جعلی اکاؤنٹس کیس: آصف زردرای نے نیب کے سامنے پیشی کیلئے مہلت مانگ لی

سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زردرای نے نجی کمپنیوں کو غیر قانونی ٹھیکے دینے کے کیس میں تفتیش سے متعلق قومی احتساب بیورو (نیب) کے سامنے پیشی کے لیے مہلت مانگ لی۔

آصف زردرای کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے نیب کو مہلت کے لیے درخواست بھجوا دی۔

جس میں آصف زداری کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ احتساب عدالت میں پیشی کی وجہ سے نیب کے سامنے پیش نہیں ہو سکتے۔

آصف زرداری احتساب عدالت میں پیش

رپورٹ کے مطابق آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیش ہوئے، اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

عدالت کے باہر صحافیوں نے ان سے سوال کیا کہ ایک اور کیس آپ کے خلاف کھولا گیا ہے؟ جس پر سابق صدر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ الحمداللہ، الحمداللہ، برکت ہے۔

آصف زرداری سے سوال کیا گیا کہ کوئی خطرہ محسوس کر رہے ہیں، جس پر انہوں نے کہا کہ یہ رمضان کی برکتیں ہیں۔

سابق صدر سے سوال کیا گیا کہ عید کہاں گزاریں گے؟ جس پر انہوں نے کہا کہ جہاں جج کرنے دیں گے۔

16 اپریل 2019 کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں پیش نہ ہونے والے 2 ملزمان کے قابل ضمانت اور ایک ملزم کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے تھے۔

اس کے علاوہ احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے بزنس ٹائکون ملک ریاض کے داماد زین ملک اور دیگر ملزم شہزاد کی حفاطتی ضمانت کے لیے پیش کیے جانے والے 10 لاکھ روپے کے سیکیورٹی بانڈز منظور کرلیے۔

علاوہ ازیں عدالت نے اشتہائی ملزم عدنان جاوید کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری اور بیرون ملک فرار ہونے والے اعظم وزیر اور ناصر لوتھا کی ٹریول ہسٹری طلب کی تھی۔

گذشتہ روز نیب راولپنڈی نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں 5واں ریفرنس دائر کیا تھا جس میں اومنی گروپ کے عبدالمجید غنی، سابق سیکریٹری سندھ اعجاز احمد خان اور دیگر 11 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

ریفرنس میں نامزد عبدالغنی مجید، مناہل مجید اور سیکریٹری اعجاز خان کے علاوہ دیگر ملزمان میں علی اکبر ابڑو، اعجازاحمد میمن، اطہر نواز درانی، عندالحلیم میمن، محمد فرخ خان، محمد رمضان، محمد صدیق سلیمانی، ذیشان حسن یوسف اور نجی ٹھیکیدار ہارش شامل ہے۔

کیس کا پس منظر

2015 کے جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، سندھ بینک اور سمٹ بینک میں موجود ان 29 بے نامی اکاؤنٹس میں موجود رقم کی لاگت ابتدائی طور پر 35ارب روہے بتائی گئی تھی۔

اس سلسلے میں ایف آئی اے نے معروف بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد ماہ اگست میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

7 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔

اس جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سے پوچھ گچھ کی تھی جبکہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

آصف علی زرداری نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ 2008 سے وہ کسی کاروباری سرگرمی میں ملوث نہیں رہے اور صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے خود کو تمام کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں سے الگ کرلیا تھا۔

بعد ازاں اس کیس کی جے آئی ٹی نے عدالت عظمیٰ کو رپورٹ پیش کی تھی، جس میں 172 افراد کا نام سامنے آیا تھا، جس پر وفاقی حکومت نے ان تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کردیے تھے۔

تاہم 172 افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے پر سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کیا تھا اور معاملے پر نظرثانی کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا تھا۔

بعدازاں نیب نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کے سیکریٹری آفتاب میمن، شبیر بمباٹ، حسن میمن اور جبار میمن کو گرفتار کر کے 14 روزہ ریمانڈ بھی حاصل کیا تھا، ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد ان ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا۔

اس سلسلے میں 20 مارچ کو آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے پارک لین اسٹیٹ کرپشن کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں نیب کے سامنے پیش ہوکر اپنے بیانات قلم بند کرائے تھے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے یہ کیس نیب کے سپرد کرتے ہوئے 2 ماہ میں تحقیقات کا حکم دیا تھا اور نیب نے اس کے لیے مشترکہ انویسٹی گیشن ٹیم قائم کی تھی، جس کے سامنے آصف زرداری پیش ہوئے تھے۔

15 مارچ کو کراچی کی بینکنگ عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی کی نیب کی درخواست منظور کی تھی اور ساتھ ہی آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور و دیگر ملزمان کی ضمانتیں واپس لیتے ہوئے زر ضمانت خارج کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

جس کے بعد اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے اس کیس میں نامزد آٹھوں ملزمان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 8 اپریل تک ملتوی کی تھی اور 9 اپریل کو احتساب عدالت نے باقاعدہ طور پر جعلی بینک اکاؤنٹس اور میگا منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کا آغاز کیا۔

احتساب عدالت کے رجسڑار نے بینکنگ کورٹ سے منتقل کئے جانے والے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد اسے احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک کی عدالت میں منتقل کیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *