اسد منیر کے خط پر نیب نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروادیا

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے ریٹائرڈ بریگیڈیئر اور تجزیہ کار اسد منیر کی خودکشی کے مبینہ بیان پر سپریم کورٹ میں اپنی رپورٹ جمع کروادی۔

رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو اسد منیر کی خودکشی کامبینہ خط ملنے کے بعد عدالت عظمیٰ کے شعبہ انسانی حقوق نے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی ہدایت پر21 مارچ کونیب سے جواب طلب کیا تھا جس پر گزشتہ روز نیب کی جانب سے سربہ مہر رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی۔

اس سے قبل 26 مارچ کو سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی اپیل کی سماعت کے دوران برگیڈیئر(ر) اسد منیر کی خود کشی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے چیف جسٹس نے استفسار کیا تھا کہ نیب کس طرح کام کرتا ہے کہ جن کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات چل رہی ہوں وہ دباؤ کے باعث بیمار پڑجاتے ہیں اور اربوں روپے برآمد کرنے والے ادارے نے (دباؤ کی وجہ سے) بیمار ہونے والے افراد کے علاج کے لیے ہسپتال کیوں نہیں بنایا۔

چیف جسٹس نے کہا تھا کہ لوگ اب خودکشیاں کرنے لگے ہیں اور عدالت عظمیٰ سابق انٹیلی جنس افسر اور تجزیہ کار اسد منیر کی خودکشی کا پراسرار معاملہ بھی دیکھے گی۔

خیال رہے کہ اپنے خط میں اسد منیر نے یہ لکھا تھا کہ وہ اس امید پر اپنی جان دے رہے ہیں کہ چیف جسٹس اس نظام میں مثبت تبدیلی لائیں گے جس میں ناہل افسران احتساب کے نام پر شہریوں کے عزت اور جان کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔

یاد رہے کہ بریگیڈیئر منیر 15 مارچ کو اسلام آباد کے انتہائی محفوط تصور کیے جانے والے علاقے میں موجود اپنے گھر کے کتب خانے میں لٹکے ہوئے پائے گئے تھے اور ان کے اہلِ خانہ کو ان کا خودکشی خط بھی ملا تھا جس پر ان کے دستخط نہیں تھے۔

خط میں کہا گیا تھا کہ وہ نیب کی جانب سے گزشتہ ایک سال میں ان کے خلاف شروع کی گئی 3 تحقیقات اور 2 انکوائریوں کے باعث ذلت سے بچنے کے لیے خودکشی کررہے ہیں۔

2 صفحات پر مشتمل اپنے خط میں انہوں نے نیب پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا، نیب کی جانب سے ان کے اور کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے افسران کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا تھا اس کے اگلے ہی روز ان کی خودکشی منظرِ عام پر آگئی۔

بریگیڈیئر ریٹائرڈ اسد منیر اور سی ڈی اے حکام پر وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ایف-11 میں غیر قانونی طور پر پلاٹ الاٹ کرنے کا الزام تھا۔

انہوں نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ وہ 2006 سے 2017 تک سی ڈی اے کے رکن رہے جس کے 6 سال بعد تک ان کے خلاف کوئی کیس درج نہیں تھا لیکن اپریل 2017 کے بعد سے ان کی زندگی دوبھر ہوگئی ہے۔

خط میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ انہوں نے 14 جون 2018 کو اپنے اثاثہ جات کی تفصیلات نیب کو جمع کروادی تھی لیکن میڈیا کے سامنے ہتھکڑی لگے ہوئے پریڈ کرنے کی ذلت اٹھانے سے بچنے کے لیے وہ خود کشی کررہے ہیں۔

مذکورہ خط کے مطابق اسد منیر کا نام ایک ایف آئی آر میں درج ہونے کے بعد وزارت داخلہ نے نومبر 2017 میں ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ان کا نام 3 ماہ کے لیے شامل کیا تھا جس کے بعد انہوں نے اس پر نظرِ ثانی کی درخواست کی تھی لیکن اس پر کوئی ردِ عمل نہیں دیا گیا اور ان کا نام ایک سال سے زائد عرصے تک ای سی ایل میں رہا۔

انہوں نے اپنے خط میں چیف جسٹس سے درخواست کی تھی کہ وہ انسدادِ بدعنونی کے ادارے کے افسران کے طریقہ کار کا نوٹس لیں تا کہ دیگر افسران کو اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا نہ بھگتنی پڑے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے کیس میں ایک کے علاوہ تمام تفتیشی افسران نالائق، بدمزاج، مغرور اور غیر تربیت یافتہ ہیں جو سی ڈی اے کے کام کے طریقہ کار سے بہت کم واقف ہیں اور ان کا موقف سنے بغیر ہی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ بدعنوانی میں ملوث رہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *