افواہوں کے بعد پولیو مہم میں مشکلات کا سامنا

پشاور: پولیو ویکسین سے مبینہ طور پر بچوں کی طبیعت خراب ہونے اور حتیٰ کہ اموات کی افواہیں پھیلنے کے سبب پھیلنے والے خوف و ہراس کے سبب خیبرپختونخوا کے متعدد علاقوں میں ہزاروں افراد نے اپنے بچوں کو ویکسین پلانے سے انکار کردیا۔

رپورٹ کے مطابق پولیس بنیادی صحتی مرکز کو نقصان پہنچانے کے واقعے کی تحقیقات کررہی ہے اور اس سلسلے میں درجن مقدمے میں ایک شخص کو حراست میں لیا گیا جبکہ 12 افراد کو مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ گزشتہ روز پولیو مہم میں ڈیوٹی پر تعینات ایک پولیس اہلکار کو گولی ماردی گئی جبکہ بنوں اور شمالی وزیرستان میں پولیو کے 2 نئے کیسز بھی سامنے آئے۔

پولیو حکام کے مطابق ضلع چارسدہ کے مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں والدین نے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کردیا، ان کے مطابق پولیو ٹیم کے اراکین نے صبح 10 بجے اس وقت مہم ختم کردی جب کوئی بھی اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر تیار نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ پیر کے روز پشاور کے علاقے بڈھ بھیڑ میں چکر اور پیٹ درد کی شکایت پر کئی بچے ہسپتالوں میں لائے گئے تھے اور سینکڑوں بچوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال بھی پہنچایا گیا تھا جنہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا تھا۔

ڈاکٹرز کے مطابق یہ زیادہ تر نفسیاتی اثر کا معاملہ تھا کو بچوں پر اثر انداز ہوا، پولیو ویکسین سے بچوں کی اموات کی افواہیں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئیں اور پورا دن ہسپتال میں بچوں کو لایا جاتا رہا۔

ان افواہوں میں مزید ہیجان مساجد سے ہونے والے اعلانات نے پیدا کردیا جس میں اپنے بچوں کو پولیو ویکسین نہ پلانے کی تاکید کی گئی تھی اس اضطراب میں سوشل میڈیا پر ویکسینیشن کے خلاف وائرل ہونے والی ویڈیو سے مزید پیچیدگی پھیل گئی۔

دوسری جانب کوہاٹ میں پولیو مہم کے فوکل پرسن ڈاکٹر ندیم کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کے 6 ہزار 8 سو 98 واقعات رونما ہوئے جبکہ ایک لاکھ 5 ہزار افراد نے رضاکارانہ طور پر اپنے بچوں کو قطرے پلوائے۔

اس ضمن میں ایک عہدیدار ڈاکٹر محبت خان نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے پولیو کے قطرے سے پلوانے سے انکار کیا ان میں 65 فیصد افغان مہاجرین ہیں۔

اسکولوں کا پولیو کے قطرے پلوانے سے انکار

مذکورہ واقعات اور افواہیں سامنے آنے کے بعد پشاور میں اسکولوں نے پولیو ٹیمز کو طالبعلموں کو قطرے پلانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

آل پاکستان پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن پشاور کے صدر ڈاکٹر ذاکر شاہ اور نیشنل ایجوکیشن کونسل کے صدر نذر حسین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ویکسین کے مبینہ ری ایکشن کے بارے میں سن کر شدید حیرانی ہوئی اور ہمارے خیال میں ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسکول انتظامیہ والدین کا دباؤ برداشت نہیں کرسکتی اسلیے ہم بچوں کو اسکول میں پولیو کے قطرے پلانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

ڈاکٹر ذاکر شاہ کا کہنا تھا کہ اگر والدین گھروں پر اپنے بچوں کو ویکسین نہیں پلانا چاہتے تو نجی اسکول کسطرح والدین کی مرضی کے بغیر اپنے احاطے میں طالبعلموں کو پولیو کے قطرے پلوا سکتے ہیں۔

انہوں نے اس خوف کا اظہار کیا کہ اگر اسکول میں قطرے پلوانے کی صورت میں کوئی ری ایکشن ہوگیا تو والدین اسکولوں کو آگ لگا سکتے ہیں انہوں نے تجویز دی کہ پولیو ٹیمز اسکول کے اوقات کے بعد گھروں پر پولیو کے قطرے پلوانے کے لیے جائیں۔

دارالحکومت میں پولیو مہم مسائل کا شکار

دوسری جانب اسلام آباد کے شہری اور دیہی علاقوں میں بھی والدین نے پشاور میں ہونے والے واقعات کے بعد پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کردیا۔

شہری انتظامیہ کے مطابق پولیو ورکرز اور ٹیمز کو پولیو مہم کے پہلے روز مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، دیہی علاقوں میں تقریباً نصف والدین اور اسکولوں نے جبکہ شہری علاقوں میں35 سے 40 فیصد افراد نے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا۔

گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم گزشتہ کئی ماہ سے کامیابی کے ساتھ پولیو مہم جاری رکھے ہوئے تھے اور شہر میں چار ماہ سے پانی کے نمونوں کے پولیو ٹیسٹ کے نتائج منفی آرہے تھے۔

انہوں نے والدین اور اسکول انتظامیہ سے اپیل کی کہ پولیو مہم کے خلاف جھوٹی افواہوں کو سنجیدہ نہ لیں کیوں کہ یہ ایک سازش کے تحت پھیلائی جارہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جو افراد اپنے بچوں کو پولیو ویکسین پلانے سے انکار کریں گے ان کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے اور اس سلسلے میں مقدمہ بھی درج کیا جاسکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *