گیم آف تھرونز کا جادو: پراسرار قوّتیں، آسیبی مخلوقات اور ’انسیسٹ‘ جیسے متنازع موضوعات

آج کل ایسے لگتا ہے کہ ہر کسی پر ’گیم آف تھرونز‘ کا جنون سوار ہے۔

مصنف جارج آر آر مارٹن کی تخلیق ٹی وی پر ہر قسم کے ریکارڈ توڑتی نظر آتی ہے اور نئی سیریز کی تیسری قسط امریکی نیٹ ورک ایچ بی او کی تاریخ میں سب سے زیادہ سٹریم کی جانے والی قسط تھی۔

آخر اس ڈرامے کی جادوئی دنیا کی کامیابی کا راز کیا ہے؟

’گیم آف تھرونز‘ کی تصوراتی دنیا میں بہت کچھ ہے۔۔۔ جنگ و جدل، پراسرار معمے، ہر طرح کی مہلک اور آسیبی مخلوق، حتیٰ کہ کچھ کردار تو ’انسیسٹ‘، یعنی خونی رشتوں کے درمیان جنسی تعلقات، میں بھی ملوث پائے گئے ہیں۔

جان سنو

جان سنو کے خلاف اس کے اپنے ہی حامیوں نے سازش کی تھی

مرکزی کرداروں کی اچانک موت

اب تک اس شو میں اتنے کرداروں کو موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے کہ اب کسی سے بھی کوئی وابستگی رکھنا حماقت لگتی ہے۔

شروع کے سیزنز میں تو کئی اچھے اچھوں کو بھی نہیں بخشا گیا، اور ایک کے بعد ایک ہیرو کو نت نئے اور عجیب و غریب طریقوں سے ختم کر دیا گیا۔

ان میں سے اکثر اموات بالکل غیرمتوقع تھیں، اور یہ سلسلہ پہلے سیزن میں ایڈ آرڈ سٹارک کی موت سے شروع ہوا۔

شو کی اسی خصوصیت نے ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ یقیناً، اس شو کی کامیابی اسی بات میں ہے کہ اس سے پہلے کہ ہمیں کسی کردار سے زیادہ اُنسیت پیدا ہو، اسے مار دیا جاتا ہے۔

گویا کہ کوئی بھی موت کے منہ سے محفوظ نہیں ہے! اس طرح لکھاری شو کی آنے والی اقساط میں لوگوں کی توجہ مرکوز رکھنے اور تجسس پیدا کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

گیم آف تھرونز

جب ان دونوں کا چکر چلا تو پتا لگا کہ ڈینیریز داراصل جان سنو کی پھوپی ہیں

ڈھیر سارے راز

پہلی قسط سے ہی یہ واضح ہوگیا تھا کہ اس شو میں کئی کہانیاں ساتھ ساتھ چلیں گی اور ہر بار کہانی کوئی نیا موڑ لے گی۔

اسی اثنا تجسس کے مارے مداح اپنی خود ساختہ ’فین تھیوریز‘ بھی پیش کرتے رہتے ہیں اور ہر موڑ یا ’ٹویسٹ‘ کے بعد سوشل میڈیا پر اپنی رائے یا تجزیے سے دوسروں پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔

’گیم آف تھرونز‘ کی ایک منفرد بات یہ بھی ہے کہ اس شو کی وجہ سے لوگوں کا ٹی وی دیکھنے کا انداز بھی تبدیل ہو گیا ہے۔ اس سیزن کو دیکھنے کی تیاری میں کئی لوگ گیم آف تھرونز پر مبنی پارٹیاں اور محفلیں منعقد کر رہے ہیں تا کہ وہ اپنے من پسند شو کو صحیح انداز میں خیر باد کہہ سکیں۔

اور ظاہر ہے، جب بھی کوئی خود ساختہ تھیوری غلط ثابت ہوتی ہے تو کہانی میں تجسس مزید بڑھ جاتا ہے۔

جارج آر آر مارٹن

جارج آر آر مارٹن نے آخری کتاب ابھی تک ختم نہیں کی

کردار سازی

اگرچہ سیریز کا سکرین پلے جارج آر آر مارٹن کے ناول ’سانگ آف آئس اینڈ فائر‘ سے ماخوذ ہے، لیکن اس سیریز نے ایسے لوگوں کی توجہ بھی حاصل کر لی جو شاید عام طور پر ایسی تصوراتی کہانیوں میں زیادہ دلچسپی نہ رکھتے ہوں۔

اس کی وجہ ڈرامے میں موجود سیاسی چپقلش اور ذاتی مفادات کی وہ جنگ ہے جس سے تقریباً ہر انسان واقف ہوتا ہے اور جو حقیقی زندگی کے اتار چڑھاؤ کی عکاسی کرتی ہے۔

اس کے علاوہ شو کے مرکزی کرداروں کے درمیان پایا جانے والا تناؤ اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیات کا ارتقا بھی ناظرین کو ان کے ساتھ ناطہ جوڑنے میں مدد دیتا ہے۔

ڈینیریز

ڈینیریز ابھی تک تو شو کی ہیروئن ہیں، لیکن آگے کیا ہوگا؟

سچ پوچھیں تو اکثر یہ ہی نہیں معلوم ہوتا کہ کون جیتے گا، ہیرو یا ولن۔

سوائے آئس زامبیز کے، یعنی وہ مردے جنہیں ’وائٹ واکرز‘ نے دوبارہ زندہ کیا، شو کا ہر کردار آپ کو کئی زاویوں سے دکھایا جاتا ہے۔ چاہے کوئی کتنا بھی اچھا کیوں نہ ہو، ہو سکتا ہے وہ کسی اور کے زاویے سے ولن ہو، بالکل حقیقی زندگی کی طرح۔

یہاں اخلاقیات بے معنی ہو جاتے ہیں اور کوئی بھی ہیرو کسی بھی وقت ولن بن سکتا ہے، اور کوئی بھی ولن ہیرو میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ یہی اس شو کی خاصیت ہے۔

سٹارک

سٹارک خاندان کی لڑکیاں اب بہت طاقتور ہو گئی ہیں

’حقوقِ نسواں‘ اور طاقتور خواتین

شروع میں کئی لوگوں نے شکایت کی کہ گیم آف تھرونز ایک مخصوص مردانہ نقطہ نظر سے بنایا گیا ہے اور اس میں برہنہ خواتین کی عکاسی، ریپ اور عورتوں پر تشدد کے مناظر عورت سے نفرت کو فروغ دیتے ہیں۔

تاہم اب کئی مبصرین اسے ایک ’فیمینسٹ‘ شو تصور کرتے ہیں۔

جو خواتین شو کے آخری سیزن تک بچی ہیں ان میں سے زیادہ تر بااثر کردار کی مالک ہیں۔

  • ڈینیریز تو ہیں ہی ’مدر آف ڈریگنز‘
  • سانسا اب خاصی کافی چالاک ہوگئی ہیں
  • آریا باقاعدہ تربیت یافتہ قاتل بن کر ابھری ہیں
  • اور سرسی سب سے طاقتور دشمن ثابت ہوئی ہیں

ان تمام خواتین کے کرداروں نے کئی دکھ سہے ہیں، لیکن بیچارگی کے بجائے ان کی قوت اور ہمت ان کی شناخت بنی۔

اس کا منہ بولتا ثبوت ہمیں اس سیریز کی تیسری قسط میں ملا، جب سیریز کے سب سے تگڑے ولن ’نائٹ کنگ‘ کا قلع قمع نوجوان آریا کے ہاتھوں ہوا۔

رامین جوادی

رامین جوادی کی بنائی دھن ہر کوئی گنگنا رہا ہوتا ہے

موسیقی

آج کل کم ہی ایسے شوز دیکھنے میں آتے ہیں جن کی کامیابی کا دارومدار ان کی موسیقی پر ہو۔ لیکن کمپوزر رامین جوادی کی بنائی دھن کا گیم آف تھرونز کی مقبولیت میں برابر کا حصہ ہے۔

آپ بے شک بس میں ہوں یا لفٹ میں، کوئی نہ کوئی تو یہ دھن گنگنا رہا ہوگا۔

سرسی اور جیمی

بہن بھائی بھی اور عاشق معشوق بھی: سرسی اور جیمی کا رشتہ خاصہ عجیب ہے

متنازع موضوعات

اس کہانی کے لیے ویسٹروس کی تصوراتی دنیا بسانے کا مقصد یہ ہے کہ انسان کے پوشیدہ اور سفاکانہ جذبات کو ابہرنے کا موقع ملے اور اخلاقیات کا تصور ہی ختم ہو جائے۔

اس شو میں بہت سے غیر سنسر شدہ سیکس اور تشدد، محرم سے زنا، ریپ، بچوں سے سیکس اور پرتشدد سیکس سے لطف اٹھانے جیسے مناظر موجود ہیں جو اپنی ذات میں بہت تکلیف دہ اور عجیب ہیں، لیکن عوام کی دلچسپی میں اضافہ کرتے ہیں۔

ڈریگن

ڈریگن!

اس شو میں کئی اساطیری مخلوقات (مذہب سے وابستہ یا دیگر افسانوں اور فنون پر مبنی) کا ذکر آتا ہے: کالے جادوئی سائے، جنگلی بھیڑیے، دیو اور تین ہیبتناک ڈریگن!

اگرچہ انھیں کمپیوٹر کی مدد سے سپیشل ایفیکٹس کے ذریعے تخلیق کیا گیا، لیکن یہ ڈریگن اتنے اصلی لگتے ہیں کہ کبھی کبھی گھر بیٹھے بیٹھے ان سے خوف آنے لگتا ہے۔

اب یہ محض کردار نہیں رہے، بلکہ ناظرین کی سوچ پر نقش ہو گئے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *