طلاق کی شرح کم کرنے کے لیے جوڑوں کو فلم دکھانے کا اعلان

شام کے وزیرِ انصاف نے اعلان کیا ہے کہ دمشق میں شادی شدہ جوڑوں کو طلاق سے روکنے کے لیے عدالت انھیں علیحدگی کے برے اثرات پر مبنی فلم دکھائے گی۔

ہشام الشعار کا کہنا تھا کہ اس ویڈیو میں والدین کی علیحدگی کے نتیجے میں گلیوں میں رہنے اور جیل جانے والے بےسہارا بچوں کے مناظر بھی شامل ہیں۔

یہ خبر دمشق ناؤ نے دی ہے اور اس کی فیس بُک پوسٹ پر معمول سے کافی زیادہ تبصرے کیے گئے جن میں سے کئی طنزیہ تھے۔

ایک شخص نے مذاق کیا 'وہ انھیں فلم سٹیپ مام دکھائیں گے'۔

ایک اور صارف کا کہنا تھا 'طلاق لینے سے پہلے کیا میں ٹائٹینک دیکھ سکتا ہوں؟'

لیکن کئی لوگوں نے حکومت کی طرف سے اس اقدام کا دفاع بھی کیا۔ ایک شخص کا کہنا تھا 'یہ بہت عمدہ خیال ہے۔ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔'

جنگ اور طلاق

شام میں 2011 کی بغاوت کے نتیجے میں ہونے والی خانہ جنگی کی وجہ سے نقل مکانی اور اقتصادی مشکلات کے بعد طلاق کی شرح بڑھ گئی ہے۔

دمشق کی ایک اہم عدالت کے مطابق 2017 میں شہر میں ایسے مقدمات 31 فیصد تک بڑھ گئے جو 2016 سے چار فیصد زیادہ ہیں۔

عدالت نے شریک حیات کی غیرموجودگی کو قانونی علیحدگیوں میں اضافے سے منسوب کیا۔ کچھ مقدمات میں شریک حیات کو پتا ہی نہیں تھا کہ ان کے لاپتہ شریک حیات زندہ بھی ہیں یا نہیں۔

شام میں طلاق کے سلسلے میں ایک بڑی تبدیلی تب دیکھنے میں آئی جب حکومت نے خواتین کو اجازت دی کہ وہ اپنی طلاق کے معاملے کی پیروی خود کر سکتی ہیں بشرطیکہ انھیں اپنے شوہر کی طرف سے ایسا کرنے کی اجازت ہو۔

اعلیٰ عدالتی اہلکار جج محمود الماراوی کہتے ہیں کہ 2017 کے آخر میں نئے قوانین کے متعارف ہونے کے بعد سے جن خواتین کو طلاق لینے کا حق دیا گیا، ان میں سے 70 فیصد نے طلاق لے لی۔

گزشتہ سال انھوں نے حکمران جماعت بعث کے اخبار سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شام میں جنگ نے علیحدگی کی نئی اور پہلے کبھی نہ دیکھی جانے والی وجوہات کو جنم دیا ہے جن میں سے زیادہ تر لوگ جنگ کے نتیجے میں ہونے والے اقتصادی مسائل کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *