ڈاکٹر عشرت العباد کی افادیت

ئجم سیٹھی Najam Sethi

 آج کل گورنر سندھ، ڈاکٹر عشرت العباد لندن میں اپنے قائد الطاف حسین، جن کی جماعت نے اُنہیں گورنر نامزد کیا تھا، کے زیر ِ عتاب ہیں۔ الطاف بھائی کا کہنا ہے کہ بس، بہت ہوچکی، اب گورنر صاحب بے کار ہیں کیونکہ وہ ایم کیو ایم کو تحفظ نہیں دے پارہے ، چنانچہ اُنہیں چاہئے کہ یا تو گورنرکے عہدے سے مستعفی ہوکر احتجاجی مظاہرین میں شامل ہوجائیں ورنہ اُنہیں ایم کیو ایم کی صفوں سے نکال دیا جائے گا۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ الطاف بھائی ڈاکٹر صاحب سے ناراض ہوئے ہوں اور ناراضی کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے چیف کی توقعات پر پورااترنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔تاہم وہ گاہے بگاہے پیداہونے والے بحرانوں کے باوجود بہت عمدگی سے وقت گزارتے ہوئے اپنے منصب پر موجود ہیں۔
آج ڈاکٹر عشرت العباد ایک مرتبہ پھر ایسے ہی بحران کی زد میں ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ ماضی میں الطاف حسین اپنی حمایت سے بننے والے گورنر پر اس لئے ناراض ہوتے تھے کہ وہ سندھ میں پی پی پی کے ساتھ ایم کیو ایم کے قائم ہونے والے الائنس سے زیادہ سے زیادہ سیاسی فائدہ اٹھانے میں ناکام ثابت ہورہے ہیں، لیکن چونکہ ان دونوں جماعتوں کا الائنس کبھی بھی مکمل طور پر پٹری سے نہیں اترا ، اس لئے ڈاکٹر صاحب اپنی خداداد ہنرمندی کے باعث کچھ نہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے۔اُن کا سب سے اہم کارڈ اُن کا پرسکون رویہ اور ٹھہرائو پسند طبیعت تھی جس کی مدد سے وہ الطاف بھائی کی طرف سے گاہے بگاہے کی جانے والی جوشیلی تقاریرسے پیدا ہونے والے رخنے کو پاٹتے ہوئے پی پی پی اور ایم کیو ایم کے درمیان رابطہ ٹوٹنے نہ دیتے، لیکن اب معاملہ یکسر مختلف ہے۔ آج کل ایم کیو ایم پر دبائو پی پی پی کی طرف سے نہیں کی طرف سے ہے اور اس کی نوعیت غیر معمولی ہے۔ 1980 اور پھر 2000 کی دہائیوں میں ایم کیو ایم اسٹیبلشمنٹ کی چہیتی تھی کیونکہ پہلے تو جنرل ضیا کے زمانے میں اس کی مدد سے سندھ میں پی پی پی کو دبانا مقصود تھا اور پھر جنرل مشرف کے دور میں اسے کراچی اور سندھ کے دیگر شہری علاقوں میں حاصل طاقت کی وجہ سے سندھ میں پی پی پی اور ملک کے دیگر حصوں میں پی ایم ایل(ن) کو دبانے کے لئے استعمال کیا گیا۔ حتی کہ جنرل کیانی کے دور میں بھی ایم کیو ایم کے ذریعے پی پی پی اور پی ایم ایل (ن)کو ان کی حد میں رکھنے کی کوشش کی گئی۔ الطاف بھائی کے متعددبیان ریکارڈپر ہیں کہ اُنھوں نے اسلام آباد میں وفاقی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے مارشل لا آنے کی نوید سنائی ، جبکہ وہ جنرلوں سے بھی مخاطب ہوکر کہتے سنے گئے کہ وہ آگے قدم بڑھائیں۔
تاہم جنرل راحیل شریف کی قیادت میں فوج کا کوئی بھی سیاسی فیورٹ نہیں اور وہ کسی جھکائو یا تعصب کے بغیر کراچی ، جہاں ایم کیو ایم کے مسلح ونگز اتنے ہی خطرناک ہیں جتنے طالبان اور دیگر جہادی تنظیمیں، کو جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔ سابق ڈی جی رینجرز سندھ ، جنرل رضوان اختر، آج کل ڈی جی آئی ایس آئی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ جنرل راحیل شریف کو کراچی کے حوالے سے براہ ِر است معلومات حاصل ہیں کہ کون کیا ہے اور کہاں ہے۔ موجودہ ڈی جی رینجرزسندھ اور کور کمانڈر کراچی ، جو اس آپریشن کی نگرانی کررہے ہیں، کسی سیاسی بلیک میلنگ ، دھونس یا دھمکی کو خاطر میں لانے کے لئے تیار نہیں۔ یہ ہے وہ آہنی حقیقت جس کے ہوتے ہوئے گورنر سندھ ماضی کی طرح ایم کیو ایم کے مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام ہیں۔ تاہم یہ سیاسی حدت محسوس کرنے والے اکیلے رہنما نہیں، سندھ کے وزیر ِ اعلیٰ قائم علی شاہ اور پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی بھی نیندیں حرام ہوچکی ہیں۔ اگر وہ آپریشن میں تعاون نہیں کرتے تو جنرل راحیل شریف وزیراعظم سے کہیں گے کہ وہ سندھ میں گورنر راج قائم کردیں اور پھر نیا گورنر بھی وہ آئے گا جو اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہوگا۔ اس صورت ِحال سے ایم کیو ایم او ر پی پی پی ہی نہیں ، پی ایم ایل (ن) بھی بچنا چاہتی ہے کیونکہ اس کا مطلب ملک میں سویلین حکمرانی کے خاتمے کا آغاز ہوگا۔
الطاف بھائی کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ گورنر صاحب کے لئے ثابت شدہ مجرموں اور دہشت گردوں کا تحفظ کرنا ممکن نہیں رہا۔ ایسا کرتے ہوئے وہ خود بھی دفاعی اداروں ، جو اس آپریشن میں کسی کو بھی رعایت دینے کے موڈ میں نہیں، کا ہدف بن سکتے ہیں۔ ماضی میں ہو سکتا ہے کہ ڈاکٹر عشرت العباد نے ایم کیو ایم کے گرفتار شدہ کارکنوں کو جیل سے رہا کرایا ہو یا سہولیات فراہم کی ہوں لیکن آج ایسا کرنے کا سوچنا بھی حماقت ہوگی کیونکہ آپریشن کی قیادت سیاسی مفاد کی خاطر سمجھوتہ کرنے والے سیاست دان نہیں بلکہ غیر لچک دار اور دوٹوک جنرل کررہے ہیں۔ گورنر صاحب پر برسنے سے پہلے الطاف بھائی نے جنرلو ں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا تھا اور بہت سخت زبان استعمال کی ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ گورنرصاحب سے سخت نالاں ہیں کہ اُن کے ہوتے ہوئے صورت ِحال ہاتھ سے نکل گئی۔اب معاملہ یہ ہے کہ لندن میں ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں الطاف حسین کے گرد گھیرا تنگ ہورہا ہے جبکہ چوہدری نثار علی خان کے ایک بیان کے مطابق حکومت اور دفاعی ادارے برطانوی پولیس کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ لندن پولیس کو درکار اہم ثبوت فراہم کرنے کی بات کررہے ہیں۔ الطاف بھائی کے منظر ِعام سے ہٹنے کی صورت میں لندن میں ایک نئی قیادت کی بھی بات ہورہی ہے۔ کراچی کی لاچار رابطہ کمیٹی اپنے باس کے عجیب وغریب بیانات کی وضاحت پیش کرتے کرتے بے حال ہوچکی ہے جبکہ بہت سے اہم رہنما الطاف بھائی کے غیض و غضب سے بچنے کے لئےخلیجی ریاستوںیا دیگر علاقوں کی طرف ہجرت کرچکے ہیں۔ اس وقت الطاف بھائی کے گرد لندن میں موجود رہنمائوں کی خواہش ہے کہ عشرت العباد کو فی الفور منظر ِعام سے ہٹایا جائے تاکہ وہ الطاف حسین کے ایک معتدل متبادل کے طور پر پاکستان میں نہ ابھر نے پائیں۔ یہ ایک غلط حکمت ِ عملی دکھائی دیتی ہے ۔الطاف بھائی کو چاہئے کہ وہ صورت ِحال کو جذباتی انداز میں دیکھنے کی بجائے اس کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیں۔ ڈاکٹر عشرت العباد ایم کیو ایم کے حق میں کسی بھی اور گورنر، جو غالباً کو ئی ریٹائرڈ جنرل ہوں گے، سے بہرحال بہتر ہیں۔ جس دوران ایم کیوایم کے شعلہ بیان قائد لند ن سے جوشیلی تقاریر سے شغل فرمانا پسند کرتے ہیں، ان کا اثر زائل کرنے کے لئے کراچی میں ایک ٹھنڈے مزاج کے گورنر کی ضرورت ہے اور اس کام کے لئے ڈاکٹر عشرت العباد سے بہتر کون ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *