’ملک کیسے چلنا ہے مولانا پر نہیں چھوڑا جا سکتا‘

چاند دیکھنے کا تنازع اور حکومتی وزیر کی تجویز

ماہ رمضان کی آمد آمد ہے اور گذشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی پاکستان میں چاند کی رویت پر اختلاف کا مسئلہ ایک مرتبہ پھر سر اٹھائے کھڑا ہے۔

اس سے متعلق شروع ہونے والی حالیہ بحث کا آغاز وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے اپنی ایک ٹویٹ کے ذریعے کیا۔

اس ٹویٹ میں فواد حسین کا کہنا تھا کہ ’پانچ رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے جس میں سپارکو، محکمہ موسمیات اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے ماہرین شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی اگلے دس سال کے چاند، عیدیں، محرم اور رمضان سمیت دیگر اہم تاریخوں کا کیلنڈر جاری کرے گی۔ اس سے ہر سال پیدا ہونے والا تنازع ختم ہو گا۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فواد حسین کا کہنا تھا کہ ان کی منسٹری اس حوالے سے کل (بروز پیر) نوٹیفیکیشن کا اجرا کر دے گی اور اس کے بعد یہ وفاقی کابینہ پر منحصر ہو گا کہ وہ اس پر عملدرآمد کب سے شروع کروانے کا فیصلہ کرتی ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا اس معاملے پر انھوں نے علما حضرات سے مشاورت کی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ علما خود اس بارے میں ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں اور چاند دوربین کی مدد سے دیکھتے ہیں مگر ’علما کی ہر معاملے پر ایک مخصوص رائے ہوتی ہے اس کو لے کر تو نہیں چلا جا سکتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی نے اپنا کام کرتے ہوئے یہ کمیٹی بنا دی ہے اب آگے حکومت اور مذہبی امور کی وزارت کی مرضی ہے کہ مانے یا نا مانے۔

’ہم سمجھتے ہیں کہ ایک پسماندہ دوربین استعمال کرنے کے بجائے (اس مقصد کے لیے) جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے۔ یا تو ایسا ہو کہ مولوی حضرات کسی ٹیکنالوجی کی مدد کے بغیر صرف انسانی آنکھ کی مدد سے چاند دیکھ کر فیصلے کر رہے ہوں، ایسا نہیں ہے وہ بھی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں مگر پرانی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پسماندہ اور پرانی دوربین سے دیکھنا درست اور شرعی ہے مگر جدید ٹیکنالوجی سے دیکھنا غلط ہے؟ یہ منطق سمجھ میں نہیں آتی۔‘

بعد ازاں اپنی ایک اور ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ ’یہ فیصلہ کہ ملک کیسے چلنا ہے مولانا پر نہیں چھوڑا جا سکتا، اس رو سے پاکستان کا قیام ہی عمل میں نہ آتا کیونکہ تمام بڑے علما تو پاکستان کے قیام کے مخالف تھے اور جناح صاحب کو کافر اعظم کہتے تھے، آگے کا سفر مولویوں نے نہیں نوجوانوں نے کرنا ہے اور ٹیکنالوجی ہی قوم کو آگے لے جا سکتی ہے۔‘

’آخر میں وہی کرنا پڑے گا جو مولوی کہتا ہے‘

علامہ شیخ شفا نجفی کا کہنا تھا کہ اس کام کے لیے رویتِ ہلال کمیٹی موجود ہے جس میں تمام مکاتب فکر کے علما کی نمائندگی ہے اور اس کی موجودگی میں مزید کسی کمیٹی کی ضرورت سمجھ سے بالاتر ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ فقہ میں چاند کی رویت معلوم کرنے کےچار طریقے ہیں۔

پہلا: آپ اپنی آنکھوں سے چاند خود دیکھیں، دوسرا: چاند نظر نہیں آیا اور گذشتہ مہینے کے 30 دن مکمل ہو چکے ہیں، تیسرا: دو عادل افراد جن کی اقتدا میں نماز ادا کی جا سکتی ہو وہ اس حوالے سے ایک ہی طرح کی گواہی دیں اور چوتھا: اتنی کثیر تعداد میں عام لوگ آ کر گواہی دیں کہ آپ کو اطمینان ہو جائے۔

چاند

انھوں نے بتایا کہ یہ الک فقہی مسئلہ ہے کہ کسی ایک ملک میں چاند نظر آنے کی صورت میں کیا کوئی دوسرا ملک اس کی پیروی کر سکتا ہے اور اس پر علما کی رائے مختلف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذہب میں روایات کے ذریعے چاند کی رویت کے طریقے کو مکمل طور پر واضح کیا گیا ہے اور اس کی موجودگی میں اور کسی طریقے کی ضرورت نہیں ہے۔

فواد چوہدری کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کہہ دینا آسان ہے آخر میں جا کر وہی کرنا پڑے گا جو مولوی کہتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سال کا اسلامی کیلنڈر پہلے سے بنا ہوا ہوتا ہے جو تاریخوں کے تعین میں مدد کر سکتا ہے مگر اس کو حرفِ آخر نہیں مانا جاتا اور اس طرح کی کمیٹی جو آئندہ دس برسوں کی تاریخوں کا تعین کر دے اس کی مذہب میں گنجائش نہیں ہے۔

جامع نعیمیہ لاہور کے مہتمم راغب نعیمی کا کہنا ہے کہ چاند کی رویت سے تمام اسلامی عبادات منظم ہوتی ہیں جیسا کہ رمضان، عیدین، محرم اور حج وغیرہ۔ اگر چاند ایک دن کا بھی فرق پڑ جائے تو یہ احکامات کے منافی ہو گا۔

چاند

’چاند کی رویت اتنا اہم مسئلہ ہے کہ اس کے غلط ہونے سے حرام حلال میں اور حلال حرام میں بدل سکتا ہے۔‘

حدیث میں رویت کے لیے باقاعدہ وضاحت ہے اور بیان کیا گیا ہے کہ کن صورتوں میں کس طرح کی گواہی قابلِ قبول ہو گی جیسا کہ مطلع صاف ہے تو دو افراد کی گواہی کافی ہو گی اور اگر آبر آلود ہے تو زیادہ کی۔

’چاند کی رویت کو پہلے سے متعین کر دینا اسلامی نظام عبادات کو یقینی طور پر کہیں نہ کہیں متاثر کرے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بجائے نئی اختراعات کے حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کو اپنی رٹ کا نفاذ کرتے ہوئے پورے ملک میں نافذ کرے تا کہ یہ مسئلہ جنم ہی نہ لے۔

’اگر دو عیدیں اور دو روزے رکھے جا رہے ہیں تو یہ حکومتی رٹ کے نفاذ کا مسئلہ ہے۔‘ ان کا دعوی تھا کہ پاکستان میں چاند کی رویت کا نظام اسلامی دنیا میں اس حوالے سے بہترین سسٹم ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ محکمہ موسمیات کے نمائندے رویت ہلال کمیٹی میں شامل ہوتے ہیں مگر ان کی رائے ثانوی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کچھ علما جن کی مخصوص اسلامی ممالک سے وابستگی ہوتی ہے وہ بعض اوقات اس حوالے سے غلط بیانی کر کے لوگوں کی عبادات میں خرابی کا باعث بنتے ہیں۔

ماہرین کی رائے

ماہر موسمیات ڈاکٹر شہزادہ عدنان کا کہنا تھا کہ محکمہ موسمیات کا ڈیٹا پروسیسنگ سینٹر ہر سال چاند کی رویت کا کیلنڈر ترتیب دیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رویت ہلال کمیٹی میں محکمہ موسمیات کا ایک نمائندہ شامل ہوتا ہے۔ ’رویت ہلال کمیٹی چاند دیکھنے کے لیے محکمہ موسمیات کے آلات استعمال ہوتی ہے اور ہماری پیشن گوئی کے مطابق اور چاند کی حرکت کو مدِنظر رکھ کر دوربین ان زاویوں پر لگائی جاتی ہے جہاں سے مخصوص عرض بلد یا افق پر چاند با آسانی نظر آ سکے۔

چاند

’سائنس اتنی ترقی کر چکی ہے کہ چاند کی پورے سال کی گردش کا دورانیہ پہلے ہی پتا ہوتا ہے اور یہ بھی کہ کس مخصوص علاقے میں کتنی دیر کے لیے اور کس حد تک چاند دیکھا جا سکتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ سائنسی بنیادوں پر اس کا رزلٹ چاہتے ہیں تو کوئی لڑائی نہیں ہے مگر اگر آپ مذہبی بنیادوں پر چاہتے ہیں تو پھر مسئلہ ہے۔‘

نشیبی عرض بلد والے علاقوں میں جیسا کے ساحلی علاقے جو کراچی سے پسنی گوادر تک ہیں وہاں چاند نظر آنے کے امکان زیادہ اور طویل مدت تک ہوتے ہیں جبکہ شمالی علاقہ جات میں بہت کم۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے چاند کی پیدائش کے 16 سے 18 گھنٹے کے بعد آپ اس کو باآسانی دیکھ سکتے ہیں۔

ڈاکٹر عدنان کا کہنا تھا کہ دوسرے ممالک یہاں تک کہ سعودی عرب میں محکمہ موسمیات کی رائے کو کافی فوقیت دی جاتی ہے۔

’سعودی عرب میں گذشتہ ماہ شعبان کے چاند کو دیکھنے میں دشواری آئی تھی اور محکمہ موسمیات کے بتائی گئی تفصیلات کی روشنی میں چاند کا اعلان کیا گیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ چاند کی رویت پر انڈیا اور پاکستان میں ہی مسئلہ آتا ہے وگرنہ تمام دوسرے ممالک میں اس طرح کے مسائل نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ محکمہ موسمیات کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق آج پاکستان کے کسی حصے میں رمضان کا چاند نظر آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ چاند کی رویت کے معاملے پر مختلف مکاتبِ فکر کے علما میں اختلاف سب سے بڑا مسئلہ ہے اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ کس مسلک کا عالم چئیرمین رویت ہلال کمیٹی ہے اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *