تہران: وزیراعظم عمران خان کی ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات

وزیراعظم عمران خان ایران کے صدر حسن روحانی کے ساتھ ملاقات کے لیے دارالحکومت تہران میں قائم صدارتی محل سعدآباد پیلس پہنچ گئے جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ملاقات میں دونوں سربراہان نے باہمی تعلقات اور علاقائی امور پر بات چیت کی اس کے ساتھ انہوں نے مختلف شعبوں میں باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس قبل وزیراعظم کے پہنچنے پر استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی جس میں میں دونوں ممالک کے ترانے بجائے گئے اور وزیراعظم عمران خان نے گارڈ آف آنر کا معائنہ بھی کیا۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے وزیراعظم اور ان کے وفد کا استقبال کیا اور ایرانی کابینہ کے اراکین نے بھی وزیراعظم عمران خان سے مصافحہ کیا۔

خیال رہے وزیراعظم گزشتہ روز 2 روزہ سرکاری دورے پر ایران پہنچے تھے جہاں ان کا استقبال وزیر صحت ڈاکٹر سعید نمکی نے کیا تھا۔

وزیراعظم نے تہران پہنچنے سے قبل مشہد میں مختصر ٹھہراؤ کیا تھا جہاں صوبہ خراسان رضوی کے گورنر علی رضا حسینی نے عمران خان کا استقبال کیا تھا۔

اس کے علاوہ وزیر اعظم نے اپنے وفد کے ہمراہ حضرت امام رضا کے مزار سمیت دیگر مقدس مقامات کا دورہ بھی کیا تھا۔

وزارت عظمیٰ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری، وزیر بحری امور سید علی حیدر زیدی، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، معاون خصوصی برائے بیرون ملک مقیم سید ذوالفقار عباس بخاری، خصوصی معاون برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ظفر اللہ مرزا اور خصوصی معاون برائے پیٹرولیم ندیم بابر بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔

دونوں ممالک کے تعلقات

2018 میں انتخابات کے نتیجے میں منصب سنبھالنے کے بعد سے وزیراعظم کا ایران کا یہ پہلا دورہ ہے جو پاکستان اور ایران کے تعلقات کے 70 سال مکمل ہونے کے موقع پر کیا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات کے درمیان سرحد پر سیکیورٹی کی صورتحال کے باعث کبھی کبھی تلخی ہوجاتی ہے۔

تاہم نومبر 2017 میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ ایران سے ان تعلقات میں خوشگوار دور کا آغاز ہوا لیکن وہ بھی زیادہ عرصے تک جاری نہ رہ سکا۔

اور حال ہی میں بلوچستان کے علاقے اورماڑہ میں ہونے والے واقعے کے سبب پاکستان اور ایران کے مابین تعلقات میں سرحدی حصے پر سیکیورٹی کے مسائل کے پیشِ نظر سرد مہری ہے۔

وزیراعظم کے دورے سے ایک روز قبل پاکستان نے بلوچستان کے علاقے اورماڑہ میں دہشت گردی کے نتیجے میں 14 سیکیورٹی اہلکاروں کے قتل پر ایران سے احتجاج کرتے ہوئے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

وزارت خارجہ نے اس سلسلے میں احتجاجی مراسلہ اسلام آباد میں قائم ایرانی سفارتخانے کو بھیجا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کے لیے پہلے بھی ایران سے کئی مرتبہ مطالبہ کیا جاچکا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق تہران میں وزیراعظم کے مذاکراتی ایجنڈے میں بارڈر سیکیورٹی کے مسائل سر فہرست ہوں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *