سیکڑوں گنا تیز وائی فائی نیٹ ورک کے لیے سائنسدانوں کی بڑی کامیابی

کیا اپنے گھر کے وائی فائی انٹرنیٹ کی اسپیڈ سے بیزار رہتے ہیں تو اچھی خبر یہ ہے کہ سائنسدانوں نے اسے سیکڑوں گنا تیز کرنے کا طریقہ دریافت کرلیا ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے جان اے پالسن اسکول آف انجنیئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز کے ماہرین نے پہلی بار لیزر کو بطور ریڈیو فریکوئنسی ٹرانسمیٹر کے طور پر استعمال کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

جریدے پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع مقالے میں اس دریافت کا اعلان کیا گیا جس میں روایتی لیزر کو استعمال کیا گیا جو کہ روشنی کی سنگل فریکوئنسی خارج کرتی ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ اس سے مستقبل میں لیزر کو مائیکرو ویو خارج کرنے، اس کا تناسب میں تبدیلی اور ریڈیو فریکوئنسی سگنلز موصول کرنے میں مدد مل سکے گی جس سے الٹرا ہائی اسپیڈ وائی فائی نیٹ ورک کو تشکیل دینے کا موقع مل سکے گا۔

اس سے قبل لیبارٹری میں یہ دریافت کیا گیا تھا کہ لیزر میں موجود انفراریڈ فریکوئنسی کو ڈیٹا منتقل کرنے کے لیے استعمال کیا اجستکا ہے جس کی رفتار موجودہ وائرلیس انٹرنیٹ سروسز کے مقابلے میں سیکڑوں گنا زیادہ تیز ہوسکتی ہے۔

اب نئی پیشرفت سے فریکوئنسی سے وائرلیس سگنل بھیجنا ممکن بنایا گیا ہے جس سے خرگوش کے کانوں جیسے اسٹائل کے انٹینا کو بنانے میں مدد مل سکے گی جو کہ لیزر سے ڈیٹا بھیج اور موصول کرنا ممکن بنائے گا۔

ہارورڈ کے سائنسدانوں نے اس نئی ٹیکنالوجی سے ایک گانا دوسری جانب منتقل کیا۔

ہارورڈ کے ماہرین ایک دہائی سے زائد عرصے سے terahertz لیزر پر اس طرح کے تجربات کررہے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ موجودہ پیشرفت کے باوجود ان شعاعوں کو وائرلیس کمیونیکشن کے لیے استعمال کرنے میں کافی کام کرنا ہوگا۔

مگر ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سے ثابت ہوگیا ہے کہ ڈیٹا ٹرانسفر کے لیے لیزر ایک اچھا آپشن ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *