معاشرے کے ناسُور

" اظہر اقبال مغل "
کچھ دن پہلے میرا گزرلاہور ریلوے اسٹیشن سے ہوا؛  تو ایک عجیب و غریب سا واقع دیکھا  جو کہ بار بار مجھے اکسا رہا  ہے کہ اسے قلم بند ضرور ہونا چاہیئے لیکن کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس پر لکھوں کیا ۔ کیوں کہ یہ اس معاشرے میں عام ہورہا ہے کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن اس واقعے نے مجھے سوچنے پر مجبور ضرور کر دیا ہے کہ  جس ملک میں ہم رہتے ہیں اس کا  نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اور اس ریاست میں اس طرح کے کام ایک لمحہ فکریہ بات ہے کیوں کہ اس ملک میں اب شخصی آزادی ختم ہو تی جارہی ہے ایک دور تھا کہ انسان آزاد تھا جہاں مرضی گھوم پھر سکتاتھا،لیکن اب اس  وطن کے رکھوالے جن کا کام اس ملک کے شہریوں کو تحفط فراہم کرنا ہے انھوں نے ہی نہ صرف ہماری شخصی آزادی چھین لی ہے بلکہ اس عوام میں اس قدر خوف و ہراس پھیلا دیا ہے کہ ایک شریف انسان اب باہر نکلتے ہوئے بھی ڈرتاہے۔یہ عوام کے محافظ اس مہارت سے اس عوام کو لوٹ لیتے ہیں کہ انسان اس طرح بے بس ہوجاتا ہے کہ کہیں بھی اپنی زبان نہیں کھول سکتا بلکہ جو بھی اس کی جیب میں ہوتا ہے وہ ان محافظوں کے حوالے کر کے اپنی جان خلاصی کرنے کی دُعائیں کرتا ہے کہ بس کسی طرح میری ان سے جان چھُوٹ جائے   میں لاہور میں رہتا ہوں اکثر لاہور ریلوے اسٹیشن اور لاری اڈا آنا جانا ہوتا رہتا ہے اس طرح کے مناظر اکثر نظروں گزرے لیکن  میں نے کبھی توجہ نہیں دی۔لیکن اس واقعہ کے بعد میں نے  نہ صرف توجہ دی بلکہ پوری تحقیق بھی کی  جس سے بہت کچھ کھل کر سامنے آیا  سب سے پہلے وہ واقعہ بیان کرتا چلوں جو کہ میری آنکھوں سے پہلے بھی کئی بار دیکھا لیکن کافی کچھ جانتے ہوئے بھی  میں نے  توجہ نہیں دی۔واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک بندہ  ریلوے اسٹشن پر گھوم پھر رہا  ہے۔ ایک عورت اس کے پاس آتی ہے  اس سے کوئی بات کرتی ہے اتنے میں ہمارے محافظ جو کہ شاید کسی موقعے کی تلاش میں ہی تھے فوری  پولیس موبائل لیکر پہنچ جاتے ہیں اور اس شخص کو اپنی تحویل میں لیکر گاڑی میں بیٹھا کر لے جاتے ہیں  جیسے کوئی را کاایجنٹ ان کے ہتھے چڑھ گیا ہو،وہ عورت جس کے بال کھلے ہوئے ہیں  میک اپ کئے ہوئے ہیں اس کے خدوخال اور حرکات و سکنات سے اس کی پہچان کرنا مشکل نہیں کہ وہ عورت کون ہے وہ  ہنستی مسکراتی ہوئی روڈ کراس کرتی ہے جیسے اس نے کچھ دیکھا ہی نہ ہو ۔ لیکن مجھے بہت ہی حیرت ہوئی کہ ہمارے محافظ تو حکومتِ پاکستان نے پاکستانی قوم کی حفاطت کیلئے مقرر ہیں انھوں نے ایک ایسے آدمی کو تو   اپنی تحویل میں لے لیا ہے جو کہ شکل سے شریف اور بھلا انسان ہی ظاہر ہو رہا  تھا لیکن ایک ایسی عورت جس کا لباس  حرکات و سکنات سے ظاہرہورہاہے کہ وہ اس معاشرے کی ایک بگڑی ہوئی صورت ہے عورت کے نام پر ایک گالی ہے جسے یہ معاشرہ اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرتا اسے کھلا چھوڑ دیا ہے۔ خیر میں نے وہ جگہ چھوڑ دی تھوڑا سا آگے آیا تو وہی شخص جسکو پولیس نے پکڑا تھا مجھے آتا ہوا نظر آیا میں نے  پاس جا کر کچھ پوچھنا چاہا لیکن وہ بہت سہما اور ڈرا ہوا تھا  میری بات کا جو اب دیئے بغیر تیز تیز چلنے لگا میں بھی اس کے پیچھے چل پڑا اور اس حوصلہ دیا اسٹیشن کی حدود سے کافی دور آکر وہ آہستہ  ہو گیا میں نے پوچھا پلیز بتاؤ تو کیا ہوا  میں ایک لکھاری ہوں اس لیئے پوچھ رہا ہوں تو اس کو کچھ  حوصلہ ہوا ہم ایک ہوٹل پر جاکر بیٹھ گئے وہاں چائے پی اور اس نے بتایا کہ یہ عورت کال گرل ہے اور یہ پولیس والوں سے  ملی ہوئی ہے اور ان کا روز یہی کام ہے یہ کسی بھی شریف آدمی کے پاس جاتی ہے جو کہ خاص طور کسی دوسروے شہروں سے ٓئے ہوئے ہو۔یہ عورت ان کے پاس جا کر اپنے حسن کا جلوہ دکھاتی ہے اور پولیس والے اس شخص کو پکڑ کر گاڑی میں بیٹھا کر ایک ویرانے میں لے جاتے ہیں گاڑی میں بیٹھاتے ہی وہ تشدد شروع کر دیتے ہیں اور اس بندے کو اتنا خوف زادہ کردیتے ہیں کہ وہ بندہ  دُعاکرتا ہے کہ میری کسی طرح ان سے جان چھوٹ جائے  اس بندے نے بتایا کہ اس کو پولیس والوں نے بہت مارا پیٹا بھی بہت ہے اور کہہ رہے تھے کہ پریس والوں کو بلا کر تمہاری فوٹو اٖخبار میں دیں گے  کہ  اس بندے کو ہم نے قابل اعتراض حالت میں گرفتار کیا ہے اور ساتھ اس عورت کی تصویر بھی دیں گے جو کہ بیان دے گی اس بندے نے  میرے ساتھ زیاتی کی ہے  یہ سن کر میرے پاؤں کے نیچے سے زمیں نکل گئی اور میں نے کافی ہاتھ جوڑے اللہ کی قسمیں کھا  ئی کہ میں بالکل بے قصور ہوں لیکن ان پولیس والوں نے میری ایک نہیں سنی اتنی دیر میں وہ عورت بھی پہنچ گئی اب تو میں اور بھی ڈر گیا  اور ایک  پولیس والے نے کہا خبار والوں کو کال کرو اب پروین بھی آگئی ہے اس شخص کا کہنا تھا کہ میں مسلسل ان کے پاؤں تک پکڑ رہا تھا لیکن وہ پریس بلانے ہی کی بات کر رہے تھے  اور پولیس والے پتہ نہیں کون کون سے کیس مجھ پر ڈالنے کی باتیں کر رہے تھے  اور ساتھ ساتھ سزا و جرمانہ بھی بتا رہے تھے  میں پوچھا پھر آپ کو چھوڑ کیسے دیا تو کہنے لگا میری جیب میں 5 ہزار روپے تھے  سب انھوں نے ہی رکھ لیئے ہیں اور دھمکی دی ہے ہ اگر کسی کو بتاؤ گے تو تمہارا کیس پھر سے کھول دیں گے  مجھے واپس جانے کا کرایہ بھی نہیں دیا یہ سب بتاتے ہوئے وہ بندہ رو پڑا اس نے بتایا کہ وہ میانوالی سے کام کے سلسلے میں آیا ہے نہ وہ اپنے رشتے داروں کویہ سب بتا سکتا ہیں کیوں کہ  اس کی بہت بے عزتی ہوگی  میری اپنے ہی خاندان میں بہت بدنامی ہوگی میرا دل چاہا  رہاہے خودکشی کرلوں۔یہ تو آج کل کے حالات ہیں کہ ایک شریف انسان کا باہر نکلنا ہی محال ہوگیا ہے۔جو عورت شکل سے ہی نظر آرہی تھی کہ اس کے اس طرح باہر نکلنے کے کیا مقاصد ہیں اس کو کچھ کہا نہیں جس نے کچھ نے کچھ نہیں کیا  اس کے ساتھ انسانیت سے گرا ہوا سلوک ہمارے محافظوں نے کیا۔یہ تو ایک پہلو ہے جو کہ سامنے آگیا اس طرح کے کتنے ہی واقعات ہونگے جو کوئی نہیں جانتا  جو صرف راز ہی رہ گئے جب  عوام کے محافظ ہی اس طرح کی حرکتیں کریں گے تو  ہم چوروں ڈاکوؤں سے کیا توقع رکھ سکتے ہیں ان کام تو ہے ہی  لوٹ مار کرنا۔میں ایک فقرہ اکثر لوگوں سے سنتا تھا اور مجھے ان پر شدید غصہ آتا تھا وہ جملہ یہ ہے کہ شریف بندے کی کوئی زندگی نہیں۔لیکن اب واقع یقین آگیا ہے کہ واقعی میں ایک شریف انسان کی کوئی زندگی نہیں جب سے یہ واقعہ دیکھا اور سنا ہے ایک عجیب سا خوف طاری ہو گیا ہے کہ پاکستان میں کسی کے ساتھ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔فلموں اور افسانوں میں تو اس طرح کے واقعات ملتے ہیں لیکن حقیقت میں اس واقعہ نے بہت تکلیف پہنچائی ہے میری پولیس والوں سے بھی درخواست ہے کہ  اتنا بُرا رول مت ادا کریں کہ ایک عام انسان کو پولیس نام سے ہی نفرت ہو جائے۔اس ملک کے محافظ بن کر عوام کے دلوں  پر راج کریں نہ کہ اس ملک کے لٹیرے بنکر اس ملک اور  عام کے لیئے ناسور بن جائیں۔میرے دَل میں پولیس کے لیئے بہت عزت و احترام تھا اور ابھی بھی ہے کیوں کہمحکمہ پولیس میں بہت سارے اچھے لوگ بھی موجود ہیں  لیکن  اس محکمہ میں معاشرے کے ناسُور بھی موجود ہیں جو اس طرح کی گھٹیا حرکات سے نہ صرف پولیس کو بدنام کر رہے ہیں  بلکہ پاکستان کیلئے بدنما دھبا  ہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *