بازاروں میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ رمضان کا استقبال

کراچی: ملک میں بڑھتی مہنگائی کے باعث صارفین کو مہنگائی سے بھرپور رمضان دیکھنے کو ملا ہے، جہاں تقریباً تمام ضروریات زندگی گوشت، گھی، کھانے پکانے کا تیل، آٹا، پیاز، چکن اور پھلوں کی قیمتیں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹ کے مطابق گوشت فروشوں نے فی کلو قیمت میں 20 سے 50 روپے تک اضافہ کردیا، جو علاقوں کے حساب سے مختلف ہے، بچھیا کا گوشت جو پہلے 500 روپے فی کلو فروخت کیا جارہا تھا اس کی قیمت اب 520 سے 540 روپے لی جارہی ہے جبکہ بغیر ہڈی کا گوشت 600 روپے فی کلو کے بجائے 620 سے 640 روپے کلو فروخت کیا جارہا ہے۔

اس کے علاوہ مٹن فروخت کرنے والوں نے بھی قیمتوں کو ہول سیل قیمتوں میں اضافے سے منسوب کرتے ہوئے 950 روپے کلو سے ایک ہزار روپے کلو کردیا۔

واضح رہے کہ ماہ مقدس کے آغاز سے کچھ روز قبل ہی مٹن فروخت کرنے والوں نے قیمتوں میں اضافہ کیا تھا جبکہ میونسپل انتظامیہ اس تمام صورتحال کو ایک جانب کھڑے ہو کر دیکھ رہی ہے اور صارفین کو ریلیٹرز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

ایف بی ایریا میں موجود ایک دکاندار کا کہنا تھا کہ ’جب ہر اشیا کی قیمت میں اضافہ ہورہا ہے تو سرخ گوشت کی قیمت میں کیوں نہیں‘، ساتھ ہی یہ تبصرہ کیا کہ ’اگر غذائی اشیا مہنگے ہونے سے صارفین کو اثر پڑا ہے تو اس نے ہماری زندگی کی قیمت بھی بڑھا دی ہے‘۔

ادھر مرغی کی قیمت میں بھی کچھ ایسی صورتحال دیکھنے میں آرہی ہے، کچھ دکانداروں نے اس کی قیمت 380 سے 390 روپے فی کلو لینا شروع کردی ہے جبکہ کچھ نے اس کی قیمتیں 350 سے 360 روپے کلو برقرار رکھی ہیں۔

واضح رہے کہ مارچ کے آخری ہفتے میں چکن 310 سے 320 روپے فی کلو کے درمیان فروخت کی جارہی تھی۔

قیمتوں میں اضافے کے رجحان میں اپنا حصہ ملاتے ہوئے ڈبل روٹی بنانے والوں نے بھی 5 سال 4 ماہ کے وقفے کے بعد اپریل میں قیمتں میں 8 فیصد سے زائد اضافہ کردیا۔

منی ڈبل روٹی (سادی اور دودھ والی) اب 30 اور 31 روپے میں فروخت کی جارہی جو اس سے قبل بالترتیب 27 اور 28 روپے کی تھی، اسی طرح چھوٹی ڈبل روٹی کی قیمتیں بھی 45 اور 46 روپے کے مقابلے میں 50 اور 51 روپے ہوگئی جبکہ بڑی سادہ ڈبل روٹی اب 80 روپے مقابلے میں 90 روپے میں دستیاب ہے۔

علاوہ ازیں 4 برگر بن پر مشتمل پیک 40 روپے کے مقابلے میں اب 45 روپے میں دستیاب ہے جبکہ مینوفکچررز کی جانب سے اس سب کی وجہ یوٹیلیٹی بلز میں اضافہ، خام مال کی قیمتوں کا بڑھنا، مزدوروں کی اجرت، ٹرانسپورٹیشن چارچز اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم ہونے پر مہنگی درآمدی اشیا کی قیمتوں کو قرار دیا ہے۔

قیمتوں میں اضافے کی اس لہر میں مکھن بنانے والے ایک بڑے مینوفکچرر نے بغیر کسی وجہ کے گزشتہ ماہ ہی 25 گرام، 50 گرام، 100 گرام اور 200 گرام کے پیکٹ کی قیمتوں میں اضافہ کردیا تھا اور اب یہ 15، 30، 60 اور 120 روپے کے مقابلے میں بالترتیب 20، 40، 80 اور 160 روپے میں دستیاب ہیں۔

کراچی ہول سیلرز گراسرز ایسوسی ایشن کے پیٹرن ان چیف انیس مجید کا کہنا تھا کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی اور ٹرانسپورٹیشن اخراجات بڑھنے کے باوجود ملک کی سب سے بڑی ہول سیل مارکیٹ جوڑیا بازار میں مختلف غذائی اشیا کی قیمتوں میں اس طرح اضافہ نہیں کیا گیا تھا۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ’ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے باعث صارفین کو مزید اضافہ دیکھنا پڑ سکتا ہے‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *