پلاسٹک بیگ سے نجات ممکن ہے

چند دن پہلے فلپائن کے ساحل پر ایک وہیل مچھلی مردہ حالت میں پہنچی۔ملحقہ شہر میں قائم مقامی میوزیم کے اہلکاروں نے سب سے پہلے اس واقعے کی اطلاع ذرائع ابلاغ کوپہنچائی،اوروہیل مچھلی کو اپنے قبضے میں لے لیا۔عجائب گھرکی انتظامیہ نے متعلقہ شعبے کے کوبھی ریسرچ کے لئے فوری طورپر مدعو کیا۔محققین نے اس مچھلی کے پوسٹ مارٹم کے بعد جواس کی موت کی وجہ بیا ن کی وہ کافی پریشان کن ہے۔مردہ وہیل کے جسم کے اندر سے چالیس کلوگرام پلاسٹک شاپنگ بیگ ملے ہیں جنہیں عرف عام میں شاپرکہاجاتاہے،یہی شاپر ممکنہ طور پراس مچھلی کی موت کاسبب بیان کیئے گئے ہیں۔گرچہ بلحاظ حجم وہیل مچھلی اس کرہ ارض میں پائی جانے والی مخلوقات میں سب سے بڑی ہوتی ہے ۔مگرپھر بھی ایک من پلاسٹک بیگ کی اس کے معدے میں موجودگی بہت سارے سنجیدہ سوالات کوجنم دیتی ہے۔یہ پہلاموقع نہیں ہے کہ پلاسٹک شاپنگ بیگ کسی وہیل مچھلی کی موت کا سبب بنے ہوں۔ماہرین کے مطابق گزشتہ برس بھی ایک وہیل مچھلی اس وجہ سے ہلاک ہوگئی تھی کہ اس کے جسم کے اندر80شاپر چلے گئے تھے۔
سمندر میں بڑھتی ہوئی پلاسٹک کی مقداربے حد سنجیدہ مسئلہ بن چکی ہے۔ماحولیاتی آلودگی زمین پر آباد تمام جانداروں کے لئے جان لیوامعاملہ بنتی جا رہی ہے۔اس ضمن میں پلاسٹک بیگ یوں درد سر بن رہے ہیں کہ یہ صدیوں تک یوں کے توں دھرتی ساگرمیں موجود رہتے ہیں،گلنے سڑنے کا نام ہی نہیں لیتے۔نہ ہی مٹی میں ملتے ہیں اور نہ ہی پانی میں حل ہوتے ہیں۔اگر ہم اپنے کوڑے دان جائزہ لیں تواس میں موجود اشیاء کی واضح اکثریت چند سالوں میں مٹی یا پانی میں حل ہو جاتی ہے۔بہت سارا کوڑاکرکٹ تو زمین کی زرخیزی کا سبب بھی بنتا ہے ۔فضلہ وغیرہ کھاد کا کام کرتا ہے۔آپ یہ جان کر شاید حیران ہوں گے اور ممکن ہے کہ پریشان بھی ہوجائیں،کہ پلاسٹک بیگ کوگلنے سڑنے اور حل ہونے میں ایک ہزارسال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔
جی ہاں!پلاسٹک بوتل یا شاپرممکنہ طور پرایک ہزار سال کے طویل عرصہ تک زمین پرآلودگی کا سبب بن سکتے ہیں۔پلاسٹک بوتل یا دیگراشیاء کوگلنے سڑنے لے لئے یوں توپلاسٹک شاپنگ بیگ سے بھی زیادہ وقت درکار ہے،مگر یہ چھوٹامسئلہ اس لئے ہے کہ عمومی طور پر پلاسٹک کی دیگر اشیاء بارباراستعمال ہوتی ہیں،بوتلیں ری سائیکل کرلی جاتی ہیں،جبکہ شاپر صرف ایک مرتبہ استعمال ہو کر ہماری زمین میں آلودگی کا حصہ بن جاتے ہیں،وہ بھی ایک انتہائی طویل مدت کے لئے ۔
یہاں سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیاپلاسٹک بیگ سے عملی طورپرنجات ممکن ہے ؟جی ہاں!بالکل ممکن ہے ۔اس بارے میں آپ کو ایک تازہ مثال بیان کرنا چاہتا ہوں۔میرا برسوں سے لاطینی امریکہ میں باالعموم اور چلی میں باالخصوص آناجانارہتاہے ۔کئی سال تک وہاں قیام پذیر بھی رہا۔اس نئے سال کی ابتدا کے ساتھ ہی چلی کی حکومت نے پلاسٹک شاپنگ بیگ پر پابندی عائد کر دی ۔اس بیان کا مقصد یہ بھی ہے کہ ہم عملی طورپر ان مسائل سے کیسے نمٹیں گے جو شاپرپر پابندی کی صورت میں پیدا ہوتے ہیں۔محسوس ہوتا ہے کہ ہم اس کے بہت عادی ہوگئے ہیں۔نیز یہ سوال بھی اہم ہے کہ اس پابندی پر عمل درآمد یقینی کیسے بنایا جاسکتا ہے؟اس بابت چلی کی حکومت نے پہلا قدم تو یہ اٹھایا کہ تمام بڑے شاپنگ سینٹرزاورسپرسٹورزکوپابندکردیا کہ وہ پلاسٹک بیگ استعمال نہیں کریں گے،شاپرمیں سودابیچناممنو ع قراردے دیاگیا،متبادل کے طور پرکپڑے اورپولیسٹرکے تھیلے قیمتاًفروخت ہونے لگے ہیں۔گھرکا سودا سلف لانے کے لئے ایک بار خریدا ہوا کپڑے کا تھیلاباربار استعمال ہوتارہتاہے،ظاہرہے ہر بار خریداری کرتے وقت آپ نیا تھیلا نہیں خریدیں گے،چونکہ بہرحال پیسے ضائع ہونے کا احساس ہوتاہے ۔اس لیے شاپنگ پر نکلتے وقت چلی میں اب لوگ تھیلاساتھ لے جانے لگے ہیں۔جیساکہ شاپر کی منحوس ایجاد سے پہلے ہمیشہ ہوتاتھا۔میرے خیال میں ماحول کے تحفظ کی یہ بہت ہی تھوڑی قیمت ہے جو ہمیں بخوشی اداکرنی چاہیئے۔
آپ اندازہ لگائیں کہ ہمارے پورے ملک میں ایک دن میں کتنے پلاسٹک بیگ استعمال ہوتے ہیں،اور پھرہرروز یہ کیسے آلودگی میں اضافہ کرتے چلے جاتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمیں پلاسٹک شاپنگ بیگ کی عادت اپنائے کوئی زیادہ عرصہ نہیں گزراہے۔میری مرحومہ پھوپھی یہ شکوہ کیا کرتی تھیں کہ جب سے یہ ناہنجارشاپرآئے ہیں چیزوں سے برکت ہی اٹھ گئی ہے۔جیسے شاپر تیز ہوا میں اڑتے پھرتے ہیں،ویسے ہی ان میں لایاگیاسوداسلف بھی غتربود ہوجاتاہے،فوراًہی غائب ہوجاتاہے،ہوامیں اڑجاتاہے ۔دارلحکومت سنتیاگومیں شاپنگ مال سے ایک جیکٹ خریدی تو کیشئرنے مجھ سے سوال پوچھاکہ کیا آپ کپڑے کا تھیلا خریدنا پسند کریں گے؟میں نے سوچاصرف جیکٹ ہی تو ہے ہاتھ میں پکڑکرپیدل نکلا تومحسوس کیاکہ اکثرلوگ سوداسلف ہاتھ میں پکڑے ہی لے جارہے تھے،اور وہ سب کچھ پہلے س ہی پیک شدہ ہوتاہے۔
جاپان میں شاپرکے استعمال میں کمی کے لئے شاپنگ سنٹرزشاپرکی قیمت الگ سے وصول کرنے لگے ہیں تاکہ لوگ کم سے کم پلاسٹک بیگ میں اپنا سامان لے جانے کی کوشش کریں۔عہدساز صحافی منوّبھائی اکثر ایک افریقی ضرب المثل دہرایاکرتے تھے،کہ یہ زمین ہم نے اپنے بزرگوں سے ورثے میں نہیں پائی بلکہ یہ دھرتی آنے والی نسلوں کی ہمارے پاس امانت ہے۔گزشتہ برس برطانوی حکومت یہ چشم کشا رپورٹ شائع کی ہے کہ آنے والے دس برسوں میں سمندر میں پلاسٹک کی مقدار آج کے مقابلے میں تین گنامزید بڑھنے کااندیشہ ہے ،اگراس بارے میں کوئی فوری اور سنجیدہ قدم نہیں اٹھایاگیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *