پانی میں مدھانی

اپنے دورئہ ایران کے دوران پاکستان کے وزیر اعظم نے فرانس کو جاپان کا ’’ہمسایہ‘‘ کہا۔ حیران کن بات تھی۔ چسکہ فروشی کے لئے زبردست سودا۔ منگل کی شام سات بجے سے رات بارہ بجے تک اس کا ٹی وی سکرینوں پر چرچا رہا۔سوال یہ بھی اُٹھے کہ پاکستان کی سرزمین ایران میں چند دہشت گرد سرگرمیوں کے لئے استعمال ہونے کا ’’اعتراف‘‘ کیوں ہوا۔ یہ سوال بھی واجب تھا مگر پنجابی محاورے والے پانی میںمدھانی چلاتے ہوئے بالائی برآمد کرنے کی کوشش تھی۔ اس کے سوا کچھ نہیں۔

حسرت رہی کہ وزیر اعظم کے حالیہ دورئہ ایران کا ’’تجزیہ‘‘ کرتے ہوئے ٹی وی سکرینوں کے ذریعے خلقِ خدا کی رہ نمائی کرنے والے اسی دورے سے جڑے کئی سنگین معاملات کا تذکرہ بھی فرمادیتے۔ کسی ایک نے یاد ہی نہ رکھا کہ وزیر اعظم پاکستان کی ایران سے وطن روانگی کے ساتھ ہی امریکی وزیر خارجہ نے اعلان کردیا ہے کہ مئی 2019کے بعد بھارت اور چین جیسے ممالک اس ملک سے تیل خریدنا جاری رکھیں گے تو امریکہ ان سے تجارت جاری نہ رکھ پائے گا۔

پہلے مرحلے میں ایران سے تیل درآمد کرنے والی کمپنیاں امریکہ سے کاروبار کرنے کے ضمن میں ’’بلیک لسٹ‘‘ ہوجائیں گی۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ایران سے خریدے تیل کی قیمت امریکی ڈالروں میں ادا نہ ہوپائے۔ بتدریج ان ممالک سے امریکہ مختلف النوع اشیاء کی اپنے ملک درآمد پر کامل پابندیاں لگادے گا۔ صاف لفظوں میں کہہ دیا گیا ہے کہ اگرامریکہ سے چین یا بھارت کو اپنے تجارتی تعلقات جاری رکھنا ہیں تو ایران سے تیل کا ایک قطرہ بھی نہ خریدا جائے۔ ایسے ماحول میں ایران کا قریب ترین ہمسایہ ہونے کے باوجود پاکستان اس ملک سے اپنی تجارت بڑھانے کا سوچ نہیں سکتا۔ کئی برسوں سے طے شدہ ایران-پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ نہیں پائے گا۔ ہم نے اس کی جانب بڑھنے کی کوشش کی تو فقط امریکہ ہی نہیں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی ناراض ہوجائیں گے۔ ان ممالک کی خفگی ہم اس وجہ سے بھی مول لینے کو تیار نہیں ہوں گے کیونکہ عمران حکومت کے اقتدار سنبھالتے ہی انہوں نے ہمیں IMFکی کڑی شرائط سے بچنے کے لئے قابلِ قدرFinancial Cushionsفراہم کئے تھے۔

یہ مدد میسر نہ بھی ہوتی تو لاکھوں پاکستانی تارکینِ وطن ان دو ممالک میں کام کرتے ہوئے اپنے پیاروں کو جو رقوم بھیجتے ہیں وہ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر کو توانائی بخشنے میں بسااوقات کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔امریکہ ایران کے حوالے سے Either/Orپر بضد رہا تو ایران سے ہمارے تعلقات گرم جوشی کی جانب گامزن نہ ہوپائیں گے۔ دونوں ممالک کے مابین سرد مہری کا تسلسل کئی قوتوں کو وہ Spaceفراہم کرے گا جو ’’دہشت گردی‘‘ کے حوالے سے ہمارے باہمی تعلقات میں کشیدگی پیدا کرتے ہوئے اسے بڑھاتا ہے۔

محض تجارتی تعلقات پاکستان اور ایران کے مابین معاملات میں اہمیت کے حامل نہیں۔ اس ضمن میں اصل دشواری کا سامنا ہمارے ازلی دشمن -بھارت- کو کرنا پڑے گا۔ اپنی ضرورت کا 10فی صد تیل بھارت ایران سے آج بھی خریدنے کو مجبور ہے۔ کئی برس تک 25فی صد کی سطح تک پہنچا رہا۔صدر اوبامہ کے زمانے میں ایران پر دبائو بڑھانے کے لئے اس کی وزیر خارجہ بھارت گئی۔ ہیلری کلنٹن نے بند کمرے میں نہیں بلکہ ایک پریس کانفرنس میں بھارت کو یقین دلایا کہ اگر وہ ایران کے بجائے سعودی عرب سے اپنی ضرورت کا تیل خریدنا شروع کردے تو اسے یہ تیل ایران کے مقابلے میں ارزاں نرخوں پر میسر ہوگا۔ بھارت نے اس پیش کش کا مہارت سے فائدہ اٹھانا شروع کردیا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے اپنے تعلقات بڑھائے۔ اسرائیل کے ساتھ دفاعی سمجھوتے بھی کئے۔ ایران کے ساتھ اپنا تعلق لیکن ختم نہ کیا۔ ٹرمپ کے وائٹ ہائوس آنے کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔

ٹرمپ نے ایران پر دبائو بڑھانے کے لئے اس کے ساتھ اوبامہ حکومت کا طے کیا ایٹمی معاہدہ منسوخ کردیا۔ اس کے بعدایران سے تیل خریدنے پر پابندیاں عائد کیں۔ بھارت کو مگر چند ماہ تک یہ خریداری جاری رکھنے کا استثناء دیا۔تین مہینوں کی جو مہلت بھارت کو ملی اس کے دوران ایران سے تیل کی درآمد کو یکایک حیران کن حد تک بڑھاتے ہوئے آنے والے وقتوں کے لئے ’’ذخیرہ‘‘ کرلیا گیا۔ بینکوں کے ذریعے کچھ ایسا بندوبست بھی ہوا ہے جس کی بدولت ایران سے خریدے تیل کی قیمت امریکی ڈالر کے بجائے بھارتی کرنسی میں ادا ہوتی ہے۔ ایران اس رقم کو بھارتی بینکوں ہی میں جمع رکھتا ہے۔ اس رقم کو بھارت سے ہوئی برآمدات کے لئے خرچ کیا جاتا ہے۔

بھارت کویقین ہے کہ آئندہ انتخاب جیت لینے کے بعد نریندرمودی امریکہ کو قائل کرے گا کہ اسے تیل کی ضرورت پوری کرنے کے لئے ایران کے ضمن میں مزید دنوں کے لئے استثناء درکار ہے۔ امریکہ پر تجارتی انحصار کے باعث وہ یہ استثناء حاصل نہ بھی کرپایا تو ٹرمپ انتظامیہ اسے چاہ بہار کی بندرگاہ پر سرمایہ کاری سے نہیں روکے گی۔

بھارت کا اصرارہے کہ وہ چاہ بہار کے ذریعے فقط افغانستان سے تجارت نہیں کرنا چاہتا۔ اس کااصل ہدف سنٹرل ایشیاء کے ملکوں تک رسائی حاصل کرنا ہے۔ پاکستان ان ممالک تک پہنچنے کے لئے بھارت کو سستی اور تیز ترین راہداری فراہم کرسکتا ہے۔ ہمارے ساتھ مگر وہ تعلقات بہتر بنانے کو تیار نہیں۔ امریکہ اس ضمن میں اس کے ذہن میں موجودہ تحفظات کو تسلیم کرتا ہے۔ انہیں دور کرنے کے بہانے پاکستان پر بلکہ دبائو بڑھاتا ہے۔ FATFکے ذریعے ہمارے ساتھ جو ہورہا ہے وہ درحقیقت اس تناظر میں بھارت کی دلجوئی کا شاخسانہ ہے۔

ایران سے ’’ایک بوند‘‘ تیل نہ خریدنے پر تیار ہونے کے لئے مودی دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد امریکہ سے ’’معقول‘‘ Compensation طلب کرے گا۔ سعودی عرب کی جانب سے فراہم کیا تیل اس تناظر میں کافی تصور نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان پر مزید دبائو کا تقاضہ ہوگا۔ امریکہ اس کے لئے تیار دکھائی دیتا ہے۔

اس کے باوجود بھارت کی چاہ بہار پر سرمایہ کاری جاری رہے گی۔افغانستان کو ’’بنیادی ضروریات‘‘ کی فراہمی کو یقینی بنانا اس کا جواز ہے۔ بنیادی مقصد مگر یہ بھی ہے کہ طویل المدتی تناظر میں بھارت ہی نہیں امریکہ یا اس کے اتحادی ممالک کے لئے افغانستان اور سنٹرل ایشیاء تک رسائی کا چاہ بہار کے ذریعے ’’متبادل‘‘ میسر ہو۔ اس خطے میں جو نئی گیم لگانے کی کوشش ہورہی ہے اس کا ہمارے میڈیا میں ذکر تک نہیں ہورہا۔ پانی میں مدھانی گھماتے ہوئے Ratings لی جاری ہیں۔

بشکریہ نوائے وقت

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *