چین کا حقیقی گلوبل ویلج کا تصور

 دنیا میں عالمی طاقتوں کی تاریخ جنگ کے شعلوں میں لکھی گئی ہے۔ قدیم عالمی طاقتوں سے لیکر جدید زمانے کی عالمی طاقتوں تک تاریخ کے اوراق انسانی خون سے لبریز ہیں۔عالمی طاقتوں کی تاریخ میں ایران  ہو یاسلطنت روم،سکندر اعظم کا یونان ہو یا مسلم خلافتیں اپنے اپنے دور میں  ہر عالمی طاقت نے انسانوں پر آگ اور بارود برسایا ہے۔یہاں تک کہ اپنی وحشت کا خوف پھیلانے کیلئے انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنائے ہیں۔برطانیہ کے بعد روس اور روس کے بعد امریکا نے بطور سپرپاور ظلم و جبر کی نئی داستانیں رقم کیں ہیں۔عراق،افغانستان،لیبیا،سوڈان اور شام جیسے ممالک  آج بھی امریکی طاقت کی بھڑکائی گئی آگ میں سلگ رہے ہیں۔ عالمی طاقتوں نے جنگیں مسلط کرتے ہوئے دنیا کا امن تباہ و برباد کیا اور انسانی خون سے منڈیاں سجائی ہیں۔ہر عالمی طاقت کا یہی چلن نظر آتا ہے کہ طاقت کے منہ زور گھوڑے پر سوار کمزور اور مخالفین کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی ہے۔موجودہ عہد میں امریکا کے مقابلے میں ابھرتی ہوئی عالمی طاقت چین ہے جس نے اپنی طاقت کا اظہار بریکس(BRICS)،سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ کے عالمی ترقیاتی منصوبوں سے کیا ہے۔بریکس پانچ ممالک برازیل،روس،انڈیا،چین اور ساوتھ افریقہ کی ترقیاتی تنظیم ہے۔بریکس کا قیام جون  2006میں عمل آیا جبکہ ساوتھ افریقہ نے 24دسمبر 2010میں شمولیت اختیار کی۔بریکس نے ممبر ممالک کی ترقی کیلئے 2050 کا ہدف مقررکر رکھا ہے۔سی پیک پاکستان چائنا اکنامک کورڈور کی بنیاد22مئی 2013کو رکھی گئی تھی۔خالص ریجنل منصوبہ ہے۔پاک چین راہداری منصوبہ کا بنیادی مقصد تجارتی سرگرمیوں کیلئے اک مربوط  انفراسٹرکچر کی تعمیر ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ دنیا کا جدید ترین اور بڑا منصوبہ ہے۔جس میں ابتدائی طور پر152ممالک کو شامل کیا گیا۔جن میں چین مختلف سیکٹر میں سرمایہ کاری کرے گا۔اگر ون بیلٹ ون روڈ میں شامل ممالک کی فہرست دیکھیں تو زیادہ تعداد غریب ممالک کی ہے۔آپ تصور کریں کہ 2049تک چین کی سرمایہ  کاری سے مذکورہ ممالک کے حالات کس قدر بہتر ہو سکتے ہیں۔چین  کے ان منصوبوں سے چین کو بے تحاشا فائدہ ہوگا۔اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے۔زیر بحث امر یہ ہے کہ چین نے عالمی طاقت کے خبط میں کمزور ممالک کی منڈیوں پر فوجی قوت سے قبضہ کرنے کی بجائے معاشی ترقی کے پھیلاؤ کو ترجیح دی ہے۔جس سے یقینی طور چین کی ترقی  کے ثمرات غریب ممالک کو بھی حاصل ہوسکیں۔اگر صرف پاکستان میں سی پیک کے منصوبے کا پاکستان کی معیشت کے حوالے سے جائزہ لیا جائے تو منصوبے کی تکیمل اور تجارتی سرگرمیوں کے شروع ہونے پر ملکی معیشت تیز رفتارترقی کرے گی۔ بجلی و گیس کے بحرانوں سے نجات ملے گی اورغربت،بے روزگار،مہنگائی اور بدامنی کا بتدریج خاتمہ ممکن ہوگا اور پاکستان غربت کی دلدل سے نکل آئے گا۔یہ محض خواب نہیں ہے بلکہ چین کے منصوبوں کی پیشگی حقیقت ہے۔ایتھوپیا جیسے ممالک بھی ون بیلٹ ون روڈ منصوبے میں شامل ہیں۔یہاں چین کی فراخدلی یا غریب ممالک سے ہمدری کی بات کے بجائے یہ امر واضح کرنے کی کوشش ہے کہ چین نے مروجہ عالمی طاقتوں جارحیت پسندانہ طریقے کی بجائے شراکت کی بنیاد رکھی ہے۔جو دنیا کی تاریخ میں اک نئی روایت کا آغاز ہے۔2050کے بعد کی دنیا امریکی سامراج کے خون آلود پنجوں سے آزاد ہو کر نئی معاشی آزادیوں کے ساتھ انسانی زندگی کی تمام تر سہولیات کے ساتھ زمین پر جلوہ افروز ہوگی۔جس میں ایٹمی اسلحہ سمیت آگ اور بارود کے ڈھیر جمع کرنا وحشت اور درندگی تصور کیا جائے گا.۔انسانوں کو امان ہی امان حاصل ہوگی۔چین کے 2050کے بعد کی دنیا کا تصور اک حقیقی گلوبل ویلج کی تخلیق ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *