دوکالموں پر ایک نظر

نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )


دودھ میں مینگنیاں ، اشارے کنایے اورسائے‘‘
روزنامہ دنیا میں دو کالم عموماً پہلو بہ پہلو شائع ہوتے ہیں۔ ہارون الرشید کا ’’ناتمام‘‘ اور ایاز امیر کاکالم جس کا کوئی عنوان نہیں، ’’لوگو‘‘ میں صرف فاضل کالم نگار کی تصویر چھپتی ہے۔ دونوں میں کئی مشترکہ اقدار ہیں، ایک یہ کہ دونوں ایک عرصے تک عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کے مداح رہے اور اسے ملک وملت کے واحد ’’مسیحا‘‘ کے طور پر پیش کرتے رہے اور اب اس کے ناقد ہیں۔ ہارون الرشید تو یہ دعوےٰ بھی کرتے رہے کہ عمران خان سے ان کے ذاتی تعلقات تحریک انصاف کے قیام سے بھی پہلے کے ہیں۔ یہاں تک کہ عمران خان اپنے خانگی معاملات(مثلاً جمائما سے علیحدگی) تک ان سے ڈسکس کیا کرتے تھے۔ سیاسی معاملات میں بھی وہ خان کے ’’اتالیق‘‘ ہونے کا دعوےٰ کرتے رہے ہیں۔ یہ الگ بات کہ برسوں کی ’’اتالیقی‘‘کے باوجود ،انہیں اعتراف ہے کہ ان کا ’’شاگرد رشید‘‘ سیاسی سوچ اور مردم شناسی، دونوں میں ’’کورا‘‘ واقع ہوا ہے۔

مزید پڑھئیے "عبدالقادر حسن اور۔۔۔’’دونوں بھائی‘‘"
زیر نظر کالم ’’خود فریبی سی خود فریبی ہے‘‘ میں کابینہ میں حالیہ رد وبدل کو موضوع بنایا ہے۔ فواد چودھری کی جگہ فردوس عاشق اعوان کو وزارتِ اطلاعات ونشریات سونپنے کے حوالے سے لکھا: وہ تمام ’’اوصافِ حمیدہ‘‘ ان میں موجودہیں جن کی بنا پر ادوارِ گزشتہ کی کپتان مذمت کرتا ہے۔ کوئی ’’کارنامہ‘‘ایسا نہیں، جو وہ انجام دے سکتی ہوں اور انجام نہ دیا ہو۔ ایک کے بعد دوسری جماعت بدلی۔ جی ہاں! موصوفہ، مشرف دور میں ڈکٹیٹر کی تخلیق قاف لیگ میں شامل ہوئیں۔ پھربعد زرداری صاحب کی پیپلز پارٹی میں کود گئیں اور وزارت اطلاعات ونشریات لے اڑیں۔ایک دن کا بینہ کے اجلاس میں باقاعدہ آنسو بہاتی نظر آئیں کہ وزارت چھن جانے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔۔۔2013میں شکست نظر آئی تو الیکشن کی صبح خواجہ آصف کے مقابلے میں تحریک انصاف کے امید وار کے حق میں رضا کارانہ دستبرداری اختیار کرلی۔ 2018کا الیکشن پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر لڑا اور مسلم لیگ (ن)کے ارمغان سبحانی کے مقابلے میں تقریباً چالیس ہزار ووٹوں سے شکست کھائی(سبحان1,29,041۔ فردوس 91,393)اور اب خیر سے عمران خان اور ان کی حکومت کی سرکاری ترجمانی پر فائز ہوئی ہیں۔ کالم میں وہ شہبازشریف کے ایک کارِ خیر کا ذکر کئے بغیر نہیں رہے۔ یہ غریب اور کم وسیلہ لوگوں کو قرض حسنہ فراہم کرنے کے لیے اخوت والے ڈاکٹر امجد ثاقب کو سالانہ اربوں روپے کی فراہمی تھی۔ جسے تبدیلی والی حکومت نے بند کردیا ہے۔ لیکن یہاں وہ دودھ میں مینگنیاں ڈالے بغیر نہیں رہے۔ ’’جیسا کہ ان کا (شہبازشریف کا)مزاج تھا، ’’اشارے کنایے‘‘ہوتے رہے کہ کچھ داد بھی دیجئے، کوئی حرفِ تحسین، ایک ذرا سی تشہیر۔ اپنے کام میں ڈاکٹر صاحب مگن رہے، سراٹھاکر بھی نہ دیکھا۔ اس کے باوجود ان کا اکرام ملحوظ رکھا گیا (شکر ہے، آپ نے یہ تو تسلیم کیا کہ ڈاکٹر صاحب کی طرف سے کسی حرفِ تحسین، ذرا سی تشہیر کے بغیر بھی ان کا اکرام ملحوظ رکھا گیا، یعنی ’’اخوت‘‘ کے لیے سالانہ اربوں کی فراہمی کا سلسلہ جاری رہا۔ لیکن’’اشارے کنایے‘‘والی بات بھی خوب ہے۔ اشارں کنایوں پر چلنے والے ہی اشاروں کنایوں کوسمجھ سکتے ہیں۔

مزید پڑھئیے "مگر ارشاد صاحب کو یہ عارفانہ بات کس نے بتائی؟"
ایاز امیر کا معاملہ ہارون سے مختلف ہے۔ عمران خان سے ان کے عشق کا سلسلہ زیادہ طویل نہیں رہا۔ 1997میں وہ نوازشریف کے ٹکٹ پر ممبر پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔ اکتوبر 2002ء میں نوازشریف ہی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے امید وار تھے، لیکن ہزار بارہ سو ووٹوں سے ہرا دےئے گئے۔2008میں ان کا حلقہ ان چند حلقوں میں تھا جہاں نوازشریف نے خود انتخابی مہم میں شرکت کی اور ایاز امیر ایک لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کر کے جیت گئے۔ 2013میں ٹکٹ سے کیوں محروم رہے، یہ ایک الگ کہانی ہے۔ 2018میں امید وار ہی نہ بنے۔ انہوں نے ایک اصولی بات لکھی ہے: ’’اسد عمر کو ویسے ہی قصور وار ٹھہرایا جارہاہے۔ اصل بات اوپر کی ہے۔ دانش او رافکار کی کمی ٹیم کے لیڈر کی ہے۔ اسد عمر میں کس نے وہ صلاحیتیں دیکھیں جو ان کی شخصیت کا حصہ تھیں ہی نہیں۔عامر کیانی کو کس نے وزارتِ صحت کا قلمدان تھمایا تھا؟عثمان بزدار کن ہاتھوں سے وزیر اعلیٰ پنجاب نامزد ہوئے اور وہ جو کے پی کے وزیر اعلیٰ ہیں ان کا نام تو نہ لینا ہی بہتر ہے۔ یہ سب کس کے فیصلے تھے؟ ۔۔۔بنی گالہ میں ان کے دفتر جانے کا ایک دوبار اتفاق ہوا۔ یہ ان کے اقتدار میں آنے سے پہلے کی بات ہے۔ وہاں ماحول ہی ایسا نہ پایا جس سے انسان متاثر ہوسکے۔ حیرت ہے اس کے باوجود آپ انتخابات سے پہلے ان کے گن گاتے رہے ۔ گویا خود آپ کو خان میں وہ صلاحیتیں نظر آتی رہیں ، جو ان میں تھیں ہی نہیں۔ یہاں وہ ایک بنیادی بات بھی کہہ گئے۔ ’’اصل بات یہ ہے کہ جنہوں نے عمران خان کو وزیر اعظم بنایا، ان کی بھی سمجھ مکمل نہ تھی۔ انہوں نے عمران خان میں وہ چیز یں دیکھیں جو ان میں نہیں تھیں۔ آپ نے عمران خان کو وزیر اعظم بنانے والوں کا نام نہیں لیا۔ لیکن اشارہ واضح ہے۔ 2014کے دھرنے کی تقریریں پھر سے سن لیں۔۔ یہ گمان کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ ایسا شخص ملک کی حکمرانی کے قابل ہے۔ ان دنوں تو آپ اس دھرنے کی تعریف وتوصیف کیا کرتے تھے، کئی بار کنٹینر پر بھی نظر آئے۔ہمارے ہاں فیصلے عوام کے نہیں ہوتے، کلیدی فیصلے سایوں کے پیچھے سے ہوتے ہیں۔ ۔۔’’متبادل‘‘ کہاں سے آئے گا؟ دوسرا یہ کہ سایے میں رہنے والے سمجھیں کہ ان نالائقوں سے تو ہم ہی بہتر ہیں۔ یہی سوچ ایوب خان کی تھی اور ان کے بعد آنے والے شاہسواروں کی؟ اصل خطرہ یہ ہے اور اس خطرے کی راہ انصاف والے ہموار کررہے ہیں‘‘۔۔۔آپ نے اصل خطرے کی درست نشاندہی فرمائی ہے تو آئیے! اس خطرے کی راہ روکیں۔ اور بآواز بلند اصرار کریں کہ کلیدی فیصلے سایوں کے پیچھے ہونے کا سلسلہ بند ہو، فیصلے سرعام ہوں، پارلیمنٹ میں ہوں اور پارلیمنٹ کے انتخاب میں سایوں والے اثر انداز نہ ہوں۔

مزید پڑھئیے "حیرت ہے، فارن آفس میں ایسے ایسے لوگ بھی رہے ہیں!!"

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *