سیاسی اور فوجی قیادت، ایک ہی صفحے پر

OLYMPUS DIGITAL CAMERAپرائم منسٹر ہاوٴس میں، ایک ہی چھت تلے، یہ قومی یکجہتی کا شاندار مظاہرہ تھا۔ اہلِ سیاست نے، وہ لاکھ بُرے سہی، وطنِ عزیز کو درپیش نازک ترین مسئلے پر ایک بار پھر بالغ نظری کا ثبوت دیا۔ وہ کھلے ذہن اور کھلے دل کے ساتھ آئے، میزبان (وزیرِ اعظم ) نے کھلے بازوٴں کے ساتھ ان کا خیرمقدم کیا۔ تقریباً 5 گھنٹے جاری رہنے والی اس میٹنگ میں انہوں نے دہشت گردی کے مسئلے اور اس کے ممکنہ حل کے حوالے سے کھل کر اظہارِ خیال کیا اور ایک قراداد پر متفق ہو گئے۔ جمہوری معاشروں میں آل پارٹیز کانفرنس کا نام شاید ہی سننے میں آتا ہو کہ وہاں مسائل پر بحث کے لئے منتخب پارلیمنٹ ہوتی ہے اور فیصلہ سازی کے لئے عوام کے مینڈیٹ کی حامل منتخب حکومت۔ ویسے مغرب کے جمہوری معاشروں میں سیاسی جماعتیں ہوتی بھی کتنی ہیں؟ امریکہ میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کی اجارہ داری ہے۔ جمہوریت کی ماں برطانیہ میں لیبر اور کنزرویٹو ہی میں ”باریاں“ لگی ہوئی تھیں، اب وہاں لبرل کے نام سے تیسری جماعت بھی ابھر رہی ہے۔ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی کانفرنس 1969ء کے اوائل میں منعقد ہوئی تھی۔ تب مشرقی اور مغربی پاکستان میں ایوب خان کے خلاف عوامی تحریک زوروں پر تھی۔ صدارتی نظام کی جگہ وفاقی پارلیمانی نظام اور بنیادی جمہوریتوں کی بجائے بالغ رائے دہی کی بنیاد پر براہِ راست انتخاب، اس تحریک کے دو بنیادی مطالبات تھے۔ فیلڈمارشل ایوب خان نے سیاسی جماعتوں کو مدعو کیا۔ اسے گول میز کانفرنس کا نام دیا گیا تھا جس میں ملک کے دونوں حصوں سے 8 سیاسی جماعتوں کی قیادت شریک ہوئی تھی۔ ان میں نوابزادہ نصراللہ خان، مولانا مودودی، مفتی محمود، چوہدری محمد علی، شیخ مجیب الرحمٰن، نورالامین، ممتاز دولتانہ اور ولی خاں شامل تھے۔ بھٹو صاحب اور بھاشانی نے بائیکاٹ کیا۔ دونوں بنیادی مطالبات تسلیم کیے جانے کے باوجود جنرل یحییٰ خاں کو نقب لگانے کا موقع کیسے مل گیا، یہ ایک الگ کہانی ہے۔ 1970ء کے انتخابات کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی بحران کے دوران سیاسی قائدین ڈھاکہ میں جمع تو ہوئے لیکن جنرل یحییٰ خاں، مجیب الرحمن اور بھٹو سے ان کی ملاقاتیں انفرادی نوعیت کی تھیں۔ 1970ء کے بحران کے دوران بھٹو اور پی این اے کے مذاکرات کو بھی آل پارٹیز کانفرنس کہہ لیں جس میں پی این اے کی 9 جماعتوں کی نمائندگی مفتی محمود، نوابزادہ نصراللہ خاں اور پروفیسر غفور کر رہے تھے (تمام مرحومین ہو چکے)
”آل پارٹیز کانفرنس“ کو نوابزادہ مرحوم نے ٹکے ٹوکری کر دیا۔ ضیأ الحق کے مارشل لأ کے خلاف وہ آئے روز آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کرتے۔ پینتیس، چالیس شرکأ میں بڑی تعداد تانگہ پارٹیوں کی ہوتی۔نواز شریف اور بینظیر کے دونوں ادوار میں اور پھر پرویز مشرف کے دور میں بھی انہوں نے یہ شغل جاری رکھا۔ اس کے لئے ان کا اپنا فلسفہ تھا جس کے مطابق سیاسی رہنما کسی ایجنڈے کے بغیر صرف کھانے پر بھی مل بیٹھیں تو حکمرانوں کے اعصاب ضرور متاثر ہوتے ہیں اور سیاست تو ہے ہی اعصاب کی جنگ۔ وار آن ٹیرر کے حوالے سے گزشتہ 5 سال میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاسوں کے انعقاد اور ان میں منظور کر دہ قرادادوں کے علاوہ 29 ستمبر 2011ء کو وزیرِ اعظم گیلانی کی طلب کردہ کانفرنس بھی توجہ کا مرکز بنی۔ یہ بھی ایک طرح کا میلہ تھاجس میں کاغذی جماعتیں بھی بڑی تعداد میں موجود تھیں۔ ان میں لاہور کے بھاری بھرکم ”علامہ“ بھی اپنی ”علمأ کونسل“ کی نمائندگی کر رہے تھے۔ موصوف مشرف دور میں سرکاری سرپرستی میں، سرکاری وسائل کے ساتھ آوازِ حق بلند کرتے رہے۔ گورنر خالد مقبول کی بارگاہ میں بھی وہ خاص مقام کے حامل تھے اور دلچسپ بات یہ کہ وہ اب مولانا سمیع الحق کی دفاعِ پاکستان کونسل کے بھی اہم رکن ہیں۔ اس کانفرنس میں فرزندِ لال حویلی بھی اپنی ون مین پارٹی کی نمائندگی کے لئے موجود تھے۔ اب تو وہ تحریکِ انصاف کی امداد اور پنڈی میں مسلم لیگیوں کی باہم سرپھٹول کے باعث رکنِ قومی اسمبلی ہیں۔ تب وہ دو بار کے شکست خوردہ تھے۔ اس کانفرنس میں ون مین پارٹیوں کی قیادت کا بیشتر وقت جنرل کیانی سے اپنا تعارف کرواتے اور وزیٹنگ کارڈ ان کی نذر کرتے گزرا تھا۔ فرزندِ لال حویلی کہ میڈیا سے فائدہ اٹھانے کے فن میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں، کانفرنس کے اختتام سے پہلے ہی باہر چلے آئے اور ٹی وی کیمروں کے سامنے اندر کی کہانی بیان کرنے لگے اور یوں وزیرِ اعظم گیلانی کا برپا کردہ میلہ انہوں نے باہر کیمروں کے سامنے لوٹ لیا۔ اس سال کے اوائل میں اے این پی اور جے یو آئی (ایف) کی آل پارٹیز کانفرنسوں کی اپنی اہمیت تھی۔ جے یو آئی کی کانفرنس میں تو نواز شریف خود بھی شریک ہوئے تھے۔ ان تمام کانفرنسوں میں امن کو موقع دینے کی بات کی گئی تھی۔ وزیرستان سے اٹھنے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مذاکرات ہمیشہ نواز شریف کی اولین ترجیح رہے ہیں۔ جب امریکی مذاکرات کا لفظ تک سننے کے روادار نہیں تھے وہ ان کے سامنے بھی اپنے موقف پر اصرار کرتے۔ خود طالبان کی طرف سے بھی مذاکرات کی پیشکشیں آتی رہیں جو ڈرون حملوں کی نذر ہو گئیں۔ طالبان کمانڈر نیک محمد کے ساتھ گورنر صوبہ سرحد ( تب یہ کے پی کے نہیں تھا) اور کورکمانڈر کامعاہدہ میزائل حملے کی نذر ہو گیا جس میں خود نیک محمد مارا گیا تھا۔ سوات میں صوفی محمد کے ساتھ ہو نے والے معاہدے کا غنچہ بن کھِلے کیوں مرجھا گیا؟ اس حوالے سے مجوزہ آرڈیننس کی فائل جنابِ صدر کی میز پر منظوری کے لئے کیوں ترستی رہی؟ اور پھر نوبت آپریشن تک کیسے پہنچی؟ یہ ایک الگ طویل داستان ہے۔
نواز شریف اور ان کی حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے تمام چھوٹی بڑی سیاسی و مذہبی جماعتوں کا میلہ سجانے کی بجائے صرف ان جماعتوں کی قیادت سے مشاورت کا فیصلہ کیا جو پارلیمانی نمائندگی کی حامل ہیں۔ اسے نیشنل سکیورٹی میٹنگ کا نام دیا گیا تھالیکن میڈیا نے اس آل پارٹیز کانفرنس کا عنوان دیئے رکھا۔ اس میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے علاوہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی موجود تھے۔ تقریباً 40 منٹ کی بریفنگ میں ڈی جی آئی ایس آئی نے زمینی حقائق پر روشنی ڈالی اور مذاکرات کے لئے ضروری نکات تجویز کئے۔ آرمی چیف کی 10 منٹ کی گفتگو کا اختتام ان الفاظ پر ہوا کہ ”دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے حکومت اور ملٹری ایک ہی صفحے پر ہیں“۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ڈرون حملوں پر امریکیوں کے ساتھ کوئی خفیہ انڈر سٹینڈنگ نہیں۔ انہیں اس تجزیے سے بھی اتفاق تھا کہ ڈرون حملے کاوٴنٹر پروڈکٹو ثابت ہو رہے ہیں۔ یہاں وزیرِ اعظم نے بھی یاد دلایا کہ ڈرون حملوں پر ان کی حکومت نے بڑا سخت سٹینڈ لیا ہے۔ انہوں نے جان کیری کے روبرو بھی بھرپور احتجاج کیا۔ اختر مینگل کے لب و لہجے میں کہیں کہیں تلخی در آتی لیکن بحیثیت مجموعی ان کا رویہ مفاہمانہ تھا انہوں نے بلوچستان میں اصلاحِ حوال کے حوالے سے اپنے 6 نکات کو بھی قراداد کا حصہ بنانے کا مطالبہ کیا لیکن وزیرِ اعظم کی اس وضاحت کے بعد کہ آج کی یہ کانفرنس وار آن ٹیرر سے منسلک دہشت گردی کے حوالے سے خاص ہے۔ بلوچستان کے مسئلے پر کوئٹہ میں الگ سے کانفرنس بلائی جائے گی۔ جنابِ اختر مینگل اپنے مطالبے سے دستبردار ہو گئے۔ تقریباً 1100 الفاظ پر مشتمل قراداد میں امن کو موقع دینے (مذاکرات) کی بات کی گئی تھی ۔ اس میں ڈرون کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے جانے کا نکتہ بھی تھا۔ عمران خان خوش تھے کہ ان کے سبھی مطالبات قراداد میں موجود ہیں لیکن طالبان سے مذاکرات پر خود کو بابائے طالبان کہلانے والے مولانا سمیع الحق کا موقف ناقابلِ فہم ہے۔ وہ خود مذاکرات کے پرجوش حامی رہے ہیں اور اب اسے امریکی حکمتِ عملی ، کیا اس لئے قرار دے رہے ہیں کہ انہیں اس کانفرنس میں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔وہ پارلیمنٹ میں موجود ہوتے تو ضرور مدعو کیے جاتے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *