’آج کل کی پاکستانی فلموں میں جان ہی نہیں ہے‘

سنیما ہماری زندگی کا ایک ایسا حصہ ہے جہاں ہم پردۂ سیمیں پر زندگی سے بڑی کہانیاں دیکھتے ہیں، ایسی کہانیاں جس کی شاید ہم اپنی زندگی میں کمی یا خواہش محسوس کرتے ہیں۔

ایک وقت تھا جب پاکستان میں کوئی بڑی فلم چلتی تو شہروں میں رونق ہو جاتی تھی۔ تانگوں پر لاؤڈ سپیکر نصب کر کے فلم کی تشہیر کی جاتی اور شہر بھر میں پوسٹر اور ہورڈنگز کی بھرمار ہوتی۔

سنیما گھروں کے باہر میلے کا سماں ہوتا جہاں دیگر اشیا کے ساتھ ٹکٹ بلیک میں بکا کرتے تھے اور سنیما کے اندر کی تو دنیا ہی الگ ہوتی تھی۔

29 برس تک راولپنڈی کے سنیما گھروں میں پروجیکشنسٹ کی ذمہ داری نبھانے والے مظہر خان اس منظر کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں ’بڑے سنیما کی کیا ہی بات تھی۔ اس میں فلم دیکھنے کا الگ ہی مزا تھا۔ جب محمد علی سکرین پر نمودار ہوتا تو ہال میں اتنی سیٹیاں بجتیں کہ مزا آ جاتا۔ ہم بھی خوب مزے لے کر فلم چلاتے اور بار بار خود بھی دیکھتے۔‘

اب پاکستانی فلم انڈسٹری کے زوال اور ڈیجیٹل سکرینز آنے کی وجہ سے جہاں بڑے سنیما گھروں کا ماحول وہیں مظہر خان جیسے پروجیکشنسٹ کی زندگی بھی بدل گئی ہے۔

پاکستانی فلم انڈسٹری کے زوال کے ساتھ جہاں پر کئی مصنفین، اداکاروں، ہدایتکاروں اور سنیما مالکان نے فلمی دنیا کو چھوڑ کر دیگر پیشے اپنائے وہیں شاید بہت کم لوگوں نے جاننا گوارا کیا کہ وہ لوگ جنھوں نے پروجیکشن روم کے اندھیروں میں اپنی زندگیاں گزار دی ہیں ان پر کیا گزری۔

یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے پاکستانی سنیما کا سنہری دور اپنی آنکھوں سے زنگ آلود ہوتے دیکھا اور جنھیں شاید آپ اور میں نہیں جانتے۔

مظہر خان

شاید بہت کم لوگوں نے جاننا گوارا کیا کہ جنھوں نے پروجیکشن روم کے اندھیروں میں اپنی زندگیاں گزار دیں ان پر کیا گزری

پردہ سیمیں پر 29 سال سے فلمیں دکھانے والے مظہر خان سنہ1983 میں مظفر گڑھ سے راولپنڈی آئے اور 1990 میں راولپنڈی کے صدر علاقے میں واقع سیروز سنیما میں بطور آپریٹر فلمیں چلانے کا کام شروع کیا۔

مظہر خان اپنے زمانہِ شاگردی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں ’یہاں پر میرا دوست سجاد کام کرتا تھا۔ میں نے اسے کہا کہ میں روز تم سے ملنے آتا ہوں، کیوں نہ مجھے یہ کام سکھا دو۔ اس نے آگے سے کہا کہ اس کام میں کچھ نہیں پڑا، ہم بھی سیکھ کر پچھتا ہی رہے ہیں۔‘

اگرچہ مظہر خان ماضی کے 35 ایم ایم کے پروجیکٹر پر چلنے والی فلموں کے زمانے سے شاکی نظر آتے ہیں کہ کس طرح کم تنخواہ میں خاندان کو پالنا اور بچوں کو تعلیم دلانا ان کے لیے نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن تھا تاہم ساتھ ہی وہ حالیہ دور کے ڈیجیٹل پروجیکٹر سے پُرامید ہیں کیوںکہ اب آپریٹرز کی تنخواہیں ماضی سے قدرے بہتر ہیں۔

سیروز سنیما

مظہر خان نے 1990 میں راولپنڈی کے صدر علاقے میں واقع سیروز سنیما میں بطور آپریٹر فلمیں چلانے کا کام شروع کیا

پاکستانی فلم انڈسٹری کے سنہری دور کو یاد کرتے ہوئے مظہر خان نے بتایا کہ ’ایک وقت یہاں پر ندیم ،محمد علی اور وحید مراد کی فلمیں چلتی تھیں تو سنیما ہال بھر جایا کرتے تھے۔ اتنی تعداد میں لوگ فلمیں دیکھنے آتے تھے کہ ٹریفک سے سڑکیں بلاک ہو جاتی تھیں۔ لیکن اب نہ وہ لوگ رہے، نہ وہ اداکار، نہ ہدایتکار یا گلوکار رہے۔‘

مظہر کہتے ہیں کہ اگر اب وہ کسی سے پوچھتے ہیں کہ آپ فلم دیکھنے کیوں نہیں آتے تو وہ جواب میں کہتا ہے ’میں اپنے موبائل پر فلم ڈاؤن لوڈ کر کے کیوں نہ دیکھوں۔‘

مظہر خان سنیما کی ویرانیوں کی وجہ پاکستانی فلموں کے ’غیر معیاری‘ ہونے کو بھی قرار دیتے ہیں۔

’پرانی فلموں کی کہانی بہت اچھی تھی لیکن آج کل کی فلموں میں جان ہی نہیں ہے۔ اچھی فلمیں نہیں بنیں گی، اچھا ماحول اور گانے نہیں ہوں گے تو پاکستان کے تمام سنیما کھنڈر بن جائیں گے جیسے کہ پہلے ہی شبستان، موتی محل، ریالٹو، تصویر محل، ناز سنیما، نادر سنیما ٹوٹ گئے ہیں۔‘

مظہر خان

مظہر خان پُرامید ہیں کہ اگر پاکستانی ہدایتکار اچھی فلمیں بنائیں گے تو عوام بھی پھر سے سنیما گھروں کا رخ کرے گی

تاہم پاکستانی فلم انڈسٹری کے ماضی اور حال کی تمام مشکلات کے باوجود مظہر خان پُرامید ہیں کہ اگر پاکستانی ہدایتکار اچھی فلمیں بنائیں گے تو عوام بھی پھر سے سنیما گھروں کا رخ کرے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اسی امید کے ساتھ میں خواب دکھانے کے اس شعبے سے ابھی تک وابستہ ہوں۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *