پاک ایران تعلقات اور نئے امکانات

''پاک ایران تعلقات: نئے تزویراتی اور اقتصادی امکانات‘‘ جیسے اہم موضوع پر اس ''مکالمے‘‘ کا اہتمام محمد مہدی نے کیا تھا۔ مہدی کی سیاسی وابستگی مسلم لیگ (ن) سے ہے۔ خارجہ امور اِن کی دلچسپی کا خاص موضوع ہیں۔ میاں محمد نواز شریف نے انہیں 2006 میں مسلم لیگ (ن) کا کوآرڈی نیٹر برائے خارجہ امور مقرر کیا اور پاکستان میں غیرملکی سفارت خانوں سے روابط ان کی ذمہ داری قرار پائے۔ دلچسپ بات یہ کہ وہ اسلام آباد سے دوسرے ملکوں میں ٹرانسفر ہو جانے والے سفارت کاروں سے بھی مقدور بھر رابطے میں رہتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان گزشتہ دنوں ایران کے دورے سے واپس آئے تو محمد مہدی نے تبادلہ خیال کیلئے خارجہ امور میں دلچسپی رکھنے والے کوئی ڈیڑھ درجن دانشوروں کے مل بیٹھنے کا اہتمام کیا۔ ایران میں چھ سال تک( 1997-2003)سفیر پاکستان کے طور پر خدمات انجام دینے والے جاوید حسین مہمانِ خصوصی تھے۔ پنجاب یونیورسٹی میں پاکستان سٹڈیز سنٹرکے پروفیسر ڈاکٹر امجد مگسی مہمانِ اعزازی قرار پائے۔ 
ایران دنیا کے ان ممالک میں شامل تھا جنہوں نے پاکستان کے قیام کا پرُجوش خیر مقدم کیااور اقوام متحدہ میں اس کی شمولیت کی بھرپور حمایت کی تھی۔ 1965کی پاک بھارت جنگ میں بھی اس نے پاکستان کی تائید وامداد میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی (اس میں پاکستان کے لیے تزویراتی گہرائی (Strategic depth)کی فراہمی بھی شامل تھی)یہ رضا شاہ پہلوی کا ایران تھا۔ پاکستان اور ایران علاقائی تعاون برائے ترقی کی سہ ملکی تنظیم( آر سی ڈی )کا حصہ بھی تھے(تیسرا ملک ترکی تھا) وہ سرد جنگ کا دور تھا اورسوویت خطرے کے سدباب کے لیے یہ تینوں امریکی بلاک میں شامل تھے۔ اسلام آباد اور تہران کے تعلقات میں قدرے کشیدگی 1974میں سامنے آئی جب شاہ نے لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت سے انکار کردیا( ہمارے قائدِ عوام کی طرف سے لیبیا کے معمر قذافی کی غیر معمولی قدر افزائی پر یہ شاہ کا احتجاج تھا)
1978-79میں ایران کے گلی کوچوں میں''لاشیعہ، لاسُنیہّ ، اسلامیہ اسلامیہ ‘‘اور لا شرقیہ،لاغربیہ‘‘ اسلامیہ اسلامیہ‘‘ کے نعروں کی گونج تھی۔ ایران کے سُنی بھی شاہ کے خلاف تحریک میں پیش پیش تھے(ایران کی کمیونسٹ تو دہ پارٹی بھی پیچھے نہ تھی )دنیا بھر کی اسلامی تحریکیں انقلاب کی پُر جوش حمایت کررہی تھیں۔ ان ہی دنوں امام خمینی کے دو نوجوان نمائندے پاکستان تشریف لائے ( خمینی ابھی پیرس میں تھے)امام کے نمائندوں نے اچھرہ میں مولانا مودودی سے ملاقات کی۔ وہ ایران کی انقلابی تحریک کے لیے جماعت اسلامی کی حمایت پر اظہارِ تشکر کے ساتھ، اس حمایت کو وسیع تر کرنے کی درخواست لے کر آئے تھے(ایوب خاں نے 1963میں جماعت اسلامی پر پابندی عائد کی تو ایک الزام دوست ملکوں (ایران) کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کی کوشش بھی تھا۔مولانا مودودی ؒ نے امام خمینی کے خلاف شاہ کی انتقامی کارروائیوں (اور ان کی جلا وطنی) کی مذمت میں ترجمان القرآن میں بڑا زور دار اداریہ لکھا تھا(جس پر ترجمان کا ڈیکلریشن بھی منسوخ کردیا گیا) ایک شہنشاہ اور اتنا طاقتور شہنشاہ ، جو خطے میں خود کو امریکی پولیس مین قرار دیتا، اور امریکہ سمیت سارا مغرب اس کی پشت پر تھا، اس کے خلاف تحریک، خطے کے دیگر بادشاہوں کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی تھی، لیکن ہمیں یاد پڑتا ہے کہ ایران میں رضا شاہ کے خلاف تحریک عروج کو پہنچی تو سعودی عرب کے شاہ فہد کی طرف سے بھی اس کی حمایت میں بیان آگیا ۔ آخر کار شاہ رخصت ہوا اور امام خمینی پیرس سے تہران پہنچ گئے۔ 
تاریخ ایک نیا موڑ مڑ گئی۔ ایران میں غالب تعداد اہل تشیع کی ہے لیکن امام خمینی کی تہران واپسی پر جس انقلاب کا سورج طلوع ہوا، اسے شیعہ انقلاب کی بجائے، ایران کا اسلامی انقلاب قرار دیا گیا۔ ( یہ الگ بات کہ ایران میں پبلک لاء کے طور پر جس فقہ کا نفاذ ہونا تھا، وہ فقہ جعفریہ تھی) امام خمینی کی قیادت میں جو حکومت قائم ہوئی اس میں اہم مناصب جدید تعلیم یافتہ لوگوں کے سپرد ہوئے۔ صدارت جناب بنی صدر کے حصے میں آئی۔ وزارت خارجہ صادق قطب زادے کے سپرد ہوئی۔ جدید ایران کا کردار او آئی سی میں بھی بہت اہم ہوگیا تھا۔ افغانستان میں سوویت جارحیت کے خلاف اسلام آباد میں منعقدہ او آئی سی وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس میں صادق قطب زادے بہت سرگرم تھے۔ سوویت جارحیت کی مذمت اور سوویت انخلا جیسے مطالبات پر مبنی چارنکاتی قرارداد کے محرک بھی قطب زادے ہی تھے۔ زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ انقلاب نے نئی کروٹ لی۔بنی صدر جلا وطنی پر مجبور ہوئے اور قطب زادے پھانسی پر جھول گئے۔ انقلاب پر ''مذہبی گرفت‘‘ مضبوط تر ہوگئی تھی۔ نئی ایرانی قیادت نے انقلاب کو ایکسپورٹ کرنے کا اعلان بھی کردیا تھا۔ عراق، انقلاب کی پیش بندی کے بہانے ایران پر حملہ آور ہوگیا (عراق کو کئی ممالک کی دامے ، درمے ،سخنے ، ہر طرح کی تائید اور تعاون حاصل تھا) 
پاکستان ایک سنگین چیلنج سے دوچار تھا۔ اسے عربوں کو بھی ناراض نہیں کرنا تھا اور ایرانی بھائیوں کے لیے بھی مسائل پیدا نہیں کرنا تھے۔ اسے سوویت یونین کے خلاف افغانستان میں مزاحمت کے لیے امریکہ اور یورپ کی مالی وعسکری امداد کے ساتھ عربوں کے پیٹروڈالر کی بھی ضرورت تھی لیکن جنرل ضیاء الحق نے امریکیوں کی خواہش کے برعکس ایران کی سرحد پر کسی قسم کا دبائو پیدا کرنے سے صاف انکار کردیا( کراچی کی بندرگاہ کے ذریعے ایران کو اسلحہ کی فراہمی بھی جاری رہی)
سوویت انخلا کے بعد ، افغانستان میں پاک ، ایران مفادات میں تضادات سراٹھانے لگے۔ کابل میں پاکستان کی دوست حکومت کے خلاف ایران کی ہمدردیاں شمالی اتحاد کے ساتھ تھیں۔ نائن الیون کے بعد کابل میں طالبان حکومت کے خاتمے میں، ایران نواز شمالی اتحاد امریکہ کے ساتھ تھا (یہی معاملہ عراق میں ہوا، جہاں صدام حکومت کے خاتمے میں، ایران کی ''ہمدردیاں‘‘ امریکہ کے ساتھ تھیں) ایران، عرب کشمکش میں پاکستان کو ''تنے ہوئے رسّے‘‘ کا سفردرپیش تھا۔ عرب ریاستوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی اپنی خاص اہمیت تھی۔ سفارتی ودفاعی معاملات کے علاوہ اقتصادی حوالے سے بھی ان تعلقات کی بے پناہ افادیت تھی۔ لاکھوں پاکستانی ان ریاستوں سے اربوں ڈالر زرمبادلہ بھجواتے ہیں۔
حالات کے جبر نے (یا یو ںکہہ لیجئے کہ علاقائی مفادات نے) ایران کو بھارت کے قریب تر کردیا۔ دونوں میں باہم تعاون کی راہیں کشادہ ہورہی تھیں (بھارتی سرمائے سے چاہ بہار کی بندرگاہ اس کا ایک ثبوت تھی) پاکستان نے ایرانی بھائیوں کی دل جوئی میںکبھی کمی نہ آنے دی۔ اپنے پہلے دورِ اقتدار میں افغان تنظیموں کے درمیان معاہدہ اسلام آباد کے بعد، وزیر اعظم نوازشریف ، افغان قائدین کو ریاض کے علاوہ تہران بھی لے گئے۔ حالیہ یمن تنازعے میں انہوں نے فریق بننے سے ا نکار کردیا۔ اپنے تیسرے اقتدار کے آخری مہینوں میں ریاض میں ایک عالمی کانفرنس میں وہ موجود تھے(اس میں صدر ٹرمپ بھی شریک تھے) لیکن ان کی تقریر اس لیے نہ کروائی گئی کہ وہ ایران کی مذمت کے لیے آمادہ نہ تھے۔ ان ہی دنوں ایران کے صدر حسن روحانی بھی اسلام آباد تشریف لائے، تعلقات نیا خوشگوار موڑ لے رہے تھے، کہ کلبھوشن کے حوالے سے ایک ٹویٹ نے بدمزگی پیدا کردی۔
اب وزیر اعظم عمران خان تہران کے دورے سے لوٹے، تو دانشورانِ لاہور کے اس مکالمے میں سابق سفیر پاکستان جاوید حسین اور پروفیسر ڈاکٹر امجد مگسی کا کہناتھا کہ صدر حسن روحانی کے ساتھ مشترکہ اعلامیے میں کشمیر کا ایک بین الاقوامی تنازعہ کے طور پر ذکر اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق استصواب رائے کا مطالبہ کم اہم نہیں۔ اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہے کہ ایران، ہندوستان کے زیر اثر نہیں۔ ان کا کہنا تھا، چین کے ابھرتے ہوئے خطرے کے مقابلے کیلئے امریکہ، ہندوستان کو ایک بڑے کردار کیلئے تیار کررہا ہے، خطے میں نئی وابستگیاں جنم لے رہی ہیں، جس میں پاکستان کیلئے شاندار مواقع ابھررہے ہیں۔ سی پیک ایک عظیم منصوبہ ہے، ایک بہت بڑا گیم چینجر، جو پاکستانیوں کا مقدر بدل دے گا۔ چاہ بہار، گوادر کی حریف نہیں، حلیف بندرگاہ کے طور پر ابھرے گی، خودایرانی قیادت اسے گوادر کی سسٹر پورٹ قرار دے رہی ہے۔ ضرورت پاکستان میں داخلی سیاسی استحکام کی ہے۔سیاسی محاذ آرائی اور بے یقینی وعدم استحکام کا ماحول پاکستان کیلئے عظیم الشان امکانات کی راہ میں اصل رکاوٹ ہے۔ 
بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *