بھٹو، ضیا اور جی ایم سید

سندھ کے قوم پرست رہنما جی ایم سید کا شمار پاکستان کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے ہی سندھ اسمبلی میں قیام پاکستان کی قرارداد پیش کی تھی جس نے آگے چل کے اس مطالبے کو قانونی اور آئینی جواز فراہم کیا تھا۔

جی ایم سید آج سے 24 برس قبل انتقال کر گئے تھے۔ جب وہ حیات تھے تو صوبہ سندھ کے محکمۂ سندھیالوجی نے ان کی ذاتی زندگی اور تجربات کے بارے میں ان کا ایک انٹرویو کیا تھا۔

اسی انٹرویو میں جی ایم سید نے جنرل ضیاالحق اور ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیات کا موازنہ بھی کیا۔

وہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو تنگ دل جبکہ سابق صدر اور فوجی آمر جنرل ضیاالحق کو اپنا محسن سمجھتے تھے۔ انھوں نے جنرل ضیاالحق کا شمار گزشتہ 250 برس میں گزرنے والے پنجاب کے اہم رہنماؤں میں کیا تھا۔

ان کے بھٹو کے والد شاہنواز بھٹو کے ساتھ بھی مراسم تھے۔ جی ایم سید کہتے ہیں کہ بھٹو انھیں چچا بلاتے تھے اور ان کے گھر آتے جاتے۔ حکومت سازی میں انھوں نے ولی خان کی حمایت حاصل کر کے ان کی مدد بھی کی تھی۔

تاہم جی ایم سید کو شکوہ تھا کہ ذوالفقار بھٹو نے انھیں علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت نہیں دی۔

’بھٹو کو میں نے کہا کہ بیمار ہوں اجازت دو بیرون ملک جا کر علاج کراؤں۔ کہا کہ فلاں فلاں چیزیں تیار کرو۔ خون کے ٹیسٹ کرائے، کپڑے بنوائے، 20ڑ 25 ہزار روپے خرچہ کیا۔ میں نے کہا کہ اب اجازت دو لیکن اس نے جواب نہیں دیا۔ بعد میں کہا کہ تم کون ہوتے ہو اس طرح براہ راست لکھنے والے۔ یہ کم ظرفی تھی۔`

جی ایم سید کا کہنا تھا کہ جنرل ضیاالحق ان کے مخالف تھے لیکن اس کے باوجود جب انھوں نے ٹیلیگرام بھیجا کہ انھیں پشتون رہنما خان غفار خان کی عیادت کی اجازت دی جائے تو 20 دن کے بعد اجازت مل گئی۔

’کن اسباب کی وجہ سے اجازت دی اس کا خدا کو معلوم۔ وہ ایک پنجابی تھا اور اپنا (بھٹو) توقعات کے خلاف ثابت ہوا۔‘

ضیا الحق

جی ایم سید کا کہنا تھا کہ پنجاب قیادت کے معاملے میں پسماندہ رہا ہے۔ ’دو، ڈھائی سو سالوں میں اس نے چار سمجھدار لوگ پیدا کیے ایک رنجیت سنگھ جس نے پورے پنجاب اور فرنٹیئر تک حکومت کی، وہ سکھ پنجابی تھا۔ دوسرا سر فضل حسین وہ وائسرائے کونسل کا رکن تھا۔ اس نے پنجابیوں کو فوج اور سیاست میں شمولیت دی اور سمجھدار پالیسی اختیار کی اور بعد میں یونینسٹ پارٹی بنائی۔

’تیسرا اس کا جانشین سر سکندر حیات جس کو برطانوی حکومت نے بلوا کر مصر میں تقریر کرائی تھی کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ وہ پنجاب کا بے تاج باشادہ ہے۔ موجودہ وقت لشکر، سول سروس سب پر اس کا (ضیاالحق) کا کنٹرول ہے، یہ عقلمندی ہے۔‘

ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت پر بات کرتے ہوئے جی ایم سید انھیں سندھ کا اثاثہ مانتے تھے۔ بقول ان کے ’محمد علی جناح نے 23 برسوں میں جو رتبہ حاصل کیا وہ اس نے سات سالوں میں حاصل کر لیا۔ وہ بڑے دماغ والا شخص تھا لیکن سیاسی لالچ اور اقتدار کی بھوک نے اسے مفاد پرست کر دیا۔ وہ کسی کو درست پہچان نہیں سکا ورنہ ہمارا بڑا اثاثہ تھا۔‘

ان کے مطابق ’ممتاز بھٹو کے سامنے بھٹو کو کہا تھا کہ تم سندھ کے لیے کام کرو ورنہ تم سے برا کام کرا کے مار دیا جائے گا۔ میں نے یہ ان دنوں میں شائع بھی کرایا تھا۔ مجھے کہا کہ نہیں میں استاد ہوں، خود ہی بچ جاؤں گا۔ وہی ہوا، سندھ کے خلاف کام لے کر بعد میں ماردیا۔‘

جی ایم سید نے 1973 کے آئین کے بعد جئے سندھ تحریک کی بنیاد رکھی تھا۔ جن دنوں ان سے یہ انٹرویو لیا گیا ان دنوں بحالی جمہوریت کی تحریک جاری تھی۔

وہ 1973 کے آئین کو سندھ کے خلاف سمجھتے تھے جبکہ ایم آر ڈی اس کی بحالی کی بات کر رہی تھی۔ اپنے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’ایم آر ڈی پنجاب کی جماعت ہے جس کا سربراہ نوابزادہ نصراللہ خان ہے اور اس میں ٹکا خان بھی شامل ہے۔‘

ذوالفقار علی بھٹو

’جنرل ضیاالحق جب ہسپتال میں عیادت کے لیے آئے تھے تو مجھ سے پوچھا کہ آپ ہر حکومت کے خلاف رہے ہو۔ یہ جو پیپلز پارٹی اور ایم آر ڈی ہے ان کی آپ نے کیوں نہیں مدد کی؟ میں نے کہا کہ ہمیں معلوم تھا کہ آپ کو نکال کر دوسرے کو لانا چاہ رہے ہیں۔ مار کھائے بندر اور کمائی کھائے مداری۔ اگر ہم اس لڑائی میں شامل ہوتے تو پہلے ہماری پٹائی ہوتی اور فائدہ پیپلز پارٹی اٹھاتی۔‘

قیام پاکستان سے قبل 1943 میں سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ خان بہادر الھ بخش سومرو کے قتل پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس میں مسلم لیگی رہنما ایوب کھوڑو کا ہاتھ نہیں تھا۔

’ان دنوں مذہب کے نام پر زہر پھیلا ہوا تھا۔ جانو جلبانی نامی ایک شخص تھا جو پیر آف بھرچونڈی کا مرید تھا۔ اس کو خیال آیا کہ میں غازی بنوں اور ملک کے جو غدار ہیں انھیں ماروں۔

’پیر پگاڑہ پیر صبغت اللہ کا خیال تھا جو ان مخالف ہیں ان کے ناموں کی بلیک لسٹ جاری کر دیں ان میں میرے ساتھ، پیر علی محمد شاہ راشدی، ایوب کھوڑو اور الھ بخش سومرو شامل تھے۔ الھ بخش سومرو کے دور حکومت میں پیر پگارہ کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ ایوب کھوڑو قسم اٹھانے کے لیے تیار تھا کہ شخصی طور پر اس کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں۔‘

سندھ میں قیام پاکستان سے قبل صرف سکھر میں مسلم ہندو فسادات ہوئے تھے۔ جی ایم سید نے مسجد منزل گاہ کے تنازعے پر ہندو مسلم فسادات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہندو مسلم کشمکش کا نتیجہ تھا۔

ان کے بقول ’تصادم کے بعد ہندوؤں کی طاقت ٹوٹ گئی۔ یہ ایک وجہ ہوسکتی ہے لیکن پاکستان کے قیام کی بنیادی وجہ نہیں کیونکہ پاکستان کا قیام تو بین الاقوامی صورتحال، انگریزوں کی پالیسیوں، علامہ اقبال کے فلسفے اور پنجاب کی وجہ سے عمل میں آیا۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *