ذوالفقار علی بھٹو ،عمران خان ،نوازشریف اور عثمان بزدار

نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )


وفاقی کابینہ میں تبدیلی تجزیوں اور تبصروں کا اہم موضوع ہے۔ ارشاد احمد عارف صاحب نے روزنامہ 92نیوز میں’’ کعبہ میرے پیچھے ہے، کلسیامیرے آگے‘‘کے عنوان سے لکھا: کابینہ میں ردوبدل پر وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کا اختیار ہے اور عمران نے اپنا یہ اختیار استعمال کرکے برا کیا نہ کچھ عجیب۔ اگر ٹیم کا کوئی رکن کپتان کی توقعات پر پورا نہیں اترتا اور شائقین بھی بور ہورہے ہیں تو تبدیلی میں مضائقہ کیا ہے؟ لیکن اس سے کپتان کی مردم شناسی کے حوالے سے سوال تو اٹھیں گے۔ ایک دوکھلاڑیوں کی حد تک بھی معاملہ درست ، لیکن اگر آدھی سے زیادہ ٹیم تبدیل کرنی پڑے اور اس میں اوپننگ بیٹسمین اور اٹیک باؤلر بھی شامل ہوں، تو ’’مضائقہ‘‘ تو ہوگا۔ ان 8ماہ میں قومی معیشت سمیت مختلف شعبوں میں جو بربادی ہوئی، عام آدمی کی زندگی جس طرح اجیرن ہوگئی، اس کی ذمہ داری کس پر ہوگی؟ توقعات پر پورا نہ اترنے والے کھلاڑیوں کی تبدیلی کپتان کا حق ہے، لیکن اگر خود کپتان بھی اپنے چاہنے والوں کی توقع پر پورا نہ اترے تو اسے بھی تبدیل ہونا چاہیے یا نہیں۔۔۔
ذوالفقار علی بھٹو نے چھ آٹھ ماہ میں کابینہ کے کئی ا رکان حتیٰ کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو بدلا۔1971ء میں وفاقی اور چاروں صوبوں کی کابینہ کا حصہ بننے والے اہم رہنما 1977ء میں شریکِ سفر نہ تھے۔ سیاسی ضرورت کے مطابق نئے چہرے متعارف ہوئے، کنونشن لیگ اور قیوم لیگ سے وابستہ سیاستدان پیپلز پارٹی اور حکومت کا حصہ بنے اور جے اے رحیم، میاں محمود علی قصوری، میر علی احمد خان تالپور، میر رسول بخش تالپور، عبدالحمید جتوئی، محمد حنیف ر امے ، غلام مصطفےٰ کھر، مختار رانا اور بھٹو کے دیگر متوالے ، جیالے، بڑے بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے، بھٹو صاحب کی اس ’’سُنت‘‘ پر تو کپتان نے بھی عمل درآمد میں تاخیر نہ کی تھی۔ موروثی سیاست ، ابن الوقت اور موقع پرست سیاستدانوں کے خلاف نئی سیاست کے نعرے پر جس جماعت کی بنیاد رکھی گئی تھی، اس میں ابن الوقت اور موقع پرست موروثی سیاستدان گھس آئے، تو کپتان کا کہناتھا، کرپٹ معاشرے میں فرشتے کہاں سے لاؤں۔۔۔؟ جیالے اور متوالے پیپلز پارٹی سے نکال باہر کئے گئے، تو 1977کے بحران میں اور اس کے بعدخود بھٹو صاحب بھی کس انجام سے دوچارہوئے؟ بھٹو صاحب کو کپتان کے لیے بطور مثال پیش کرنے والے فاضل کالم نگار کیا کپتان کے لیے بھی بھٹو صاحب جیسا انجام چاہتے ہیں؟
اسد عمر نے بھی وہی راستہ چنا جو اسحاق ڈار اور اسکے پیشرو وزراء خزانہ کامتعین کردہ تھا۔ لیکن اسحاق ڈار نے تو فوراً ہی آئی ایم ایف سے رجوع کرلیا تھا، جس سے پاکستان کی دم توڑتی ہوئی معیشث کو نئی زندگی ملی اور اسحاق ڈار نے صرف دوسال میں آئی ایم ایف کا پروگرام مکمل کرکے اس سے نجات حاصل کرلی۔ ڈالر 112روپے سے 98روپے پر آگیا۔ گروتھ ریٹ 5.38تک پہنچ گیا۔ بجلی کا بحران ختم ہوا، انفراسٹرکچر تیزی سے مکمل ہونے لگا۔ اسد عمر میں قوتِ فیصلہ کی کمی، انہی کونہیں، قومی معیشت کو بھی لے بیٹھی۔ ویسے اس میں کچھ دخل کپتان کے وژن کا بھی تھایا نہیں؟
اگر حفیظ شیخ بھی عمران خان کی توقعات پر پورا نہ اترے، نہ معیشت کو درست ٹریک پر لاسکے تو یہ ان قوتوں کے لیے دھچکا ہوگا، جن کا حفیظ شیخ حسنِ انتخاب ہیں۔ تو گویا حفیظ شیخ، عمران خان کا نہیں، کچھ اور قوتوں کا حسنِ انتخاب ہیں۔۔۔؟ اس حوالے سے انصار عباسی کی سٹوری بھی انکشاف انگیز ہے۔جس کے مطابق حفیظ شیخ کا نام وزیر اعظم سے آرمی چیف کی ملاقات میں فائنل ہوا۔
تحریک انصاف اور عمران خان کے لیے معیشت سے بھی بڑا چیلنج پنجاب ہے جس کے معاملات اب تک سدھرنے میں نہیں آرہے۔۔۔ شیندیہ ہے کہ ریاست کے اہم ادارے عثمان خان بزدار کی پرفارمنس پر تحفظات کا اظہار کرچکے۔ اخبار نویسوں کے ایک منتخب گروپ نے اپنے کانوں سے ریاستی تحفظات سنے، جس میں اتفاق سے یہ کالم نگار بھی شامل تھا۔ گویا ریاست کے اہم ادارے سیاسی حکومتوں کی کارکدگی کی مانیٹرنگ کا اپنا نظام رکھتے ہیں اور اخبار نویسوں کے سامنے اپنے تحفظات کا اظہاربھی ضروری سمجھتے ہیں۔
مگر خان صاحب ابھی تک ڈٹے ہوئے ہیں اور حوالہ میاں نوازشریف کی سیاست میں آمداور پرفارمنس کا دیتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ1985سے1988کے دوران بطور وزیر اعلیٰ نوازشریف کی پرفارمنس بہت بہتر تھی۔ بعض لوگوں کو اس پر فارمنس کو مثالی کہنے میں بھی عار نہیں کہ میاں صاحب کے ارد گرد قابل اور ذہین بیورو کریٹس کے علاوہ گرم سرد چشیدہ سیاستدانوں اور صحافیوں کا جمگھٹا تھا اور کائیاں نوازشرف ان سے رہنمائی کے طلب گار۔ نوازشریف شرمیلے تھے۔ مگر آگے بڑھنے اور کچھ کر دکھانے کی خواہش سے مغلوب شریف خاندان کی میڈیا مینجمنٹ ہمیشہ مثالی رہی اور دوسروں کو مقصد براری کے لیے استعمال کرنے کی صلاحیت حیرت انگیز ۔ حُسن وہ سوتن بھی جس کی تعریف کرے، اور آپ بھی بطور وزیر اعلیٰ نوازشریف کی کاکردگی اور مردانِ کار کے انتخاب کی صلاحیت کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہے۔ اگرچہ دوسروں کو مقصدبر اری کے لیے استعمال کرنے کا طعنہ دینا بھی ضروری سمجھا۔ لیکن کیا وہ تینوں بار بطور وزیر اعظم بھی آگے بڑھنے اور کچھ کردکھانے کی خواہش سے مغلوب نہیں رہے؟۔

 

ذوالفقار علی بھٹو ،عمران خان ،نوازشریف اور عثمان بزدار” پر ایک تبصرہ

  • اپریل 23, 2019 at 3:27 AM
    Permalink

    السلام علیکم برائے مہربانی محمد بلال غوری صاحب کے کالم اور عبداللہ طارق سھیل صاحب کے کالم شائع کرنے شروع کریں۔ شکریہ
    Tariq sheikh from vienna Austria

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *