دولت مندوں کا سیکرٹ کلب جہاں اربوں کی ڈیل ڈنر ٹیبل پر

" الیسٹر مارش "

ایک صنعت جس میں طاقت اور اثر و رسوخ کو ڈالروں اور سینٹ میں تولا جاتا ہے میں یہ معیشت  کا سب سے بڑا کلب ہے اور اس میں داخلے کی قیمت کم از کم 25 ملین ڈالر ہے۔

اس کا نہ کوئی نام ہے اور نہ کوئی بورڈ آف ڈائریکٹرز ہیں۔ بس ایک لسٹ ہے جس میں دنیا کے امیر ترین اور کامیاب ترین تاجروں کے نام شامل ہیں۔ ارکان بنیادی طور پر خود ایک ایک شخصی فرم بن جاتے ہیں، حتی کہ فرمز کے اندر نئی فرمز وجود یں آتی ہیں۔ بڑے اور اہم پراڈکٹس  کی ڈیلنگ کے لیے  منظوری دی جاتی ہے  جو صرف ایسے اداروں کے لیے ریزور رکھی جاتی ہیں جو اربوں ڈالر کا کاروبار کرتے ہوں۔  اور یہ سب ان لوگوں کی توجہ سے بچ کر کیا جاتا ہے جنہیں وال سٹریٹ روزانہ کی بنیاد پر ار ب پتی قرار دیتا ہے۔

ان کے رینکس زیادہ انتخابی نوعیت کے ہوتے جا رہے ہیں۔ اگرچہ کسی کو درست تعداد معلوم نہیں لیکن کہا جاتا ہے کہ ایک عشرہ قبل کل تعداد  3000 سے اوپر تھی جو اب کم ہو چکی ہے جس کی وجہ معاشی بحران ہے۔ کئی ماہ تک اتنے لوگوں کا  انٹرویو کر کے صرف 12 افراد کی شناخت کی جا سکی ہے  جن کے پاس آئی ایس ڈی اے کا ماسٹر ایگریمنٹ کا  میڈل موجود ہے۔

ان میں اہم شخص کرس روکوس اور مائکل پلیٹ کے ساتھ ساتھ ڈیوٹیسکی بینک اے جی اور گولڈ مین ساکس گروپ  جو ان کے اپنے ملازمین کے کلائنٹ ہیں کو شامل کر لیا گیا ہے ۔

542 ٹریلین ڈالر کی مارکیٹ میں انسداد تفریق کے لیے آئی ایس ڈی اے معائدہ دو پارٹیوں کے مابین تجارتی شرائط لاگو کرتا ہے۔ ایڈم مکی کی مائکل لیوس کے مطابق وہ ایک ''ہنٹنگ لائسنس'' پیش کرتے ہیں جس سے ایک سرمایہ کار کو ''بگ بوائے ٹیبل پر بیٹھ کر اونچی سطح کا کاروبار بنانے کی اجازت ملتی ہے جو کہ کوئی بیوقوف اور نااہل بندہ نہیں بنا سکتا۔'' جو کمپنیاں ان تک رسائی حاصل کر لیتی ہیں انہیں وہ انتہائی حد تک اپنے مطلوبہ گاہکوں تک رسائی  دے دیتے ہیں ۔

''بینک یہ کاروبار کرتے ہیں کیوں کہ وہ کمپنی ہونے کے بجائے اس سے 2 سے 3 گنا زیادہ چارج کر سکتے ہیں،'' ڈسچی بینک اور کریڈٹ سوئس گروپ اے جی کے ایک سابق سینیئر ویلتھ مینیجر مینوئل ڈیسوزا گیراؤ نے بتایا۔ ''اور یہ بیش قیمت گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔''

لوگ، جیسا کہ 47 سالہ روکوس،  بلوم برگ بلینرز انڈیکس کے مطابق 1.2 بلین ڈالر کے ایک نیٹ ورک کے مالک ہیں۔ بریون ہووارڈ ایسیٹ مینیجمنٹ کے برطانوی معاون بانی جو اپنا ذاتی ہیج فنڈ چلاتے ہیں، 2013 میں ذاتی طور پر آئی ایس ڈی اے ایگریمنٹ پر ایک مخالف پارٹی تھے جب انہوں نے ایک فیملی آفس بنایا۔

49 سالہ پلیٹ جو بلیو کریسٹ کیپیٹل مینیجمنٹ چلاتے ہیں، کے پاس بھی پچھلے عرصے میں ذاتی آئی ایس ڈی اے ایگریمنٹ تھی، ان لوگوں کے کہنے کے مطابق جو اس معاملے سے واقف تھے۔ پلیٹ کے نیٹ ورک کی قیمت بلومبرگ بلینرز انڈیکس کے مطابق اندازا 2.9 بلین ڈالر ہے۔

''یہ وہ پراڈکٹ نہیں ہے جو آپ کے اوسط تاجر سے ایک سال کے صرف 2 سے 5 ملین ڈالر کماتی ہے،'' ایک سابق کریڈٹ تاجر نیلسن رینجل، جو اب ریون کیپیٹلل بی وی کے چیف انویسٹمنٹ افسر ہیں، جو دولت مند افراد کے لیے ایک انویسٹمنٹ مینیجمنٹ فرم ہے۔ ''یہ ایک ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے ذاتی دولت کے حامل مشہور تاجروں اور سرمایہ کاروں کے لیے جن کے لیے الحاق کے لیے بڑی رقمیں بنانے میں کوئی مشکل نہیں ہو گی۔"

روکوس نے اس آرٹیکل پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا جبکہ پلیٹ نے تبصرے کے لیے کی گئی  کئی ای-میلز کا جواب نہیں دیا۔

آئی ایس ڈی اے والے صرف مشہور سرمایہ کاروں کے لیے نہیں ہیں۔ کم معروف سینئر بینکرز اور فنڈ مینیجرز جو صفحہ اول پر نہیں آتے کے ایک گروہ نے دولت اور روابط کو استعمال کیا ہے جو انہوں نے کامیابی حاصل کرنے کے لیے فائننس انڈسٹری میں بنائے ہیں۔

39 سالہ سوفیانی گیئرڈ نے کریڈٹ ڈیریویٹوز کی تجارت سے اپنی دولت کمائی۔ 2014 میں اپنا ہیج فنڈ سیل ووڈ ایسٹ مینیجمنٹ شروع کرنے سے پہلے، انہوں نے سٹٰی گروپ انک کے ساتھ ایک آئی ایس ڈی اے سائن کیا اور معاملے سے واقفیت رکھنے والوں کے مطابق کریڈٹ ڈیفالٹ سویپ انڈیکسز کے سب سے اوپری حصوں میں تجارت کی۔

گیئرڈ جو تونیسیا میں پیدا ہوئے اور پیرس میں تعلیم حاصل کی، نے اپنی ذاتی سرمایہ کاری پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ 2015 کے وسط میں لندن میں سیل ووڈ شروع کرنے سے اب تک انہوں نے کوئی ذاتی تجارت نہیں کی اور یہ کہ اپنا سرمایہ مینیج کرنا ''ان کا آخری مقصد نہیں رہا''۔ سیل ووڈ نے ابتدائی دو سالوں میں مینیجمنٹ کے تحت ا بلین ڈالر کے اثاثے بنائے۔

اس معاملے سے واقفیت رکھنے والوں کے مطابق سٹی گروپ کے ساتھ ٹریڈ سویپ اور دوسرے او ٹی سی کنٹریکٹس کے لیے ایک فرد کے پاس کم از کم 25 ملین ڈالر ہونا ضروری ہے، جس میں سے 5 ملین ڈالر یا اس سے زائد ایک بینک اکاونٹ میں جمع کروانا ضروری ہے۔  گولڈ مین ساکس اور جے پی مورگن جیز اینڈ کارپوریشن  کے لیے زیادہ دولت کی ضرورت ہے، لوگوں نے کہا کہ اگرچہ زیادہ تر کیسز میں لمبے عرصے کے گاہکوں سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

ایک ترجمان نے افراد کے ساتھ فرم کے ڈیریویٹوز معائدوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

معاملے سے واقفیت رکھنے والے ایک شخص کے مطابق کیلیفورنیا میں پیسیفک انویسٹمنٹ مینیجمنٹ کارپوریشن کے ایک سابق مینیجنگ ڈائریکٹر پیسی ہمالینن، جو 41 سال کی عمر میں 2008 میں اپنے بیٹے اور نسل بوگاٹیس کی پرورش کرنے کے لیے ریٹائر ہوئے، نے سٹی گروپ اور گولڈ مین ساکس کے ساتھ آئی ایس ڈی اے معائدہ کیا تھا۔  اس فنش کا مقامی جو پمکو انویسٹمنٹ کمیٹی کے ممبر اور کمپنی میں گلوبل رسک اوورسائٹ کے سربراہ تھے، نے 2012 میں  پمکو چھوڑنے اور کیپیٹل گروپ کارپوریشنز میں شمولیت کے دوران  یو ایس بینکوں کے ساتھ انٹریسٹ ریٹ سویپس اور کرنسی ڈیریویٹوز کی تجارت کی۔ ہمالینن نے 2014 میں وفات پائی۔

معاملے سے واقفیت رکھنے والے ایک شخص کے مطابق کیرن گوڈون، کنگ سٹریٹ کیپیٹل مینیجمنٹ کی سابق ہیڈ ٹریڈر نے 2010 میں فنڈ کو چھوڑنے اور 2012 میں اپنی کمپنی شروع کرنے کے دوران ایک آئی ایس ڈی اے کے ساتھ نیویارک پیننگ کیپیٹل مینیجمنٹ کے ساتھ تجارت کی۔

معاملے سے واقفیت رکھنے والے لوگوں کے مطابق ہیج فنڈ مینیجر ڈیوڈ پیکاک بھی سابقہ آئی ایس ڈی اے رہے ہیں۔ پیکاک کے ایک ترجمان جنہوں نے 1990 کی دہائی میں جے پی مورگن کے پائیونیئرنگ کریڈٹ ڈیریویٹوز بزنس میں اپنا کیریئر شروع کیا تھا اور اب لندن میں چین کیپیٹل مینیجمنٹ میں کو ہیڈ آف کارپوریٹ کریڈٹ اور پارٹنر ہیں نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

لا فرم ایلن اینڈ اووری کے سابق سینئر پارٹنر جیف گولڈن کے مطابق بینکرز اور وکیلوں کے لیے دولت مند افراد کوئی ایسی چیز ہیں جو سوچ سے بالا تر ہوں جنہوں نے انٹرنیشنل سویپس اینڈ ڈیریویٹوز ایسوسی ایشن یا آئی ایس ڈی اے کے ساتھ معائدہ کیا ہو۔ وہ اوریجنل 1987 معائدے اور اس سے متعلقہ اپڈیٹس کے مصنفین میں سے ہیں۔

ڈیری ویٹوز اگرچہ صرف قیاس کے لیے نہیں ہیں۔ کینسنگٹن، لندن کے سب سے مہنگے ٹاؤن،  میں ایک گھر پر گروی رکھنے پر بڑے ریٹ لینے کے بعد، گائیڈو فلپا نے گولڈ مین ساکس کے ساتھ شرح سود بڑھنے کے خلاف تحفظ کے لیے ایک آئی ایس ڈی اے کنٹریکٹ سائن کیا۔

45 سالہ فلپا نے کہا کہ انہوں نے بینک کے لندن آفس میں مینیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر کام کرتے ہوئے گولڈ مین کے پرائیویٹ ویلتھ مینیجمنٹ یونٹ سے معائدہ حاصل کیا۔ وہ 10 سالہ شرح سود ڈیری ویٹوز میں داخل ہوئے جس کے لیے انہیں گروی پر 4 فیصد پریمیم ادا کرنے کی ضرورت تھی، جبکہ بینک کو ہر کوارٹر میں اسے ادائیگی کرنے کی ضرورت ہے جو انٹر بینک کے قرضے کی لاگت کا بینچ مارک پہلے سے مقرر کردہ سطح سے اوپر ہے۔

فلیپا، جنہوں نے 2016 میں بینک چھوڑا، نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ انہوں نے اپنے گھر کے لیے کتنی ادائیگی کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ گولڈ مین اپنے سٹاف سے بینک کے ساتھ مخصوص وجوہات کی بنا پر ان کی ذاتی سرمایہ کاری سے خود نمٹنے کی توقع رکھتے تھے، اور یہ کہ کمپنی نے انہیں خاص مطالبات پر کنٹریکٹ کرنے کی اجازت دی ہوئی تھی۔ جے پی مورگن کی طرح گولڈمین نے بھی اس آرٹیکل پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

"میں نے گھر پر لیے گئے منافع پر انشورنس خریدا،'' فلیپا نے کہا۔ "صرف وقت بتائے گا کہ اس تحفظ کے خریدنے پر مجھے کتنا منافع ہو گا، لیکن اس کی وجہ سے میں سکون سے سو سکتا ہوں، شرح سود کے ساتھ جو بھی ہو۔"

معاملے سے واقفیت رکھنے والے لوگوں کے مطابق پرسنل آئی ایس ڈی اے معائدہ حاصل کرنا کبھی آسان نہیں رہا، لیکن معاشی بحران سے قبل بینکوں نے دل کھول کر لوگوں کو نوازا ۔ دوسرے بحران سے بچنے کے لیے بنائے گئے اصولوں نے ڈیریویٹوز کی تجارت کرنے والے ریڑھی بانوں کے لیے سرمایہ کاری کی قیمتیں بڑھا دی ہیں جو کلیئرنگ ہاؤس کے ذریعے عمل میں نہیں لائی جاتیں، اس سے بڑھ کر یہ کہ قانون ساز جو بینکوں کی غلط فروخت پر توجہ رکھتے ہیں، وہ زیادہ بینکوں کو منتخب کرتے ہیں جن کے ساتھ وہ تجارت کرنے کو تیار ہوں۔

ارب پتی ریئل اسٹیٹ انویسٹر جیف گرین جنہوں نے یو ایس سب پرائم مورٹ گیج بونڈز کے خلاف شرط لگائی کہتے ہیں کہ 2006 میں انہیں میرل لینچ سے معلوم ہوا کہ وہ کمپنی کے پہلے گاہک تھے جنہوں نے اس مارکیٹ میں کریڈٹ ڈیفالٹ سویپس کی تجارت کرنے کے لیے پرسنل آئی ایس ڈی اے حاصل کیا۔

اپنے دوست کے ساتھ سرمایہ کاری کرنے کی ایک پیشکش سے انکار کرتے ہوئے، ہیج فنڈ کے باس جاہن پالسن، گرین نے اپنی تجارت شروع کی اور کہا کہ انہوں نے مورٹ گیج بونڈز میں 1 بلین ڈالر کی کمی کو پورا کرنے کے لیےکریڈٹ سویپس کے پورٹ فولیو پر 800 ملین ڈالر کا منافع حاصل کیا۔

بعض کیسز میں بینک کے مالکان اپنے ملازمین کے ساتھ تجارت کرنے کے لیے آئی ایس ڈی اے حاصل کرنے  میں کامیاب رہے ہیں جس کی وجہ ایک خاص انتظام  ہے جو ویلتھ مینیجمنٹ یونٹ کی طرف سے فراہم کیا جاتا ہے۔ یہی معاملہ ڈسچی بینک کا تھا جہاں سینئر ایگزیکٹوز بشمول راج بھٹا چاریا اور بوز وینسٹین  نے بینک سے آئی ایس ڈی اے  کر رکھا تھا جب کہ وہ فرم میں ملازم تھے ۔

بھٹا چاریا، جو جرمن قرض دہندہ کے ساتھ رہتے ہیں اور ابھرتے ہوئے بازاروں کے قرضوں اور امریکہ میں غیر ملکی تبادلے کی فرنچائز کے سربراہ ہیں نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا جیسا کہ وینسٹین نے کیا جنہوں نے اپنا ذاتی ہیج فنڈ سبا کیپیٹل مینیجمنٹ مرتب کرنے کے لیے 2009 میں کمپنی کو چھوڑا تھا۔

''ڈسچی بینک کے  سود کے تنازعات سے بچنے کے لیے سخت اصول و ضوابط ہیں ''، نیو یارک میں بینک کے ایک ترجمان اولاینکا فڈا ہونسی نے کہا۔

گولڈ مین ساکس نے اپنے سینئر سٹاف کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ بھی او ٹی سی ڈیریویٹیوز کی تجارت کی ہے۔ جاہن وینگ، نیو یارک میں ایک سابق مینیجنگ ڈائریکٹر جنہوں نے وی آئی ایکس وولیٹلٹی انڈیکس کے ساتھ ملحقہ پراڈکٹس کے کاروبار بنانے کے لیے بینک کی مارکیٹ چلائی اس کی ایک مثال ہیں۔

وینگ جو اب کیلیفورنیا، سین میرینو میں ایک میکرو فنڈ چلاتے ہیں، نے کہا کہ وہ اس سٹاف میں سے ایک تھے جن کا بینک چھوڑنے سے قبل بینک کے ساتھ آئی ایس ڈی اے تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے آئی ایس ڈی اے کا استعمال کیا جو ایکویٹی انڈیکس اور شرح سود آپشن ٹریڈز کے لیے ابھی تک فعال ہے۔

''میں نے آئی ایس ڈی اے حاصل کیا کیوں کہ میں ایک تاجر ہوں اور مجھے سرمایہ کاری کرنے کا شوق ہے  لیکن میں جتنی سرمایہ کاری کر سکتاہوں یہ اس ڈیسک کے لیے کافی نہیں ہے۔ "  یہ بیان وینگ  کا ہے جنہوں نے بینک آف امریکہ کارپوریشن کے ساتھ اپنا الگ معائدہ سائن کیا۔

معاملے سے واقفیت رکھنے والے لوگوں کے مطابق وہ سیٹ اپ جہاں ایک بینک اپنے سٹاف کے ساتھ تجارت کرتا ہے مفادات کے ٹکراو کا باعث بن سکتا ہے مثال کے طور پر جب جونیئر ساتھی اپنے سینیئرز کو ذاتی تجارت  کے لیے اچھی قیمت دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں، جسے گاہک کے آرڈر کے طور پر اسی ڈیسک سے عمل میں لایا جا سکتا ہے۔

سابق ملازمین بھی ایک آئی ایس ڈی اے ایگریمنٹ کے لیے اپنا انسٹی ٹیوشنل علم اور تعلقات استعمال کر سکتے ہیں۔ سائمن مورس جو 2016 کے اختتام تک گولڈ مین ساکس کے ہیڈ آف کریڈٹ ٹریڈنگ فار یورپ اور ایشیا پیسیفک ریجن کے ہیڈ ہیں  اس کی ایک واضح مثال ہیں ۔

انہوں نے پچھلے سال جنوری میں اپنے پیسے  سے تجارت کرنے کے لیے ایک کمپنی  قائم کی۔ معاملے سے واقفیت رکھنے والے ایک شخص کے مطابق بولٹنز پلیس کیپیٹل مینیجمنٹ لیمیٹڈ جو کینسنگٹن  نامی کمپنی جس کے نام سے ایک گلی بھی  کینسنگٹن میں موجود ہے،  نے گولڈمین سیکس کے ساتھ آئی ایس ڈی اے کر رکھا ہے ۔ مورس نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

''یہ شاہانہ سہولیات  فائننس کی دنیا کے کچھ خاص لوگوں کو ہی میسر ہیں ۔ زی ٹنگ چونگ نے کہا جو کہ سائیٹیڈل ایل ایل سی سمیت سے بہت سی کمپنیوں کے سربراہ رہ چکے ہیں اور اب مونز کیپٹل لیمیٹڈ نامی انویسٹمنٹ فرم  کے ذریعے اپنے کلائنٹس کو ٹھیکے دلواتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: یہ مزے اڑانے کے لیے آپ کو بہت مالدار ہونا پڑے گا  اور مالی طور پر ایک مہذب دنیا کا حصہ بننا ہو گا ۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ اور کو بینک میں صحیح شخص کی پہچان کی قابلیت بھی حاصل کرنا ہو گی۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *