ابھی وقت ختم نہیں ہوا

حال ہی میں ایک جامع اور مکمل بریفنگ میں میجر جنرل آصف غفور نے سٹیٹ رئیلزم کے بنیادی قواعد و ضوابط پر روشنی ڈالی ہے۔ لیکن اس سے قبل  مندرجہ ذیل معاملے پر کچھ سوچنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کوئی منظم دہشت گرد گروپ موجود نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فوج نے القائدہ اور تحریک طالبان پاکستان کی کمر توڑ دی اور لشکر جھنگوی کو بھی کمزور تر بنا دیا ہے۔ لیکن ان مجاہدین اور جہادی تنظیموں جنہیں عالمی کمیونٹی نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے اس کے بارے میں ابھی تک سوالیہ نشان موجود ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان فٹف کی بلیک لسٹ سے جان چھڑانے میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ میجر جنرل نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں جس میں 81000 سے زیادہ لوگ دہشت گردی کی نظر ہو گئے ہیں۔ یہ بھی سچ ہے لیکن دنیا کو اس بات کا ادراک ہے ۔ ہمارے گھر میں پیدا ہونے والے دہشت گرد ہماری اپنی خراب پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ جنرل صاحب فرماتے ہیں کہ ریڈیکلائزیشن  افغان جہاد کے نتیجہ میں شروع ہوئی۔ یہ بھی سچ ہے لیکن اس پراجیکٹ میں ہم اپنی مرضی سے اور پورے جوش سے خود شامل ہوئے۔ میجر صاحب کا کہنا ہے کہ افغانستان میں عالمی طاقتوں کی مداخلت کے بعد دہشت گردی پاکستان میں پھیلی۔ یہ سچ ہے لیکن ہم نے 20 سال تک طالبان کو محفوظ پنا گاہیں فراہم کیں اور انہیں مضبوط ہونے کا موقع دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ پچھلے سال ان جماعتوں کو مین سٹریم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ یہ بھی سچ ہے لیکن ایسی کیا وجہ تھی کہ ہم نے ایک اہم مسئلے کے حل میں 20 سال ضائع کر دیے اور تب ہم کسی کائناٹک آپریشن میں بھی مصروف نہیں تھے۔

میجر جنرل غفور نے کہا کہ مدرسوں کو مین سٹریم کیا جائے گا اور محکمہ تعلیم کےتحت لایا جائے گا۔ یہ اچھی سوچ ہے لیکن مین سٹریم کرنا تو دور، مدرسوں نے آج تک نیشنل ایکشن پلان کے تحت رجسٹریشن کو بھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچنے دیا۔ اب پنجاب حکومت اور مذہبی جماعتیں اس پر عمل کرنے سے انکاری ہے۔ سچ یہ ہے کہ خیبر پختونخواہ کی حکومت بہت سے مدارس کو فنڈنگ کرتی آئی ہے جنہوں نے دہشت گردوں کو بہت تعاون فراہم کیا ہے۔

سب سے اہم بات جنرل غفور کی پی ٹی ایم کے بارے میں بریفنگ تھی جس کی وجہ سے ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملٹری نے پی ٹی ایم کے تحفظات دور کرنے کے لیے مثبت رد عمل ظاہر کیا چیک پوسٹس کم کر دیں لیکن ایریا میں سول ایڈمنسٹریشن کے انحطاب  کی وجہ سے بارڈر سے دہشت گرد آنے لگتے ہیں۔ یہ بات شاید درست ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ لاپتہ افراد ابھی تک لا پتہ ہیں ماورائے عدالت قتل جن میں نقیب اللہ محسود کا قتل شامل ہے جیسے واقعات کی تفتیش نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے پوچھا کہ پی ٹی ایم نے افغان حکومت کو کیوں کہا کہ وہ طاہر داوڑ کی میت واپس نہ کرے۔ انہوں نے پی ٹی ایم پر الزام لگایا کہ یہ دشمن خفیہ ایجنسیوں سے مالی مدد لیتی ہے۔ اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے تو یہ پی ٹی ایم کے خلاف سب سے بڑی فرد جرم ہو گی۔

جواب میں پی ٹی ایم نے فوج پر الزام لگایا ہے کہ وہ خود کو کسی کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتی اور عوام سے سختی برتتی ہے۔ یہ بات بہت سی انسانی حقوق کے کارکنان ، میڈیا اور سیاسی پارٹیوں نے بھی اکثر کہی ہے۔

اس کے جواب میں میجر جنرل نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی ایم کے لیے وقت ختم ہو چکا ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ فوج کچھ پی ٹی ایم لیڈران کو غدار قرار دے کر قید کر دینا چاہتی ہے۔ ایسا کرنا ایک بہت بڑی حماقت ہو گا۔ اس سے پی ٹی ایم کی اہمیت بڑھتی جائے گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ پی ٹی ایم مسلح جدو جہد پر اتر آئے کیونکہ یہ ممکن ہے کہ بیرونی طاقتیں صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔

ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسے لوگ بھی گزرے ہیں جنہیں سٹیٹ رئیلزم کی بنیاد پر غدار قرار دیا گیا۔ ایسے لوگوں کی لسٹ بہت لمبی اور متاثر کن ہے جن میں فاطمہ جناح، حسین شہید سہروردی، مجیب الرحمان، جی ایم سید، خان عبدالولی خان، خیر بخش ماڑی، عطااللہ مینگل، اکبر بگٹی، وغیرہ شامل ہیں۔ ہم کالعدم تنظیموںکی بھی حقیقت جانتے ہیں کہ یہ ایک بار پھر نئے نام کے ساتھ سامنے آ جاتی ہیں۔

پی ٹی ایم کے اٹھنے کی وجہ قبائلی علاقوں میں لوگوں پر ہونے والے ظلم و ستم  ہے جس کا تعلق پچھلے 10 سال میں دہشت گردی سے تھا۔ پشتون عوام ہمیشہ کراس فائر اور شدت پسندوں کے حملوں اور جوابی آپریشن میں بیچ میں آ جاتے ہیں اور نقصان اٹھاتے رہے ہیں۔ ایک وقت تھا جب کہ حملہ آور ہمارے ریاستی اثاثے تھے اور یہاں کے عوام کو ان کے ساتھ تعاون کرنے کا حکم تھا۔ خاص طور پر ان لوگوں سے جو ان دونوں طاقتوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں بنتے تھے۔ لیکن جب یہ اثاثے بوجھ بن گئے تو جن لوگوں نے ایک پارٹی سے  تعاون کیا تھا انہیں دوسری پارٹی نے ٹارگٹ کرنا شروع کر دیا۔ نتیجہ کے طور پر نسلی بنیادوں پر ظلم و ستم، اچانک لا پتہ ہو جانے کے واقعات پیش آنے لگے  جس کی وجہ سے قبائلی پشتون عوام ریاستی پالیسیوں سے بہت خوف زدہ ہیں۔ پی ٹی ایم انہیں لوگوں کی آواز بن چکی ہے۔ اگر ہمسایہ خفیہ ایجنسیاں ان لوگوں کے جذبات کا استحصال کررہی ہیں تو اسے ایک حقیقت تسلیم کرنا ہو گا اور اسے پاکستانی خفیہ ایجنسی کی طرف سے ہمسایہ ممالک میں کیے گئے اعمال کا بدلہ یا نتیجہ مانا جائے گا۔

اگر پاکستانی ملی ٹیبلشمنٹ کو حالات نے اپنی پرانی گمراہ کن پالیسیوں کو تبدیل کرنے پر مجبور کر ہی دیا ہے تو اسے چاہیے کہ عوام کے جائز مطالبان کو تسلیم کرے خاص طور پر ان لوگوں کے جنہوں نے آرمی کے غلط اندازوں کی قیمت چکائی اور ان کے زخموں پر مرہم رکھے۔ فاٹا میں ہر دوسرا گھر کسی نہ کسی طرح دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متاثر ہوا ہے۔ پی ٹی ایم ان لوگوں کی آواز ہے جسے سنا جانا چاہیے۔ میڈیا کو اجازت ہونی چاہیے کہ اس جماعت کی جانچ پڑتال کریں۔ دوسری طرف پی ٹی ایم کو بھی چاہیے کہ آرمی کو گالی دینا بند کرے تا کہ اس کے بیرونی طاقتوں کا آلہ کار ہونے کا تاثر زائل ہو۔

سویلین حکومت اور اپوزیشن کو مل کر پارلیمنٹ میں  پی ٹی ایم لیڈرز کے ساتھ بیٹھنا اورمسئلے کا ایک باعزت طریقے سے حل ڈھونڈنا چاہیے  تا کہ متعلقہ عوام کے قانونی اور حقیقی مطالبات پر عمل کیا جا سکے۔ ملٹری کا خود پسندی اور محکمانہ رویہ  ہمدردی اور احساس سے بھر پور رویہ سے بدلنا چاہیے۔ ابھی وقت ختم نہیں ہوا بلکہ وقت تو ابھی آیا ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *