تارا فریس انسٹاگرام سٹار کا قتل

سی سی ٹی وی ویڈیو میں ایک تنگ گلی میں ایک سفید رنگ کی پورش کنورٹیبل کار نظر آتی ہے۔

سفید کپڑوں میں ملبوس ایک شخص گاڑی کی طرف جاتا ہے، چند سکینڈز کو رکتا ہے اور پھر ایک موٹر سائیکل کی جانب بھاگتا ہے جہاں ایک اور سوار تیار ہے۔

یہ سی سی ٹی وی فوٹیج تارا فریس کی کار کی ہے۔ یہ ان کے قتل سے بالکل پہلے کے چند لمحات ہیں۔

وہ سفید کار گلی میں آہستہ سے سرکنے لگتی ہے۔

اس کے اندر عراق کی متنازع ترین سوشل میڈیا سٹار تارا فریس گولیوں کے زخموں سے مر رہی ہیں۔

یہ 27 ستمبر 2018 تھا۔ آیوش ترکی کے مختصر دورے کے بعد اپنے شہر بغداد لوٹی تھیں۔

اسی دوپہر تین بجے آیوش کو ایک ایسے نمبر سے فون آیا جسے وہ پہچانتی نہیں تھیں۔ آواز آئی، میں تارا بول رہی ہوں۔ تمھارا دورہ کیسا تھا؟ چلو آج ملتے ہیں۔

اس کال کی ہر تفصیل آیوش کی یادداشت میں نقش ہے۔ آیوش عراق کیں پہلی معروف خاتون ڈی جیز میں سے ایک ہیں۔ گذشتہ چند سالوں میں انھوں نے اپنی ساکھ کافی بڑھائی ہے اور وہ مغربی ہپ ہاپ گانے بجانے کے لیے جانی جاتی ہیں۔

تارا فریس کی شہرت ذرا مختلف نوعیت کی تھی۔ ان کے 27 لاکھ انسٹاگرام فالوورز انھیں طرح طرح کے لباس میں، اپنے ٹیٹو دکھاتے یا اپنے میک اپ کے طریقے بتاتے دیکھتے تھے۔ وہ اپنے سفرنامے، پسند کی کتابوں، مزاحیہ واقعات پوسٹ کرتی تھیں۔

 

آیوش اور تارا ایک جیسا حلقہِ احباب رکھتی تھیں۔ وہ بہترین سہیلیاں تو نہیں تھیں مگر صرف واقف سے کچھ زیادہ تھیں۔ مگر اس روز وہ بغداد کے منصور نامی علاقے میں ملنے والی تھیں جہاں آیوش کا دفتر تھا۔

انھیں ایک کانٹیکٹ لینز کی تشہیر کے لیے بات چیت کرنا تھی۔

پہلی کال کے چند گھنٹوں بعد آیوش نے تارا کو فون کیا تاکہ ملاقات کی جگہ کا تعین کر سکیں مگر کسی نے فون نہیں اٹھایا۔

انھوں نے ساڑھے پانچ بجے پھر فون کیا تو ایک نوجوان نے اٹھایا اور وہ چیخ رہا تھا تارا کو گولی مار دی گئی ہے۔

آیوش نے فوراً اپنا فیس بک کا اکاؤنٹ کھولا تو وہاں پہلے ہی تارا کی موت کے حوالے سے پوسٹس تھیں۔ کچھ میں ان کی انسٹاگرام کی تصویر بھی تھی۔ تصویر میں تارا نے ایک کندھا ڈھانپنے والا ڈینم کا ڈریس پہننا ہوا تھا اور گلابی پس منظر تھا۔

آیوش کہتی ہیں ’میں ڈر گئی اور فوراً گھر چلی گئی۔‘ ان کا اصلی نام عائشہ قوسائی تھا اور ان کے گھر والوں کو ڈر تھا کہ آیوش کی زندگی بھی خطرے میں تھی۔

بائیس سالہ صحافی ساری ہسام نے اپریل میں تارا کا انٹرویو کیا تھا۔ وہ بھی انتہائی حیران تھے۔ جن انھیں خبر ملی تو وہ اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ بیٹھے تاش کھیل رہے تھے۔

سوشل میڈیا پر تارا کی موت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ سادی ہسام کو اس بات کا یقین نہیں آ رہا تھا اور انھوں نے تارا کو فون کیا مگر وہ وائس میل پر چلا گیا۔

تارا کا وائس میل کا پیغام امریکی گلوکار ایم اینڈ ایم کے گانے واک آن واٹر سے لیا گیا تھا۔

تارا کے ساتھ کام کرنے والے ایک فوٹوگرافر ماجد (نام تبدیل کیا گیا ہے) کہتے ہیں کہ ایک لمحے کو انھوں نے سوچا کہ شاید یہ ایک پبلسٹی سٹنٹ ہے۔

مگر ایسا نہیں تھا۔

تارا فریس کون تھیں؟

تارا کی موت پر سوشل میڈئا جیسے ایک میدانِ جنگ بن گیا۔ وہ ہمیشہ سے متنازع رہی تھیں۔ ان کی موت کے بعد بھی ان کے خلاف پیغامات بھیجے جا رہے تھے اور کچھ لوگ انھیں ایک طوائف پکار رہے تھے مگر اتنے ہی لوگ ان کا دفاع بھی کر رہے تھے۔

دنیا کے کئی اور ممالک میں تارا کا انسٹاگرام بالکل متنازع نہ ہوتا۔ ان تصاویر میں ان کا کپڑوں کا ذوق، ان کا انداز اور ان کے ٹیٹو دکھائے گئے تھے۔

مگر عراق میں ٹیٹو ایک متنازع چیز ہیں۔ تارا نے شروع میں اپنی ایک انگلی پر چھوٹا سا ٹیٹو کروایا تھا، ایک چاند اور ایک تیر۔

ان کی بازو پر ایک پھولوں والا نمونہ تھا۔ ان کی گردن ہر عربی میں لکھا تھا ’ما یزہک ری‘ یعنی ایسا شخض جسے توڑا نہیں جا سکتا۔

نام ’علی‘ ان کے بائیں کندھے پر تھا۔ ان کی تازہ ترین تصاویر میں ان کے ہاتھ پر ایک خاتون کا چہرہ، ہاتھ کے پیچھے ایک گلاب اور کلائی پر ایک شیر کا سر تھا۔

اپنی زیادہ تر تصاویر میں وہ کھلی قمیضین، سادہ ٹی شرٹس، کھلی پتلون یا شارٹس، یا لمبی شرٹیں پہنتی تھیں۔ ان کے بالوں کے رنگ و انداز ہمیشہ بدلتے رہتے تھے۔

ان کی موت سے قبل لی گئی تصاویر میں انھیں کالے رنگ کے زیر جامے یا انسانی کھال کے رنگ کا باڈی سوٹ پہننے دیکھا جا سکتا ہے۔ انھوں نے ایک سٹائلش برا اور جیولری پہن رکھی تھی۔

عراقی معیار کے تحت یہ سب نامناسب تھا۔

ماجد کہتے ہیں کہ ’وہ مختلف تھیں۔ اپنے سٹائل اور کپڑوں کی وجہ سے۔ باقی عراقی ماڈلز زیادہ سخت ہوتی ہیں یا کم از کم ان کی فیملی سخت مزاج ہوتی ہے۔ کسی عراقی ماڈل کو کراپ ٹاپ یا آف شولڈر کپڑے پہنانا مشکل کام ہے۔

تارا کو اس کی پروا نہیں تھی۔ وہ جو دل کرتا تھا پہنتی تھیں۔

ان کے بلاگ میں زیادہ سنجیدہ باتیں نہیں تھیں۔ روزمرہ کے واقعات کا ذکر، کھانے کا ذکر یا ورزش گاہ کی باتیں ہوا کرتی تھیں۔

بہت سارے نوجوان عراقیوں کی طرح تارا کو اس بات کی فکر نہیں تھی کہ وہ اپنی سیاسی رائے کس طرح بتا رہی ہیں۔ وہ کوئی سماجی کارکن نہیں تھیں بس وہی بولتی تھیں جو ان کے ذہن میں ہوتا تھا۔

سنہ 2015 کی گرمیوں میں جب عراق جیسے اُبل رہا تھا تو لوگ بگڑتے معیارِ زندگی پر احتجاج کر رہے تھے اور سیاسی اصلاحات مانگ رہے تھے۔

ان مظاہروں میں ایک نوجوان مارا گیا۔ تارا نے عربی میں کہا پولیس اور فوج نے مظاہرین پر گولی کیوں چلائی۔ یہ پہلا موقع تھا جب سنی شیعہ کرد سب مل کر قومی ترانہ گا رہے تھے۔ کیا یہ اچھا ہوا کہ اس نوجوان کو شہید کر دیا گیا۔

اگست 2015: تحریر سکوائر میں احتجاج

اگست 2015: تحریر سکوائر میں احتجاج

دیگر مواقع پر انھوں نے کرپشن اور کرپٹ سیاستدانوں کے خلاف آواز اٹھائی۔ زندگی کے آخری دو سال انھوں نے بظاہر اپنی توجہ انفرادی آزادی پر مرکوز کی تھی۔

ان کی عراق میں شہرت کوئی ایسی نایاب بھی نہ تھی۔ ملک میں اور بھی سوشل میڈیا سٹارز تھے۔کوئی گلوکارہ، کوئی شاعرہ، ایک ملکہِ حسن جو ٹی وی پریزنٹر بن گئیں۔

مگر تارا میں کچھ الگ تھا۔ وہ جیسے اشتعال انگیز تھیں، وہ لوگوں کو حیران کر دیتی تھی۔ وہ سگریٹ پیتی تھی اور گالیاں دیتی تھیں۔

یہ شخصیت ہمیشہ سے یا کوئی فطری نہیں تھی، بلکہ تارا نے اسے خود بنایا تھا۔

ایک وقت تھا کہ وہ ایک مختلف خاتون تھیں، ایک نوجوان لڑکی جو کہ شادی کا جوڑا پہننے کھڑی تھی۔

سنہ 2012 کی ایک تصویر میں تارا ایک کمرے میں سفید جوڑا پہنے، بہت سا میک اپ لگائے، سر پر ایک تاج سجائے کھڑی ہیں۔ ایک بڑا سا سونے کا ہار ان کے گلے میں ہے جو شاید دولہے کا تحفہ ہو۔

بغداد کی بہت سی دلہنوں کی بالکل ایسی ہی تصاویر ملتی ہیں۔ تارا میں کچھ نایاب نہیں تھا، وہ بالکل ایک عام سی دلہن لگ رہی تھیں۔

مگر ان کی عمر صرف 16 سال تھی اور اس کی زبردستی شادی کی جا رہی تھی۔
کئی سال بعد جب وہ مشہور ہو گئیں تو انھوں نے سنیپ چیٹ پر اس بندھن کی اداس کہانی بتائی۔ یہ ویڈیو بناتے ہوئے انھوں نے کیموفلاج جیکٹ پہن رکھی تھی۔

تارا اپنے سابقہ شوہر کو کم ظرف اور خود غرض بتاتی ہیں اور ان پر الزام لگاتی ہیں کہ وہ انھیں مارتا تھا۔

جب وہ امید سے تھیں تو انھیں اپنے والدین کے گھر رہنا پڑا اور جب ان کا بیٹا پیدا ہوا تو ان کے شوہر نے بچے کو چھین لیا۔

انھوں نے اس کے بعد اپنے بیٹے کو پھر کبھی نہیں دیکھا۔

کفن پوش ستارہ

ٹی وی پر بعد میں انٹرویو دینے والی ایک نرس کا کہنا تھا کہ جب تک تارا جائے وقوع سے چار کلومیٹر دور شیخ زید ہسپتال پہنچیں تو وہ پہلے ہی ہلاک ہو چکی تھیں۔

ان کے سر، گردن، اور سینے میں گولیاں لگی تھیں۔ حُرا ٹی وی کے مطابق ڈاکٹروں نے انھیں بچانے کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہے۔

عراقی میڈیا نے وزارتِ صحت اور وزارتِ داخلہ کی جانب سے دیے گئے بیانات کا حوالہ دیا۔ انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ 22 سالہ تارا فریس کیمپ سارا کے علاقے میں گولیاں مار کے ہلاک کر دی گئی تھیں۔

اگلے روز وزیراعظم حیدر العبادی نے ٹوئٹر پر پیغام دیا کہ انھوں نے سکیورٹی حکام کو 48 گھنٹے میں تفتیش کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ انھوں نے دیگر قتل کے واقعات میں تفتیش کا بھی وعدہ کیا۔

میڈیا رپورٹس کا کہنا تھا کہ دو ماہ میں بغداد میں ہلاک کی جانے والی تارا تیسری خاتون تھیں۔ ان تمام قتل کے واقعات کا وقت ایک جیسا تھا، جمعرات کی دوپہر۔

رفیف الیاسری بغداد میں باربی کلینک نامی پلاسٹک سرجری کا کلینک چلاتی تھیں جو کہ صارفین کے علاوہ ان کا مفت علاج بھی کرتا تھا جو کہ کسی واقعے میں زخمی ہو گئے ہوں۔ رشہ حسن ایک بیوٹی سنٹر چلاتی تھیں۔

دونوں کی عمر 30 کے قریب تھی اور دونوں اچانک ہلاک ہو گئی تھیں۔

بغداد کے قبرستانِ نجف میں رفیف الیاسری کی قبر

بغداد کے قبرستانِ نجف میں رفیف الیاسری کی قبر

وزارتِ داخلہ نے پہلے تو کہا کہ رفیف منشیات کے زیادہ استعمال جبکہ رشہ دل کے عارضے کی وجہ سے فوت ہوئیں۔ مگر ان کی ہلاکت کے بارے میں اور بھی رپورٹس سامنے آ رہی تھیں اور حکومتی وضاحت کی عدم موجودگی کی وجہ سے خاص کر سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں ہونے لگیں۔

سماجی کارکن مریم منڈالاوی کا سوال تھا، ’رفیف ایک ڈاکٹر تھیں، انھوں نے اوور ڈوز کیسے کیا ہوگا؟‘ ان کے علاوہ دیگر بہت سے افراد نے بھی حکام کی وضاحت پر سوال اٹھائے ہیں۔

تارا کی ہلاکت کے بعد پھیلنے والے خوف و ہراس کی وجہ سے تینوں کی ہلاکتیں ایک دوسرے سے جوڑ دی گئیں حالانکہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں تھے۔

لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ آزاد خیال خواتین اور سوشل میڈیا کی اہم شخصیات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دنیا بھر کی نیوز ویب سائٹس تارا کا کیس اور ممکنہ طور پر ایک دوسرے سے منسلک قتل کے واقعات کی کوریج کے لیے پہنچ گئیں۔

مگر عراق میں دیگر مرد اور خاتون سماجی کارکنان کے قتل کے واقعات بھی ہوتے رہے تھے۔

جولائی میں جنوبی شہر بصرہ میں مظاہرین کا قانونی دفاع کرنے کے لیے مشہور ایک وکیل جبار کرم البہدلی کو بھی قتل کر دیا گیا تھا۔

تارا کے قتل سے دو روز قبل 46 سالہ سعود علی کو بھی بصرہ میں مار دیا گیا تھا۔ وہ شہر میں بنیادی سہولیات نہ ہونے کے خلاف مظاہروں میں شرکت کرتی تھیں۔

Suad al-Ali

Suad al-Ali

تارا کا قتل ذرا مختلف تھا۔ یہ منصوبہ بندی کے تحت ایک محفوظ علاقے میں سی سی ٹی وی کی آنکھ کے سامنے کیا گیا۔ 25 سالہ کارکن فاتن حتاب کہتی ہیں کہ ’میں سعود کے قتل کے بعد بہت ڈر گئی تھی۔ مجھے ڈر تھا کہ دیگر سماجی کارکنان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا۔ مگر حکومت نے اسے زیادہ اہمیت نہیں دی‘۔

ان کے مطابق ’تھوڑے دن کے بعد تارا کا قتل ہوا جو کہ وہ چنگاری تھی جو خواتین کو خوف میں لے گئی۔ ان کا قتل ایسے ہی تو نہیں ہو سکتا۔ بغداد میں ایک بیوٹیشن کو مارا جاتا ہے اور ان کی موت کے حالات پراسرار ہیں۔ ایک ہفتے بعد پھر ایک بیوٹیشن کو مارا جاتا ہے اور ان کی موت کے حالات بھی پراسرار ہیں‘۔

وزیراعظم نے ان اموات کو ایک دوسرے سے منسلک تو کر دیا مگر سرکاری بیانات نے کسی غیر قانونی عنصر ک امکان کو دبایا۔

پھر وزیرِ داخلہ نے کہا کہ تارا فریس کو ’ان شدت پسند گروہوں نے مارا ہے جنھیں ہم جانتے ہیں۔ انھیں گرفتار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انھیں عراقی عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا اور سزا دی جائے گی۔‘ ان کا اشارہ تھا کہ اس کیس کو جلد نبٹا دیا جائے گا۔

گیارہ اکتوبر کو ایک ٹی وی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’درست معلومات‘ نے ثابت کیا ہے کہ ایک ’تربیت یافتہ شدت پسند گروہ‘ نے تارا کا قتل کیا۔ انھوں نے گروہ کا نام نہیں لیا مگر ان کا کہنا تھا کہ اسی گروپ نے 2017 میں ابھرتے اداکار کرار نوشی کو بھی مارا تھا۔

کرار نوشی کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ شدت پسندوں کا نشانہ بنے

کرار نوشی کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ شدت پسندوں کا نشانہ بنے

انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ موٹرسائیکل جس پر تارا کے قاتل کو لے جایا گیا سی سی ٹی وی پر تلاش کر لی گئی ہے۔

تارا کے قتل کے بعد تفتیش کے دوران آیوش کو بھی سوالات کے لیے حراست میں لیا گیا تاہم وہ بےقصور پائی گئیں۔

‘اگلی باری تمہاری ہے’

جو لوگ تارا کو جانتے تھے انھیں فکر تھی کہ انھیں ان کے اندازِ زندگی کی وجہ سے مارا گیا۔

دیگر افراد جو معاشرے سے ذرا مختلف زندگی گزارتے ہیں ان کا کہنا کہ انھیں دھمکیاں ملتی ہیں۔

سابق ملکہِ حسن شیما قاسم نے العریبیہ ٹی وی کو بتایا کہ انھیں سوشل میڈیا پر دھمکیاں دی گئی ہیں۔ تارا کے قتل کے بعد انھوں نے اردن میں اپنے گھر سے ایک لائیو سٹریم میں کہا کہ ’میں ڈرتی نہیں۔ میری روح تھک گئی ہے‘۔

انھوں نے کہا کہ تارا کی موت پر آنے والے خوشی کے پیغامات نے ان کا دل خراب کر دیا اور انھوں نے کچھ عرصے کے لیے سوشل میڈئا چھوڑ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’لوگوں کی جانیں اتنی سستی کب ہو گئیں۔ ہم مشہور ہیں، مگر ہم طوائفیں تو نہیں جیسا کہ لوگ کہہ رہے ہیں‘۔

Shimaa Qasim

Shimaa Qasim

سنہ 2018 میں عراق کا ٹیلنٹ شو دی وائس جیتنے والی ایک اور معروف خاتون دموعا تاشین نے بھی اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔

سوشل میڈیا پر ایک کلپ میں انھوں نے کہا کہ ’میں نے اس ملک میں امید کھو دی ہے۔ کیا یہ وہی عراق ہے جس کا سب خواب دیکھتے تھے‘۔

دموعا تاشین

دموعا تاشین

یہ دونوں خواتین تارا کی تقریباً ہم عمر ہی ہیں۔ ان کی عمریں 20 کے پیٹے میں ہیں اور دونوں نے حالتِ جنگ میں ہی ہوش سنبھالا ہے۔

تارا سات سال کی تھیں جب امریکہ نے عراق پر حملہ کیا۔ یوٹیوب پر ایک انٹرویو میں تارا نے کہا تھا کہ ’مجھے آج بھی جنگ کی آواز یاد ہے۔‘ اس کے بعد فرقہ وارانہ فسادات میں ہزاروں شہری مارے گئے۔

بغداد میں ایک نوجوان لیکچرر لبنیٰ (فرضی نام) کہتی ہیں ’اس وقت خواتین کا کردار بہت پس منظر میں تھا‘۔

ان کے مطابق ’خواتین صرف جاری فساد سے بچنے کی کوشش کر رہی تھیں اور ان کے خاندانوں میں جو بچ گئے تھے ان کے ساتھ بس زندہ رہنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ان کے شوہر، ان کے بچے مارے گئے۔ انھیں اپنے گھر بار چھوڑنے پڑے۔‘

صحافی ساری ہسام کہتے ہیں ’بغداد کی گلیاں تباہ کر دی گئی تھیں۔ وہ افسوسناک اور مردہ معلوم ہوتی تھیں‘۔

سنہ 2003: بغداد پر فضائی حملے

 سنہ 2003: بغداد پر فضائی حملے

 ان کی تارا سے پہلی ملاقات 2014 میں ہوئی۔ یہ بغداد میں مسٹر اینڈ مِس ایلیگنس مقابلے میں رضاکارانہ طور پر کام کر رہے تھے۔

تارا 18 سال کی تھیں مگر انھوں نے پہلے ہی بہت دنیا دیکھی ہوئی تھی۔ انھوں نے سکول چھوڑا، شادی کی اور شوہر سے علیحدگی اختیار کی اور بیٹا کھو دینے والی ماں تھیں۔

سادی ہسام کہتے ہیں کہ وہ بہت خاموش طبع تھیں اور ان میں خود اعتمادی کی کمی تھی‘۔

اور پھر بھی وہ کچھ اور بن گئیں، ایک ایسا شخص جو زندگی گزارنے سے ڈرتی نہیں تھی۔

(ساری ہسام اپنی اور تارا کی تصویر دکھاتے ہوئے)

اسی سال یعنی 2014 میں ہی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے خلافت کا اعلان کیا۔ جلد ہی وہ اپنے ظالمانہ انداز اور شریعہ کی سخت ترین پابندی کے لیے جانے جانے لگے۔

دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں سے دور بھی خواتین کو فکر تھی کہ ان کی آزاریِ اظہارِ رائے چھین لی جائے گی۔

 

 

لبنیٰ نے بغداد چھوڑ دیا جہاں وہ ایسی چیزیں ہی نہیں کر سکتی تھیں جو انھیں پسند تھی جیسے وہ کپڑے پہننا جو وہ چاہتی تھیں۔ تارا کی موت سے ایک ہفتہ قبل ہی وہ بغداد لوٹی تھیں۔

تارا نے خود عراقی کردستان کے شہر اربیل میں رہنے کا فیصلہ کیا، جس کو بغداد سے زیادہ محفوظ سمجھا جاتا تھا لیکن وہ خطرے میں رہ رہی تھیں اور تنقید کا نشانہ بنتی رہیں۔

تارا کو طوائف کہا گیا۔ ان کے ساتھ کام کرنے والوں کو کہا گیا کہ وہ ’ذلالت‘ کر رہے ہیں لیکن وہ کام کرتی رہیں۔

تارا کی موت سے پہلے اور بعد میں بھی بہت خواتین کو دھمکیاں دی گئیں، جن میں زیادہ تر فنکار اور کارکن شامل تھے۔

کچھ میں تنبیہ تھی کہ ’اگلی جمعرات کو تمھاری باری ہے‘۔

بہت سے دلوں میں ڈر بس گیا۔ بعض خاندانوں نے اپنی بیٹیوں اور بیٹوں کو بھی ملک سے باہر بھجوا دیا، کم از کم کچھ دیر کے لیے۔

باقی وہیں رہے، لیکن اپنی سرگرمیاں روک کر سوشل میڈیا سے غائب ہو گئے۔

فاتن خلیل اپنے آپ کو حقوق نسواں کا علمبردار کہتی ہیں اور عراق میں نابالغوں کی شادیوں پر ٹی وی انٹرویو دینے کے بعد مشہور ہوئیں۔

تارا کی موت کے بعد فاتن نے عراق چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور اب ترکی میں پناہ ڈھونڈ رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں ان کو انسٹاگرام پر دھمکیاں ملی تھیں جن میں لکھا تھا ’اگلی باری تمھاری ہے‘۔.

فاتن خلیل

فاتن خلیل

ایک اور خاتون بھی بھاگ گئی تھیں جو کہ اپنا نام یا فن ظاہر نہیں کرنا چاہتیں۔

تارا کی موت سے کچھ عرصہ پہلے انھیں ایک دھمکانے والا خط وصول ہوا جس کے بعد انھوں نے جانے کا فیصلہ کیا اور اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس ختم کر دیے۔

ان پر جارحانہ تبصرے آ رہے تھے جیسے کہ ’جو تم کر رہی ہو وہ حرام ہے‘۔ ان ۔کے والدین کو لگا کہ اگر وہ معاملہ ٹھنڈا ہونے تک شہر چھوڑ دیں تو بہتر ہو گا

وہ کہتی ہیں ’بغداد تنگ کرتا ہے، تھکا دیتا ہے، خطرے میں ڈالتا ہے، لیکن مجھے اس شہر سے محبت ہے۔‘

ستّر سال سے زیادہ عمر کی ہنا ادوار ایک عراقی کارکن ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ 2017 میں دولت اسلامیہ کی شکست کے بعد کچھ بدلاؤ آیا۔ ملک واپس معمول پر آنے لگا اور خواتین زیادہ نظر آنے لگیں۔

لیکن کچھ گروہ، جن کا انھوں نے نام نہیں لیا، اس سے خوش نہیں تھے۔ انھیں سماجی زندگی سے عورتوں کا خاتمہ چاہیے تھا۔

انھوں نے یاد کرتے ہوئے کہا ’مجھے کبھی بھی وہ آتش بازی نہیں بھولے گی۔ نئے سال کی پہلی رات کو عراق کے مختلف شہروں کے آسمانوں میں رنگ بھرا تھا۔
مرد، عورتیں اور بچے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ لوگ پُرامید ہو گئے تھے‘۔

ہنا ان انتخابات کی بات کرتی ہیں جو کہ مئی 2018 میں دولت اسلامیہ کے سقوط کے بعد پہلے تھے۔ وہ کہتی ہیں کہ اس میں خواتین کی شراکت زیادہ تھی باوجود ایسے مردوں کی جانب سے ہراس اور گالیوں کے جو اشتہارات پر ہنستی ہوئی پرعزم عورتوں کو دیکھ کر ناراض تھے۔

ہنا کہتی ہیں اسی دوران جنسی مواد پر مبنی ویڈیوز بھی لیک ہوئیں جن کا مقصد خواتین امیدواروں کو سیاسی میدان سے ہٹانا تھا۔ تاہم آخر میں عراقی پارلیمان میں ایک چوتھائی سے زیادہ خواتین تھیں، جو کہ امریکہ سے بھی زیادہ ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’عورتوں نے ہر چیز میں حصہ لیا ہے، چاہے وہ کرپشن کے خلاف احتجاج ہو یا کسی گیلری کا افتتاح ہو۔‘

پروفیسر لبنیٰ کہتی ہیں ’لیکن معاشرہ اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے‘۔

جب لبنیٰ بغداد لوٹیں تو انھوں نے دیکھا کہ زندگی بدل گئی تھی، عورتیں عوامی مقامات پر زیادہ نظر آ رہی تھیں۔

لبنیٰ کہتی ہیں ’غیر سرکاری اداروں نے عورتوں کو عوامی مقامات پر واپس لانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ عورتوں نے اپنی بحالی جدوجہد کے ذریعے حاصل کی ہے‘۔

عورتوں کے کپڑوں سے کافی کچھ ظاہر ہو جاتا ہے۔ بغداد کے مرکزی علاقے المنصور میں لبنیٰ ٹی شرٹ اور جینز پہنتی ہیں۔ الصدر شہر میں وہ عبایہ پہنتی ہیں۔

کردستان کے علاقے سلیمانیہ میں وہ ایسا ہی محسوس کرتی ہیں جیسا کہ استنبول میں، جہاں کوئی عورتوں کے کپڑوں کو نہیں دیکھتا۔

لبنیٰ کہتی ہیں ’جو اب ہو رہا ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عورتیں اس سے زیادہ جگہ لے رہی ہیں جتنی عوام برداشت کرنے کو تیار ہے۔ وہ عورتوں سے ڈرتے ہیں‘۔

مستقبل

تارا کی موت کے سات مہینے بعد بھی اس کے قاتلوں کو پکڑا نہیں جا سکا ہے۔

یہ معاملہ جو کہ عراقی اخبارات کے صفحہ اول پر تھا اب بھلایا جا چکا ہے۔

جو ان کی موت سے سب سے زیادہ متاثر بھی ہوئے تھے ان کے لیے بھی زندگی آگے بڑھ رہی ہے، جیسے ہمیشہ بڑھتی رہی ہے ملک کے تمام امتحانات کے باوجود۔

جیسے کہ ساری حسام کا کہنا ہے ’ہم عراقی بہت خوفناک حالات سے گزرے ہیں۔ ہم نے صرف مستقبل کے بارے میں سوچنا سیکھ لیا ہے‘۔

(اوپر: تارا فریس کی قبر)

عراق میں غیر حل شدہ قتلوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ تارا کو کس نے قتل کیا اور کیوں، اس سے منسلک بہت کہانیاں ہیں۔

ہنا ادوار کا کہنا ہے کہ تارا کے قریبی دو نوجوانوں پر ان کے قتل کا الزام لگایا گیا لیکن فروری میں ثبوت کی کمی کی وجہ سے ان کو رہا کر دیا گیا۔ اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

وہ کہتی ہیں ’عراق کے باقی جرائم کی طرح یہ مقدمہ بند ہو جائے گا اور مجرم کی شناخت کبھی نہیں ہو گی۔ مجھے اس عدم تحفظ پر غصہ آتا ہے اور دکھ ہوتا ہے‘۔

بغداد کے النہرین یونیورسٹی میں قومی تحفظ کے پروفیسر حسین علوی کہتے ہیں کہ معاملہ پیچیدہ ہے۔ ان کا کہنا ہے شاید قتل کے وقت سے سمجھا جا سکے کہ اس کو حل کیوں نہیں کیا گیا۔

’ان کو ایک عبوری دور میں قتل کیا گیا جب حکومت بدلنے والی تھی‘۔

تارا کی موت کے ایک مہینے بعد عراقی پارلیمان نے نئے وزرا تو مقرر کر دیے لیکن داخلہ، دفاع اور قانون کی وزارتیں خالی رہیں۔

اب بھی وزیر اعظم عادل عبدالمہدی وزیر داخلہ کا عہدہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے ’ہماری کوشش ہو گی کہ ہتھیار صرف ریاست کے ہاتھوں میں ہوں۔ ہم اس عدم تحفظ کے ماحول کو ختم کریں گے‘۔

جب سے تارا کو قتل کیا گیا ہے، صرف ایک شخص کو حکام کی جانب سے بات کرنے کا اختیار ہے، میجر جنرل سعد معان اور انھوں نے اس معاملہ پر بات کرنے سے انکار کر دیا۔

علوی کہتے ہیں ’ہمیں اس کی عادت ہے کہ سکیورٹی حکام جاری تحقیقات کہ نتائج نہ بتائیں۔ صرف دو ہی چیزیں ہو سکتی ہیں، یا تو مجرم کی شناخت نہیں ہوئی یا پھر نام ابھی تک عوام کے سامنے نہیں لایا گیا‘۔

ہنا ادوار کہتی ہیں وزارت داخلہ پر کسی قسم کا دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ ’ایسے قتلوں کے پیچھے بھیانک راز ہوتے ہیں۔‘ انھوں نے قاتلوں کے لیے ’بھوت‘ کا لفظ استعمال کیا۔

حفاظتی حالات بہتر کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، لیکن مرد اور عورت دونوں قتل بھی ہوتے جا رہے ہیں۔

سنہ 2018: بغداد میں گشت کرتی عراقی وفاقی پولیس

سنہ 2018: بغداد میں گشت کرتی عراقی وفاقی پولیس

تارا کی موت کے بعد 12 اکتوبر کو ایک نوجوان لڑکے کو ہم جنس پرستی کے الزام پر قتل کر دیا گیا۔ دو فروری 2019 کو 51 سالہ عراقی ناول نگار علا مشذوب کو کربلا میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

لیکن اس عدم تحفظ کی وجہ سے لوگوں کی زندگیوں کے معمولات نہیں رکتیں۔

نوجوان پروفیسر لبنیٰ کہتی ہیں ’پارلر حسب معمول کھلے ہیں، زندگی چل رہی ہے، لوگ بازاروں میں جا رہے ہیں اور پارٹی کر رہے ہیں‘۔

انھوں نے دیکھا ہے کہ ’بغداد کی ثقافت میں پھر سے جان آ رہی ہے‘۔ لبنیٰ اب سوشل فورمز اور حقوق نسواں کے گروہوں کا حصہ بن رہی ہیں۔

لیکن کچھ لوگوں کی زندگی کا راستہ بالکل بدل گیا ہے۔

فاتن کہتی ہیں ’اگرچہ میں نے اس کو کبھی فالو نہیں کیا، تارا نے کسی نہ کسی طرح میری زندگی بدل دی ہے‘۔

انھوں نے ایک ٹی وی انٹرویو کا کلپ اپنے سوشل میڈئا صفحات پر شیئر کیا۔ ’ایک بار میں نے ان کے دفاع میں بھی لکھا تھا‘۔

فاتن ابھی بھی ترکی میں اپنی پناہ کی درخواست کے جواب کا انتظار کر رہی ہیں۔ اس وقت وہ ایک آن لائن کاروبار چلاتی ہیں جس میں وہ ترک کپڑے عراقیوں کو بیچتی ہیں۔

مگر فاتن کے لیے یہ زندگی اور عراق چھوڑنا آسان نہیں تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے لگتا ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کو بچانے میں ناکام ہے۔ صرف اہم شخصیات کی حفاظت کی جاتی ہے۔ ہمیں صرف ووٹوں کے کیے یاد کیا جاتا ہے‘۔

ان کے مطابق ’میں یہاں اپنے خیالات کا اظہار کھل کر کرتی ہوں۔ وہاں مجھے ایک ایک لفظ سوچ سوچ کر بولنا پڑتا تھا۔ میں نے کبھی دین یا سیاست پر تنقید نہیں کی۔

میں عراق میں مرنا نہیں چاہتی۔ میں چاہتی ہوں لوگ میرے بارے میں برے کلمات کہنا بند کریں۔ ہم ایک اچھے ماحول میں پیدا نہیں ہوئے۔ ہم نے قتلِ عام، دھماکے دولتِ اسلامیہ، نقل مکانی سب دیکھ لیا ہے‘۔

بغداد ایک ٹائم بم کی طرح ہے۔ بظاہر یہ پرسکون اور پرامن دکھائی دیتا ہے اور پھر
کچھ بڑا ہو جاتا ہے۔ ہم اس کے عادی ہو گئے ہیں‘۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *