ملازمتیں اور جہاد

جب سے دہشت گردی، خاص طور پر جہادی نظام، دنیا میں پھیلا ہے، ایک عام راگ یہ رہا ہے کہ نوجوان لوگوں کو تعلیم دلوانے اور ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے تا کہ انہیں اس قتالی راستے سے دور رکھا جائے جس کا انہوں نے انتخاب کیا ہے۔

لیکن جیسے کہ ہم نے حملوں کے بعد حملوں سے یہ سیکھا ہے کہ ان کے ذمہ دار نہ صرف تعلیم یافتہ ہیں بلکہ بہتر پس منظر کے مالک ہیں۔ 'تعلیم اور ملازمتوں' کا منتر کچھ دن قبل سری لنکا میں ہونے والے حادثے کے بعد ماند پڑ چکا ہے۔ تمام خود کش بمبار جو اس دہشت گرد حملے میں ملوث تھے اچھے خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے، اور کچھ نے بیرون ملک سے تعلیم حاصل کی ہوئی تھی۔

یقینا تجربہ کار اور اچھے تعلیم یافتہ دہشت گردوں کی بہترین مثال (زیادہ تر سعودی) عرب کے 19 افراد کے گروہ پر مشتمل تھی جنہوں نے نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹراور  واشنگٹن ڈی سی میں پینٹا گون کو اڑایا تھا۔

پاکستان میں ہمارے پاس عمر سعید شیخ ہیں جنہوں نے 2002 میں امریکی صحافی ڈینیل پرل کو اغوا کرنے اور اس کا سر کاٹنے کا الزام قبول کیا تھا۔ انہوں نے لاہور کے ایچیسن کالج اور لندن سکول آف اکنامکس سے تعلیم حاصل کی، انہوں نے عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کیا اور انہیں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ 17 سال بعد ابھی تک وہ جیل میں ہیں اور ان کی اپیل کی سنوائی ابھی ہونی ہے۔

کراچی کے سعد عزیز ایک امیر، تعلیم یافتہ اور اونچے گھرانے کے ایک نوجوان ایک اور مثال ہیں جنہوں نے اچھی زندگی پر دہشت گردی کو ترجیح دی۔ وہ ایک کامیاب ریسٹورنٹ کے مالک ہیں، انہوں نے پاکستان کے ایک بڑے بزنس سکول انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایجوکیشن سے ڈگری حاصل کی ہوئی ہے۔ بس پر حملے جس میں 54 اسماعیلیوں کو ذبح کیا گیا تھا کی قیادت کے علاوہ، انہوں نے سبین محمود کو بھی قتل کیا ہے جو کہ ایک خداداد صلاحیتوں کی مالک نوجوان خاتون تھیں جنہوں نے کراچی میں لبرل سپیس پاپولرلی جسے ٹی ٹو ایف کے نام سے جانا جاتا ہے کی تخلیق کی۔  حال ہی میں ان پر ایک امریکی پروفیسر کو قتل کرنے کاالزام  عائد کیا گیا ہے۔

مسلم دنیا میں اور بہت سے ہیں جو تعلیم یافتہ اور اچھے خاندان سے تعلق رکھنے والے قاتل ہیں۔ 2 بھائی جنہوں نے حال ہی میں باقی نشانہ بننے والوں کے ساتھ خود کو کولمبو میں اڑایا سری لنکن ایلیٹ کے رکن تھے اور ایک ارب پتی کے بیٹے تھے۔

ان میں سے کئی کیسز میں ملوث نوجوان اسلام کے بارے میں کچھ نہیں جانتے چونکہ وہ تشدد پرست لوگوں کی پیروی کرتے ہیں اور ان کے کہنے پر جہاد کی طرف جاتے ہیں۔ سری لنکا میں غیر معروف نیشنل توحید جماعت  کو بظاہر عسکریت پسند اسلامک سٹیٹ گروپ کی حمایت حاصل تھی۔ ماہرین کے  مطابق کئی جہادی گروہ پیچیدہ آپریشن کرنے میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔

پیسے اور تعلیم کے علاوہ جو  چیزیں ان لوگوں کو آپس میں ملاتی ہیں  وہ وہابزم  اور سلفی ازم سے ان کا گہرا تعلق  ہے۔ یہ دونوں عقائد سعودیہ کی طرف سے مدارس کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلائے جا رہے ہیں۔ جکارتا سے جوہانسبرگ تک علماء کو ریاض کے غیر مسلموں سے انتہائی نفرت کرنے والے گروہوں سے امداد ملتی ہیں۔

سری لنکا  کی طرف سے اکثر یہ شکایت سننے کو ملی ہے  کہ سعودی عرب نوجوانوں کو ریڈیکلائزیشن میں ملوث ہے۔  حالیہ حملوں کے لیے مالی تعاون کس نے کیا، یہ ابھی تک ایک راز ہے۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے جس کی دستاویز غیر ملکی  مبصرین نے اور صحافیوں نے مرتب کی ہے کہ سعودی بادشاہت  نے (کویت، ترکی اور کئی مغربی طاقتوں کے ساتھ مل کر) شام کی خونریز سول وار کے دوران عسکریت پسند اسلامی گروہوں کو ہتھیار اور کیش فراہم کی۔

عسکریت پسندی اور سعودی پیسے کے مابین تعلق کے واضح شواہد کے باوجود مغرب حقیقت سے آنکھیں چرا رہا ہے۔ جب ایک ٹب زیادہ بھر جائے عام رویہ ہے کہ اس کا ڈھکن بند کر دیا جائے، نہ کہ بالٹیاں رکھی  جائیں جو پانی کو اس کے اوپر سے ٹپکنے سے بچا سکیں۔ لیکن جیسے کہ ہم نے 9/11 کے فورا بعد سے یہ سیکھا ہے کہ سعودی عرب امریکی اسٹیبلشمنٹ کے مرکز میں ایک خاص مقام  رکھتا ہے ۔ ٹاورز کے گرنے کے گھنٹوں بعد ایک خاص فلائٹ سعودی وی آئی پیز  کی ایک بڑی تعداد   کو امریکہ لے گئی تا کہ انہیں واپس جانے دیا جائے۔ یہ ایک افسوسناک لمحہ تھا جب تمام کمرشل پروازوں کو زمین پر اتار دیا گیا۔

پاکستانی مذہبی جماعتوں جیسے تبلیغی جماعت کے ارکان سالوں سے سری لنکا کا دورہ کر رہے ہیں، تا کہ وہ بدھ پرستوں کو اسلام کی تبلیغ کریں۔ چند سال قبل کولمبو سے کراچی کی ایک پرواز پر میں نے خود کو ایسے ہی ایک شخص کے ساتھ بیٹھے پایا جو مجھے سری لنکن سمجھ رہا تھا، اس نے مجھے مذہب پر ایک مختصر درس دینے کی پیشکش کی۔ جب میں نے اس سے اردو میں کہا کہ مجھے اس کے کسی لیکچر کی ضرورت نہیں ہے تو وہ وہ خاموش ہو گیا ۔

جلد ہی اس نے اور اس کے ساتھیوں نے سیٹوں کے درمیان نماز کی جگہ بنائی جو کہ مسافروں کے لیے ٹائلٹ جانے میں رکاوٹ کا باعث بن رہی تھی۔ لیکن اترنے کے بعد سازو سامان والے ہال میں سپیکر پر نماز کے وقت کا اعلان کیا گیا تو ان میں سے کسی نے نماز پڑھنے کی تکلیف نہیں کی۔

البتہ ایک سخت مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں: ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ تعلیم اور ملازمتیں جہادیوں کا خاتمہ کرنے کا حل ہیں۔ لیکن جیسا کہ ہم نے ابھی ابھی دیکھا ہے، چند مہلک ترین حملے اچھے تعلیم یافتہ اور امیر لوگوں کی طرف سے کیے گئے۔ تو ہم اس زہر کو کیسے ختم کریں جو ان کے اندر سما چکا ہے ؟

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *