پاکستان میں دفاعی خرچ ميں گیارہ، انڈیا میں تین فیصد کا اضافہ

بغیر کسی جنگ کے جنوبی ایشیا کے دو ممالک انڈیا اور پاکستان کا دفاعی خرچ بڑھتا جا رہا ہے۔ سنہ 2018 میں پاکستان کے دفا‏عی اخراجات میں گیارہ فیصد کا اضافہ ہوا جو تقریـباً ساڑھے گیارہ ارب ڈالرتک پہنچ گیا ہے جبکہ انڈیا میں تین اعشاریہ ایک فیصد کے اضافے کے بعد سالانہ دفاعی خرچ ساڑھے 66 ارب ڈالر پر پہنچ چکا ہے۔

یہ اعداد و شمار سویڈین میں واقع دفاعی اخراجات کی تحقیق کے موقر ادارے ،سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سیپری ) کی تازہ ترین رپورٹ میں شائع ہوئے ہیں۔

تحقیقی ادارے کے مطابق 2018 میں پوری دنیا کا دفاعی خرچ 1822 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو کہ اس سے پہلے کے برس کے مقابلے میں 2 اعشاریہ 6 فیصد زیادہ ہے۔

دنیا میں 2018 میں جنگی تیاریوں پر سب سے زیادہ خرچ کرنے والے پانچ ممالک میں امریکہ، چین، سعودی عرب، انڈیا اور فرانس شامل ہیں۔ پوری دنیا کے کل دفاعی اخراجات کا 60 فیصد حصہ اکیلے یہ پانچ ممالک خرچ کرتے ہیں۔

سیپری کے ایک دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر نین تیان کہتے ہیں کہ '2018 میں پوری دنیا کے دفاعی اخراجات کا نصف حصہ اکیلے امریکہ اورچین نے صرف کیا۔ 2018 میں دفاعی اخراجات میں اضافہ بہت حد تک ان دونوں ملکوں کے دفاعی اخراجات میں اضافے سے ہوا ہے۔'

انڈین ہیلی کاپٹر

امریکہ میں دفاعی اخراجات میں اضافہ 2010 کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔ دفاع پر اس کا سالانہ خرچ 649 ارب ڈالر رہا جو کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں 4 اعشاریہ 6 فیصد زیادہ ہے۔ اس کے برعکس چین میں جنگی تیاریوں کے خرچ میں گذشتہ چوبیس برس سے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ 2018 میں اس نے دفاع پر 250 ارب ڈالر صرف کیے جو کہ پچھلے برس کے مقابلے میں 5 فیصد زیادہ ہے۔

چین امریکہ کے بعد ملٹری پر خرچ کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ ڈاکٹر تیان کہتے ہیں کہ چین میں دفاعی اخراجات میں اضافہ اس کی اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ متوازی طور پر بڑھتا رہا ہے اور چین نے 2013 سے اپنی مجموعی داخلی پیداوار کا ایک اعشاریہ 9 فیصد دفاع کے لیے مختص کر رکھا ہے۔

61 اعشاریہ 4 ارب ڈالر کے ساتھ روس چھٹے مقام پر ہے تاہم 2018 میں روس کے دفاعی اخراجات میں 2017 کے مقابلے میں 3 اعشاریہ 5 فیصد کی کمی آئی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *