ایوانکا ٹرمپ کا ورلڈ بینک کی نوکری ’ٹھکرانا‘ اور چند دیگر تنازعات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صاحبزادی ایوانکا ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ جب ان کے والد نے انھیں ورلڈ بینک کی سربراہی کی دعوت دی تو انھوں نے اس آفر کو مسترد کر دیا۔

ایوانکا ٹرمپ

گذشتہ ہفتے دئیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنی بیٹی کے لیے مختلف عہدوں کا سوچا تھا

گذشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے جریدے ’دی اٹلانٹک‘ کو بتایا کہ انھوں نے ایوانکا سے بینک کی سب سے سینئر ترین پوزیشن سنبھالنے کی پیشکش کی تھی ’کیونکہ وہ حساب کتاب کے معاملے میں بہت اچھی ہیں۔‘

ایوانکا نے اب بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ کے پوچھنے پر ان کا جواب تھا کہ وہ وائٹ ہاؤس میں مشیر کے طور پر ’اپنے کام سے خوش‘ ہیں۔

بعد ازاں ورلڈ بینک کے نئے صدر، معیشت دان ڈیوڈ ملپاس کو منتخب کرنے میں ایونکا کا کردار شامل رہا ہے۔

ایک طویل عرصے سے امریکہ غیر رسمی طور پر ورلڈ بینک کے رہنما کو منتخب کرنے کا حق رکھتا ہے۔

آیوری کوسٹ کے دورے کے دوران خبر رساں نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے ایوانکا ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کے والد نے ملازمت سے متعلق ان سے ’سوال کے طور پر‘ پوچھا، لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔

ایوانکا کا مزید کہنا تھا کہ ملپاس اچھی طریقے سے ملازمت سر انجام دیں گے۔

Ivanka Trump

ایوانکا آج کل افریقی ممالک کے دورے پر ہیں

ایک سوال پر کہ کیا صدر نے انھیں کسی اور اہم ملازمت کی پیشکش کی ہے، ان کا کہنا تھا وہ اس بارے میں معلومات ’صرف اپنے اور صدر ٹرمپ کے درمیان‘ ہی رکھیں گی۔

گذشتہ ہفتے دئیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنی بیٹی کے لیے مختلف عہدوں کا سوچا تھا جن میں اقوامِ متحدہ میں امریکا کی سفیر کے طور پر بھی ان کی تعیناتی شامل تھی کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ وہ ’فطری طور پر سفیر‘ ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انھیں اس عہدے کے لیے ایوانکا کو تعینات کرنے کے خدشات سے آگاہ کیا گیا، کیونکہ ’وہ کہتے یہ اقربا پروری ہے، جبکہ اس کا اقربا پروری سے کوئی تعلق نہیں۔‘

ایوانکا آج کل وومین گلوبل ڈویلپمنٹ اور پراسپیرٹی (ڈبلیو۔جی ڈی پی) کے فروغ کے لیے افریقی ممالک کے دورے پر ہیں۔ یہ امریکی حکومت کی جانب سے دفاتر میں خواتین کی شرکت کو بڑھاوا دینے کا ایک منصبوبہ ہے۔

بدھ کے روز انھوں نے آبیجان میں فرسٹ وومین آنٹرپرینئور فائنیس اینیشیٹو (وی فائی) میں شرکت کی ہے۔ اور اس سے پہلے انھوں نے ایدزوپ کے نزدیک ایک کوکاؤ فارم کا دورہ بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ ا نھوں نے ایتھوپین دارالحکومت آدیس آبابا میں خواتین کی چلائی جانے والی ایک فیکٹری کا دورہ بھی کیا ہے۔

فروری میں اس اقدام کی لانچ ایک ایسے وقت ہوئی جب صدر ٹرمپ نے غیر ملکی امداد کی کٹوتی اور صحت عامہ سے متعلق ایسے گروپوں کی امریکی امداد پر پابندی تجویز کی جو اسقاط حمل کی سہولت فراہم کرتے یا اسے فروغ دیتے ہیں۔

ایوانکا ٹرمپ سے جڑے چند دیگر تنازعات

ایوانکا

سنہ 2017 میں جی ٹوئنٹی کے سالانہ اجلاس میں ایوانکا ٹرمپ نے ایک غیر معمولی اقدام کے طور پر کچھ دیر کے لیے اپنے والد کی جگہ نشست سنبھالی تھی۔ صدر ٹرمپ اس وقت اجلاس کے دوران انڈونیشیا کے رہنما سے ملاقات کے لیے گئے تو ان کی جگہ ایوانکا نے لے لی تھی جس پر انھیں سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا

ایونکا

گذشتہ سال ایونکا ٹرمپ کو اپنا فیشن برانڈ بند کرنا پڑا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ والد کی پوزیشن سے فائدہ اٹھا رہی ہیں لہٰذا مفادات کے ٹکراؤ سے بچنے کے لیے فیشن ہاؤس بند کر دیا گیا

ایونکا

’دا ویو‘ پر ایک انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے سب کو یہ کہہ کر چونکا دیا تھا: ’ایونکا کے پلے بوائے میگزین کے لیے پوز کرنے سے انھیں مایوسی ہوگی۔۔۔ واقعی نہیں۔ لیکن اس کا انحصار اس پر ہوگا کہ میگزین کے اندر کیا ہے۔۔۔ مجھے نہیں لگتا کہ ایوانکا کبھی برہنہ شوٹ کروائیں گی حالانکہ ان کا فِگر کافی اچھا ہے۔ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ اگر ایوانکا میری بیٹی نہ ہوتی تو شاید میں انھیں ڈیٹ کر رہا ہوتا‘

ایوانکا

ایوانکا کو حساس حکومتی امور کی ای میلز اپنے ذاتی ای میل اکاونٹ سے بھیجنے کے الزام کا بھی سامنا رہا ہے

Ivanka Trump holds her son Theodore

جن دنوں امریکی بارڈر ایجینٹس بے شمار پناہ گزین بچوں کو ان کے والدین سے جدا کر رہے تھے، ایوانکا ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیٹے تھیوڈور کے ساتھ فوٹو شئیر کی، جس پر انھیں خاصی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *