جعلی اکاؤنٹس کیس میں نیب کی ایک اور اہم گرفتاری

 

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آگئی اور ان کی ملکیت میں موجود کمپنی کے اکاؤنٹنٹ کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے گرفتار کرلیا۔

رپورٹ کے مطابق انسدادِ بدعنوانی کے قومی ادارے کے مطابق محمد حنیف پاک لین اسٹیٹ کے اکاؤنٹنٹ کے ساتھ ساتھ اس کی فرنٹ کمپنی پرتھینن کے سیکریٹری بھی تھے۔

پرتھینن کی جانب سے لیے گئے قرضوں کے غبن میں مبینہ طور پر ملوث محمد حنیف، آصف زرداری اور دیگر کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کیس میں اہم ترین ملزمان میں سے ایک ہیں۔

نیب کے تفتیش کاروں کا کہنا تھا کہ کیس میں مرکزی ملزم نے محمد حنیف کے ساتھ ملی بھگت کر کے حبیب بینک لمیٹڈ سے ڈیڑھ ارب روپے کا قرض حاصل کیا اور اس سے فائدہ اٹھانے والے افراد کا نام پوشیدہ رکھنے کی غرض سے فرضی ناموں کے پے آرڈر تیار کروائے۔

خیال رہے کہ پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، ان کے والد آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور، سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، موجودہ صوبائی وزیر انور سیال، بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے خلاف کیس چند ہفتوں قبل ہی کراچی سے نیب راولپنڈی منتقل کیا گیا تھا۔

دوسری جانب نیب نے اس کیس کی تفتیش کے لیے کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم (سی آئی ٹی) بھی تشکیل دی تھی جس نے نیب راولپنڈی کے ڈائریکٹر جنرل عرفان نعیم منگی کی سربراہی میں جنوری سے کام کرنا شروع کیا تھا۔

اس کیس کے حوالے سے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے بتایا تھا کہ نیب اس ضمن میں انکوائری نہیں کرے گی بلکہ سپریم کورٹ کی بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی انکوائری کے بل بوتے پر تفتیش کرے گی۔

یاد رہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی رپورٹ میں جعلی اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کیس میں 172 افراد کو ملزم ٹھہرایا تھا اور ان کے خلاف 16 مختلف ریفرنس دائر کرنے کی تجویز دی تھی۔

14 جنوری کو دیے گئے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق آصف زرداری، فریال تالپور اور ملک ریاض سمیت 172 ملزمان کے بیرونِ ملک جانے پر پابندی برقرار رہے گی۔

سپریم کورٹ نے نیب کو 2 ماہ میں تفتیش مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی جس کے مطلب یہ تھا کہ جو افراد بدعنوانی کے مرتکب پائے گئے ان کے پاس دو راستے ہیں یا تو پلی بارگین کریں یا ریفرنس کا سامنا کریں۔

دوسری جانب سے حکومت اپوزیشن کی جانب سے ان کے رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں کرنے کے الزام کو رد کرتے ہوئے دعویٰ کرتی ہے کہ جعلی اکاؤنٹس کی تحقیقات کا آغاز مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *