ایف بی آر بلند ترین شارٹ فال کے دہانے پر، نئے چیئرمین کی تقرری کی مخالفت پر حکومت مشکل میں

فیڈرل بورڈ آف ریوینیو یعنی ایف بی آر اپنی تاریخ میں بلند ترین شارٹ فال کے دہانے پر ہے۔ ایف بی آر کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ شارٹ فال اس معاشی سال کے پہلے دس ماہ میں تقریبا 348 ارب روپے کو پہنچ چکا ہے۔

ایسے موقع پر نئے چیئرمین ایف بی آر شبرزیدی کے لیے ادارے میں اصلاحات لانا اور ٹیکس نظام میں بہتری سب سے بڑا چیلنج ہے لیکن اس سے پہلے ایک اور چیلنج جو ان کا منتظر ہے وہ ایف بی آر کی ٹیم ہے جس کی طرف سے بظاہر اس تعیناتی کی 'قانونی بنیادوں پر' مخالفت کی جا رہی ہے۔

ایف بی آر میں پاکستان کسٹم آفیسرز ایسوسی ایشن اور ان لینڈ ریونیو سروس آفیسر ایسوسی ایشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایف بی آر کے افسران نے اس تعیناتی کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ایک اہلکار کے مطابق 'یہ تعیناتی واپس نہ لی گئی تو ہڑتال بھی کی جائے گی'۔

وزیر اعظم عمران خان نے گذشتہ روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے شبر زیدی کی بطور چیئرمین ایف بی آر تعیناتی کا اعلان کیا تھا۔ ترجمان ایف بی آر کے مطابق تاحال ان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا ہے۔

شبر زیدی معروف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں اور کئی دہائیوں سے ملک کے بعض بڑے کاروباری اداروں کے معاملات دیکھ رہے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ 'ٹیکس قوانین کے شعبے میں پاکستان میں ماہر ترین افراد میں سے ایک ہیں'۔

شبر زیدی

لیکن ان کی تعیناتی کے اعلان کے بعد ہی ان سے متعلق مفادات کے ٹکراؤ کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں کیونکہ ان کے کچھ کلائنٹس میں پاکستان کے بڑے کارپوریٹ اداروں سے وابستہ افراد بھی شامل ہیں جن کے ایف بی آر سے اربوں روپے کے ٹیکس معاملات ہیں۔

ایف بی آر کے افسران کی اس ایسوسی ایشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 'ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم کے پارٹنر کی چیئرمین ایف بی آر کے انتہائی اہم اور حساس عہدے پر تعیناتی مفادات کے ٹکراؤ کے لیے ہائی رسک خیال کیا جاتا ہے اور شبر زیدی کا کیس بھی اسی طرح کا ہے'۔

ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ ایف بی آر کے چیئرمین کی تعیناتی پر کوئی تنازع کھڑا ہوا ہو۔

ادارے کے ایک افسر کے مطابق سابق فوجی صدر جنرل ر پرویز مشرف کے دور میں عبداللہ یوسف کو بھی اسی طرح تعینات کیا گیا تھا اور یہاں تک کہ انہیں باقاعدہ 'اِنڈکٹ' کر کے سیکرٹری بھی بنادیا گیا' جبکہ ارشد علی حکیم کی تعیناتی کے خلاف معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں گیا تھا اور اب ایک بار پھر اسے کیس کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ محکمے کے افسران کا موقف ہے کہ چیئرمین اور سیکرٹری ریوینیو کی آسامی پُر کرنے کے لیے اسی شعبے کے اعلی افسران کو موقع ملنا چاہییے نہ کہ دیگر محکموں سے افسران یہاں تعینات کیے جائیں۔

'کیونکہ ٹیکس ایک نہایت پیچیدہ عمل ہے، اس لیے باہر سے آنے والے شخص کو صرف یہ معاملات سمجھنے میں ہی خاصا وقت لگ جاتا ہے۔ دوسری طرف ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر نجی شعبے سے قیادت کا انتخاب کرنا ہے تو اس کے لیے بھی طریقہ کار واضع ہے جس پر عمل کرنا چاہیے۔ ‘

ایف بی آر

شبر زیدی معروف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں اور کئی دہائیوں سے ملک کے بعض بڑے کاروباری اداروں کے معاملات دیکھ رہے ہیں

ان کا کہنا ہے کہ چیئرمین کے پاس سیکرٹری ریونیو کا بھی چارج ہوتا ہے اس طرح ادارے کے اہم ترین عہدے یہاں کام کرنے والوں کو نہ ملنے سے ملازمین کی دل آزاری ہوتی ہے۔

بیان کے مطابق 'اس تعیناتی میں ان لینڈ ریوینیو سروس اور پاکستان کسٹمز سروس کے دس سے زائد سینیئر افسران کو نظرانداز کیا گیا ہے اور اس سے ایف بی آر کے دو ہزار سے زائد افسران پر عدم اعتماد کا تاثر دیا گیا ہے'۔

جیسا کہ گذشتہ ہفتے عہدے سے ہٹائے گئے چیئرمین ایف بی آر جہانزیب خان کی تعیناتی پر بھی محکمے کے افسران ناخوش تھے اور ان کا موقف تھا کہ یہ عہدے صرف محکمے یا ریوینیو کے افسران کو ہی ملنا چاہیے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل جون 2013 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق چیئرمین ایف بی آر ارشد علی حکیم کی بطور چیئرمین تعیناتی کا نوٹیفیکیشن منسوخ کر دیا تھا۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس وقت ان کی تعیناتی کو کاالعدم اور طریقہ کار کے منافی قرار دیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ کیسے پرائیویٹ سیکٹر سے ایک شخص کو بغیر اشتہار اور مقابلے کے اس اہم عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ عہدے کی تعیناتی نجی سیکٹر سے کرنے کی صورت میں پہلے آسامی اور قابلیت سے متعلق اشتہار دیا جاتا ہے، جس کے بعد سلیکشن کمیٹی امیدواروں کا جائزہ لیتی ہے۔ تاہم ارشد علی حکیم اور اس کے بعد شبر زیدی کی تعیناتی پر اس طریقہ کار پر بظاہرعملدرآمد نہیں کیا گیا ہے۔

ایف بی آر میں ان لینڈ ریونیو آفیسرز ایسوسی ایشن نے سخت ردعمل دیتے ہوئے عدالتی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

بیان میں ارشد علی حکیم کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ 'ایسوسی ایشن سمجھتی ہے کہ نجی شعبے سے کسی شخص کی تقرری کا معاملہ پہلے ہی اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے ذریعے حل ہوچکا ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 'اس وقت حکومت کی جانب سے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج نہیں کیا گیا جس میں پہلے ہی نجی شعبے سے تقرری کے لیے تفصیلات جاری کردی گئی تھیں'۔

بیان کے مطابق 'نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد ایسوسی ایشن توہین عدالت کی درخواست دائر کرے گی'۔

دوسری جانب اسی معاملے پر بات کرنے کے لیے ترجمان ایف بی آر سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین ایف بی آر کی تعیناتی چیف ایگزیکٹو کی صوابدید پر ہے'۔

سینئر صحافی اشرف ملخم نے اس تعیناتی کے اعلان کو وزیراعظم عمران خان کا ایک غلط فیصلہ قرار دیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ کم از کم شبر زیدی کی تعیناتی اب مشکل نظر آتی ہے، کیونکہ اس معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ موجود ہے'۔

وہ کہتے ہیں کہ 'یہ معاملہ اگر عدالت میں چیلنج ہو گیا تو امکان یہی ہے کہ یہ تعیناتی ممکن نہیں ہو پائے گی۔ حتی کہ آرڈیننس کے ذریعے تعیناتی بھی عدالت سے ٹکراؤ کی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے، سو حکومت اس اعلان کے بعد مشکل میں نظر آ رہی ہے'۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *