شہری سندھ کو دیوار سے لگانا بند کردیا جائے

کیا کسی نے کراچی میں کئی جگہوں پہ گزشتہ دو روز میں ایم کیوایم لندن گروپ کی جانب سے لکھے وہ مخالفانہ نعرے دیکھے اور پڑھے ہیں کہ جو 27 اپریل بروز اتوار کی سہ پہر باغ جناح کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے منعقدہونے والے جلسے کے خلاف دیواروں پہ تحریر کیئے گئے ہیں اور کیا اس سے یہ ظاہر نہیں ہوجاتا کہ ایم کیوایم لندن کا چٹیلا سانپ بہرحال نہ صرف زندہ ہے بلکہ کسی روز شہر کے امن اور حکومتی رٹ کو بھی ڈس سکتا ہے - یہ جو آجکل آئے روز پیر لندن فیسبک اور یوٹیوب پہ جلوہ گر ہوکے اپنی تقریروں میں ملکی سالمیت اور اسکے سلامتی کے اداروں کو منہ بھر کے کوستا سنائی دیتا ہے اور عالمی طاقتوں اور بھارتی حکومت کو تعاؤن کے لیئےفریادیں کرتا رہتا ہے تو اس کا یہ سب واویلا یونہی بے سبب تو ہرگز نہیں ہے ۔۔۔ یقینناً اسے غیرملکی طاقتوں نے 27 برسوں سے اپنی گود میں جو بٹھا رکھا ہے تو اسکی وجہ بہت خاص ہی ہوسکتی ہے کیونکہ جرئم کے خلاف نو ٹوریلینس یا عدم برداشت کی پالیسی کے پرچارک ہونے کے باوجود یہ ممالک اسے بھرپور تحفظ دینے کے لیئے پوری طرح سے چوکس ہیں اور گشتہ 3 دہائیوں میں اسکے ہر طرح کے اکثر جرائم کی بینقابی کے باوجود اسے اپنی گود سے اتارنے کے لیئے قطعی طور پہ تیار نہیں ہیں اور اب تو صاف لگتا ہے کہ وہ اسکی 'مہاجر دیش' کی مہم کے پیچھے بھی دست تعاؤن دراز کرچکے ہیں‌ اور سی پیک کے تناظر میں اپنے مفادات کو خطرے میں پاکر اس گھناؤنی مہم کو جلد کامیاب بھی ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں

دوسری طرف ہماری قومی سلامتی کے ادارے شاید اب بھی خواب غفلت میں مبتلاء ہیں اور گڈ کاپ بیڈ کاپ کا کھیل کھیلنے میں مشغول نظرآتے ہیں اوراسی پالیسی کے تحت ابکے پھر انکی محبوب ایک بار پھر پاک سرزمین پارٹی ہے کہ جسکی لانڈریانہ چھتری کے تلے وہی پرانے الطافی غنڈے اور موالی موجود ہیں کہ جنہوں نے اس شہر کی امن و آشتی کو طویل عرصہ تاراج کیئے رکھا اور جنکی جیبیں بھتوں سے لدی پھندی اور دامن بے گناہوں کے لہو سے رنگین ہیں ۔۔۔ گو کہ اب بھی ان میں سے کئی سیانے دوسری طرف بھی دھرے پڑے ملتے ہیں لیکن انکی بہت بڑی اکثریت کمالی آغوش میں پناہ گزین ہے ۔۔۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ ساری ڈرامے بازیوں کے باوجود کراچی والے مصطفیٰ کمال کے جال میں نہیں پھنسے کیونکہ اگر انہیں دہشتگردوں ہی کے چنگل میں پھنسنا ہے تو پھر پہلے والوں میں کونسی اضافی برائی تھی، مزید یہ کہ مصطفیٰ کمال نے اس طبقے کی اس گروہی و لسانی شناخت یعنی ' مہاجر' کو بھی دفن کردینے کی باتیں کیں جو کہ سچی یا جھوٹی کسی نہ کسی بنیاد پہ اب بہت مستحکم ہوچلی ہے اور جب تک کوئی بھی لسانی اکائی اپنی شناخت پہ مصر رہے گی اسکا جواز بھی برقرار رہے گا اور اس حساس معاملے پہ شہر والوں نے مصطفیٰ کمال کا یہ پرفریب اور سفاکانہ بیانیہ ووٹ کے تیشے سے پاش پاش کرڈالا ۔۔۔ اور اب اس شدید مایوس کن نتیجے کے بعد نئے بلدیاتی انتخابات آنے تک بظاہر لگتا یہ ہے کہ مصطفیٰ کمال کا اتحاد مریدان الطاف کے کسی اور گروہ کے ساتھ بھی کرا دیا جائے ؂

لیکن آخر کب تک کبھی اسکے سر پہ ہاتھ کبھی اسکی پیٹھ پہ تھپکی کا یہ کھیل کھیلا جاتا رہے گا ۔۔۔ الطافی شر سے دیرپا انداز میں نپٹنے کا عمل حقیقی اخلاص اور سنجیدگی کا متقاضی ہے جس کو ایسے کاسمیٹک اقدامات سے ہرگز نہیں نپٹا جاسکتا ۔۔۔ اشہری سنددھ کے عوام کھلی آنکھوں سے یہ سفاک حقیقت کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ یہاں سندھ میں سندھی بولنے والوں‌کے سوا ہر طبقے کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے اور ان پہ روزگار اور سستی تعلیم کے دروازے تقریباً مکمل ہی بند کردیئے گئے ہیں - حد تو یہ ہے کہ اردو بولنے والوں کے گڑھ یعنی کراچی کے قلب میں قائم سندھ سیکریٹیریٹ میں اردو بولنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک سے بھی کم رہ گئی ہے اور اسی طرح ہر صوبائی محکمے میں ہی نہیں وفاقی محکموں میں بھی شہری سندھ کی سیٹیں بھی صرف سندھی بولنے والوں ہی کا مقدر بن رہی ہیں حتٰی کہ کے ڈی اے واٹر بورڈ اور شہری بلدیاتی اداروں میں ہر منصب پہ صرف سندھی اسپیکنگ افراد ہی کا تقرر ہوتا چلا جارہا ہے اور سرکاری ملازمتوں کے لیئے سندھ کے نان سندھی باشندے جو کہ اس صوبے کی آبادی کا پینسٹھ سے ستر فیصد ہیں عملاً اچھوت بناکے رکھ دیئے گئے ہیں ۔۔۔

بلاشبہ یہ سب نفرت انگیز طرز عمل الطافی بیانیئے کو خطرناک حد تک تقویت دیتا چلا جارہا ہے اور یوں سمجھ لیجیئے کہ اب یہاں سندھ شہری میں محرومیوں اور شکایتوں کا وہی عالم ہے کہ جو کبھی متحدہ پاکستان میں مشرقی بازو میں تھا- سب سے زیادہ تعلیمیافتہ افراد کے اس شہر میں اب گھر گھر بیروزگاری کا عفریت پنجے گاڑے بیٹھا ہے اور اس شہتر کے نئے پرانے کسی بھی اسٹیک ہولڈر کو اسکی کوئی پرواہ یا فکر ہی نہیں ہے- جماعت اسلامی سمیت جتنی وفاقی جماعتیں ہیں وہ سندھ شہری کے لیئے آواز بلند کرنےسے اس لیئے گریزاں ہیں انہیں سندھ دیہی کی ناراضگی کا ڈر ہے جبکہ اسکے بغیر بھی ابتک انہیں سندھ دیہی نے انہیں ہمیشہ دھتکارے ہی رکھا ہے اور جولوگ یہاں کی نمائندگی کرتے رہے ہیں اور اب بھی کررہے ہیں وہ ہمیشہ ہی اپنے ذاتی مفادات کے لیئے سودے بازی کرنے تک ہی محدود رہے ہیں

یقین رکھیئے کہ الطافی غبارے کو ہمیشہ کے لیئے پھوڑنے اور اس شہر اور شہری طبقے کو اس ارض وطن سے جوڑے رکھنے کا کام مشکل نظر آنے کے باوجود کوئی خاص مشکل بھی نہیں ہے ۔۔ لیکن اس ضمن میں طاقتوروں کو کرنا صرف یہ ہوگا کہ وہ اس صوبے میں انصآف اور توازن کا حقیقی نظام قائم کردیں اور اس سلسلے میں اس صوبے کی حقیقی اور درست مردم شماری کرواکے روزگار تعلیم اور وسائل میں جس طبقے کا جو حق بنتا ہے وہ اسے دیدیں اور گھناؤنے کوٹہ سسٹم کو یکسر ختم کردیں لیکن اس سے پہلے حساب کرکے اس کے تحت دی گئی ملازمتوں کے اعداد و شمار کی سخت پڑتال اور چھان پھٹک کرکے جس طبقے کو جتنا کم حصہ ملا ہو وہ اسے دلودیا جائے ورنہ یہ بیک لاگ امن امان کے لیئے ہیر پھیر کے مسئلہ بنتا رہے گا اور ان سب باتوں سے اہم تر بات یہ ہے کہ صوبے بلکہ ملک کے ہر اضلاع کی آمدنی کا تین چوتھائی اسی پہ خرچ کرنے کا فارمولا اپنا لیا جائے اور اسکے لیئے ایک خصوصی جوڈیشیئل ریونیو کمیشن قائم کردیا جائے ۔۔۔ یوں وسائل کی لوٹ مار کی داستانیں خود بخود دم توڑ جائینگی

لیکن اگر عملی صورتحال یہ ہوکہ شہری سندھ کی ملازمتیں بھی ہزار فریب کرکے انہیں نہیں بلکہ دوسرے طبقے کو دی جارہی ہوں اور سندھ کے 31اضلاع میں سے صرف 2 پہ سندھ شہری کے افرد کو ڈپٹی کمشنر لگایا ہوا ہو اور 55 صوبائی کارپوریشنوں سے صرف 7-8 پہ ہی شہری سندھ کے افراد کو چیئرمین مقرر کیا گیا ہو اور اور سندھ بینک کے 17 ہزار ملازمین میں سے شہری سندھ والوں کی تعداد ایک ہزار سے بھی کم ہو اور شہری اضلاع کی آمدن کا اسی تا نؤے فیصد ان سے چھین لیا جائے تو پھر علیحدگی کے ایجنڈے پہ کام کرنے والوں کو ایندھن تو ملتا ہی رہے گا- اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ شہری کو غنڈے موالیوں کے چنگل میں دینے کے حربے ترک کردیئے جائیں کیونکہ اس طبقے کے لوگ اسے طاقتوروں کی صرف بے نیازی نہیں بلکہ سفاکی اور عصبیت سے تعبیر کرتے ہیں - لہٰذا اب شدید ضرورت اس امر کی ہے کہ اب اس طبقے سے شریف اور صاف ستھرے کردار کے اہل علم و ہنر کو آگے لایا جائے کیونکہ جب آپ سرپرستی کا گناہ کرہی رہے ہیں تو پھر اس کی بدولت اس طبقے کے اچھے لوگوں کو آگے لانے کا عمل بھی کردیکھیئے ۔۔۔ ایک گناہ اور سہی ۔۔۔۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *