں سے محبت ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ بھی مجھ سے محبت کرتے ہیں۔‘

عدالت سے براہ راست بات کرتے ہوئے والدہ لویز ٹرپن نے کہا کہ انھیں حقیقی طور پر اپنے کیے پر افسوس ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’مجھے اپنے بچوں سے بہت محبت ہے۔ میں واقعی اس دن کی منتظر ہوں جب میں انھیں دیکھ سکوں گی انھیں گلے لگا سکوں گی اور انھیں بتا سکوں گی کہ مجھے افسوس ہے۔‘

جج نے کیا کہا؟

دونوں میاں بیوی اس وقت باکل ساکت بیٹھے رہے جب جج نے انھیں ’برے، جابر اور غیر انسانی رویے‘ پر سرزنش کی۔

ڈزنی لینڈ میں والیدن اور بچوں کی سنہ 2011 میں لی گئی ایک تصویر

جج برنرڈ سکوارٹز نے کہا آپ کی سزا کو کم کرنے کی صرف ایک وجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ نے کیس کے آغاز میں ہی اپنی غلطی قبول کر لی تھی۔

انھوں نے اس گھر کو بچوں کے لیے ڈراؤنا گھر بھی قرار دیا۔

بچوں نے کیا برداشت کیا؟

بچوں کی عمریں دو سے 29 برس کے درمیان ہیں۔ وہ کمزور اور تشدد کا شکار دکھائی دیے۔ کچھ کو فرنیچر سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

لاس اینجلس سے 112 کلومیٹر کی دوری پر واقع اس گھر پر حکام نے چھاپہ مارا۔ ان کے مطابق وہاں انسانی فضلے اور گندگی کی بو پھیلی ہوئی تھی۔

بچوں کو سال میں ایک بار سے زیادہ مرتبہ نہانے نہیں دیا جاتا تھا۔ وہ رفع حاجت کے لیے ٹوائلٹ استعمال نہیں کر سکتے تھے اور ان میں سے کبھی بھی کوئی دانت کی تکلیف کی وجہ سے دندان ساز کے پاس تک نہیں لے جایا گیا تھا۔

اس صورتحال کی وجہ سے کچھ بچوں کی افزائش کا عمل اس قدر متاثر ہو چکا تھا کہ وہ بڑی عمر کے باوجود دیکھنے میں بچے لگتے تھے۔

حال ہی میں ان کی بیٹی کی جانب سے 911 پر کی جانے والی ایک کال جسے اے بی سی چینل نے حاصل کیا ہے، ریلیز ہوئی ہے۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ بچے کس حالت میں زندگی گزار رہے تھے۔

17 سالہ لڑکی نے بتایا کہ میرے دو بہن بھائیوں کو پلنگ کے ساتھ زنجیر سے باندھ کر رکھا گیا ہے۔

کبھی کھبار جب میں سو کر اٹھتی ہوں تو مجھ سے سانس نہیں لینے ہوتی جس کی وجہ گھر میں پھیلی گندگی کی بو ہے۔

یہ بچے جن سب سے نام ’جے‘ سے شروع ہوتے ہیں کو گھر کے اندر ہی پروان چڑھایا گیا ہاں البتہ انھیں ہیلون کے موقع پر یا پھر ڈزنی لینڈ اور لاس ویگاس کے سفر پر خاندان کے ہمراہ جانے کی اجازت تھی۔

ملک بھر سے تقریباً 20 افراد جن میں نرسیں، نفسیاتی معالج شامل ہیں نے ساتھ بالغوں اور چھ بچوں پر مشتمل اس خاندان کی دیکھ بھال کرنے کے لیے اپنی خدمات دینے کی پیش کش کی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *