’لوگوں کو فوج کے خلاف کرنے سے کیا فائدہ ہوگا؟‘

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے قبائلی عوام کے جلسہ عام سے خطاب میں کہا ہے کہ وہ ان کی مشکلات سمجھتے ہیں اور ان کی اپنی نظر میں ان کی بحالی ایک بڑا چیلنج ہے۔

یہ بات انھوں نے قبائلی اضلاع کے دورے کے موقع پر ضلاع اورکزئی میں خطاب کے دوران کہی۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اس موقع پر پشتونوں کی ترجمانی کرنے والی جماعت پشتون تحفظ مومنٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’پی ٹی ایم پٹھانوں کی تکلیف کی بات کرتی ہے، وہ قبائلیوں کی تکلیف کی بات کرتے ہیں۔ وہ ٹھیک بات کرتے ہیں وہی باتیں جو میں 15 سال سے کر رہا ہوں۔

’بات وہ ٹھیک کرتے ہیں لیکن جس طرح کا لہجہ وہ اختیار کر رہے ہیں وہ ہمارے ملک کے لیے ٹھیک نہیں۔ جو لوگ تکلیف سے گزرے ہیں انہیں اپنی فوج کے خلاف کرنا ٹھیک نہیں۔‘

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میں پوچھتا ہوں ’لوگوں کو فوج اور پاکستان کے خلاف کرنے سے کیا فائدہ ہوگا؟‘

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا ’اصل چیلنج یہ ہے کہ لوگوں کو بحال کرنا ہے نہ کہ لوگوں کے زخموں پر نمک چھڑکنا اور کوئی حل نہ پیش کرنا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پختونخوا کی حکومت قبائلی لوگوں کی پوری مدد کرے گی۔ اور ان کے کاروبار اور زندگیاں بحال کرنے میں پورا تعاون کرے گی۔

’مجھے قبائلی علاقوں کی زیادہ سمجھ ہے‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ بیس برس پہلے بھی اس علاقے میں آئے تھے تاکہ قبائلی علاقے کے لوگوں سے متعلق کتاب لکھ سکیں۔

ان کا کہنا تھا ’میں تمام قبائلی علاقوں میں گھوما اور جب یہاں دہشت گردی کے خلاف آپریشن شروع ہوا تو میں واحد سیاستدان تھا جو اس علاقے سے واقف تھا اور میں نے کہا کہ پاکستانی فوج کو امریکہ کے کہنے پر قبائلی علاقوں میں نہ بھیجا جائے۔

’میں نے ایسا اس لیے کہا کیونکہ قبائلی علاقوں کے لوگ ہی ہماری فوج تھے۔ لیکن افسوس اس وقت کے حکمران کو قبائلی علاقوں کا علم نہیں تھا، نہ قبائلی علاقوں کی روایات اور تاریخ کا علم تھا۔ اس لیے جو یہاں ہوا باہر کے لوگوں کو پتا نہیں چلا کہ یہاں کیسی تباہی ہوئی۔

’میں اس کے خلاف مسلسل بولتا تھا۔ اس میں پاکستانی فوج کا ہاتھ نہیں تھا۔ بلکہ اس حکمران کا تھا جس نے امریکہ کے کہنے پر یہاں فوج کو بھیجا۔

’میں جانتا ہوں لوگوں کو یہاں سے نقل مکانی کرنا پڑی اور انہیں جو مشکلات جھیلنا پڑیں۔`

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں قبائلی علاقوں میں جا رہا ہوں کیونکہ پاکستان کے کسی وزیر اعظم کو قبائلی علاقوں کی اتنی سمجھ نہیں جتنی مجھے ہے۔ میں یہ یقین دلانے آیا ہوں کے پاکستان آپ کی قربانیوں کو نہیں بھولے گا اور آپ کی مدد کرے گا۔ ‘

عمران خان

'جو میرے ملک کے لیے فائدہ مند نہیں اسے تبدیل کروں گا'

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد قوم کی جیت ہے اس لیے انھوں نے بطور کپتان اپنی ٹیم میں کچھ ضروری تبدیلیاں کی ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا ’ایک اچھا کپتان مسلسل اپنی ٹیم کی طرف دیکھ رہا ہوتا ہے اسے میچ جتانا ہوتا ہے۔ کئی مرتبہ اسے بیٹگ آرڈر بدلنا پڑتا ہے۔ کئی مرتبہ اسے کسی کو نکال کے نئے کھلاڑی کو لانا پڑتا ہے۔

’اسی طرح وزیر اعظم کا بھی ایک مقصد ہوتا ہے اور میرا مقصد ہے کہ میں اپنی قوم کو جتاؤں۔ اپنی قوم کو اٹھاؤں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ابھی میں نے اپنی ٹیم میں بیٹنگ آرڈر بدلا اور ایک آدھ تبدیلی بھی کی ہے۔ میں آگے بھی کروں گا۔ میں سارے وزیروں سے کہنا چاہتا ہوں۔ جو میرے ملک کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا میں اسے تبدیل کروں گا۔‘

انھوں نے بطور خاص وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان کو مخاطب کر کے یہ باتیں کہیں۔

انھوں نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان سے کہا کہ وہ بھی اپنی ٹیم پر نظر رکھیں۔ اور تبدیلیوں کے لیے خود کو تیار رکھیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *