دیہات میں رہنے کا ڈھنگ ابھی تک آیا نہیں

یعنی پاکستانی قوم ابھی تک اِس ڈھنگ سے محروم ہے۔ ظاہر ہے ہر ایک کا تعلق دیہات سے نہیں۔ جو پکے شہری ہیں وہ تو شہروں میں ہی رہیں گے۔ لیکن ہمارے ہاں جن کا دیہات سے براہ راست تعلق ہے اُن کی بھی تمنا ہوتی ہے کہ دیہات سے رشتہ توڑیں اور شہروں میں جا کے پڑائو ڈالیں۔ 
یہاں تو یہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ بڑے بڑے زمیندار اپنی زمینداریاں اورحویلیاں چھوڑ کے شہروں میں چلے گئے اور پیچھے پلٹ کے نہ دیکھا۔ ایک دفعہ موضع واہ جانے کا اتفاق ہوا۔ جب وہاں پہنچے تو میں نے اپنی میزبانوں سے پوچھا کہ سر سکندر حیات کا گھر کہاں ہے۔ سکندر حیات متحدہ پنجاب کے وزیر اعظم تھے، کوئی عام آدمی نہیں۔ میزبانوں نے ایک چار دیواری دکھائی جس کے دروازے پہ تالا لگا ہوا تھا۔ میں نے پوچھا: اندر کیا ہے؟ کہنے لگے: بس ویسے ہی ہے۔ میں اہتمام کر کے دیوار پہ چڑھا اور اندر جھانکا۔ ایک کمرہ بھی سالم نہ تھا۔ ساری عمارت کھنڈر بن چکی تھی۔ تمام فیملی کے ممبران، اُن کا نام کیا لینا، اسلام آباد میں آباد ہیں یا لاہور میں۔ کوئی اُن سے پوچھے کہ آبائی گھر کو قائم رکھنا کتنا مشکل تھا؟
دولتانوں کا حال بھی یہی ہوا ہے، کم از کم میاں ممتاز دولتانہ کی فیملی کا۔ لاہور میں کوئین میری کالج سے بالکل متصل اُن کی سترہ ایکڑ پہ حویلی تھی۔ کہتے ہیں مکان بھی وہاں عظیم الشان تھا۔ مکان گرا دیا گیا اور تمام کے تمام سترہ ایکڑ بک چکے ہیں۔ ضلع وہاڑی میں لڈن کے مقام پہ میاں ممتاز دولتانہ کی بہت بڑی اسٹیٹ تھی۔ سب کی سب بک چکی ہے اور پرانی حویلی بھی کھنڈر کا سماں دیتی ہے۔ پنجاب بھر میں ایسا ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ بڑے بڑے فیوڈل لارڈز اپنی زمینیں کارداروں کے ہاتھ دے گئے اور حویلیاں اُن کی گِر کے زمانے کی تباہ کاریوں میں شامل ہو گئیں۔ 
برطانیہ، فرانس اور جرمنی میں اَب بھی بڑا اعزاز سمجھا جاتا ہے اگر کسی شہر میں رہنے والے کا دیہات سے تعلق ہو اور وہاں اُس نے اپنی زمین پہ اپنا بڑا گھر بدستور قائم کیا ہوا ہو۔ ایسے گھروں کو کنٹری ہاؤس کہتے ہیں اور اُن ممالک میں ایسے گھروں کو خاص اہتمام سے بنایا جاتا تھا۔ ہفتہ ختم ہوا اور جسے ہم ویک اینڈ کہتے ہیں ایسے لوگ لندن یا پیرس چھوڑ کے اپنی دیہاتی رہائش گاہوں کی طرف چل پڑتے ہیں۔ مہمانوں کو بھی بلایا جاتا ہے اور جمعہ اور ہفتے کی شام خوب پارٹیاں ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے عام لوگ اس طرح افورڈ نہیں کر سکتے لیکن ایک خاص قسم کا زمیندار طبقہ ہے جس نے اب بھی ایسی روایت کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ 
جو بڑے لینڈ لارڈ نہ بھی ہوں پھر بھی دیہاتی جگہوں پہ رہنا اُن ممالک میں بہت اچھا سمجھا جاتا ہے۔ لندن کے باہر کسی خوبصورت گاؤں... اور ہم جانتے ہیں کہ برطانیہ میں دیہاتی علاقے کتنے خوبصورت ہیں... میں کسی کی رہائش ہوتی ہے اور جب ضرورت پڑے تو براستہ ٹرین و بس یا اپنی گاڑی پہ لندن آ جاتے ہیں۔ شام وہاں گزاری کوئی اوپرا (opera) یا بیلے (ballet) دیکھا، ڈرامہ یا موسیقی کے کنسرٹ میں حاضری دی، اور پھر شام واپس اپنے گاؤں کو چل دئیے۔ اب وہاں جا کے ہی سمجھ آتی ہے کہ میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں۔ اُن کے دیہاتوں میں بھی دلکش پب ہوتے ہیں جن سے لطف اندوز ہونے کیلئے شہروں سے لوگ آتے ہیں۔ لہٰذا جن کے پاس ایسے دیہاتی ماحول میں رہائش کا بندوبست ہو وہ مراعات یافتہ سمجھے جاتے ہیں۔ 
ہمارے ہاں ایسی بات ہے ہی نہیں۔ ہم نے اپنے چھوٹے شہروں کو برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ اور اِس انداز سے کہ پنجاب کا ہر چھوٹا شہر ... ٹیکسلا ہو یا گوجر خان یا چکوال... ایک ہی طرز کا لگتا ہے۔ وہی گندگی ہر طرف، بے ڈھنگے بازار اور دکانوں پہ ٹین کے شٹر۔ ایک سے دوسرے چھوٹے شہر چلے جائیں کوئی فرق محسوس نہیں ہو گا۔ جو تھوڑے بہت آسودہ حال لوگ ہیں اُن کی گہری تمنا یہی ہوتی ہے کہ کہیں اسلام آباد کے کسی سیکٹر یا لاہور کے کسی علاقے میں منتقل ہو جائیں۔ 
یہ بات تو ٹھیک ہے کہ ہم نے ملک کا بیڑہ غرق ہی اِس طریقے سے کیا ہے کہ دیہات میں صحت اور تعلیم کی وہ سہولیات میسر نہیں جو کہ شہروں میں ملتی ہیں۔ تعلیم کیلئے خاندانوں کو شہروں میں رہنے کا بندوبست کرنا پڑتا ہے۔ تھوڑی سی پیچیدہ بیماری ہو جائے تو پھر شہر کے کسی ہسپتال کی طرف رُخ لازمی ہو جاتا ہے۔ اِس صورتحال میں تبدیلی ضرور آئی ہے۔ چھوٹے شہروں میں پرائیویٹ ہسپتال پھیل چکے ہیں گو اکثر اوقات ان ہسپتالوں اور ذبح خانوں میں فرق کرنا مشکل ہوتا ہے۔ پرائیویٹ سکولوں کی بھی بھرمار ہو چکی ہے؛ البتہ جس طور سے انگریزی میں کمزوری رکھنے والے اساتذہ انگریزی پہ عبور رکھنے کا تاثر دیتے ہیں وہ مضحکہ خیز ہی نہیں افسوسناک لگتا ہے۔ انگریزی کے نام پہ چھوٹے شہروں میں سیکنڈ ریٹ تعلیم پیش کی جا رہی ہے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ بڑے شہروں میں بھی ہم نے پوری احتیاط سے تعلیم کو تباہ کیا ہے اور اب تو ہر طرف سیکنڈ ریٹ لیکن انتہائی مہنگی تعلیم کی نشانیاں نظر آتی ہیں۔ آئی ایم ایف نے ہمیں پرائیویٹائزیشن کے سبق کیا دینے ہیں۔ سٹیل مل تو ہم سے پرائیوٹائز نہیں ہوئی لیکن الحمدللہ تعلیم اور صحت کو بہت حد تک ہم پرائیوٹائز کر چکے۔ تعلیم اور صحت کیلئے اب مملکتِ خداداد میں گہری جیبیں چاہئیں۔ 
ملکی حالات پہ رونا تو اپنی جگہ اور حالات پہ ماتم کرنے کے بھی ہم ماہر ہو گئے ہیں‘ لیکن بات ہو رہی ہے دیہاتی ماحول سے کچھ فائدہ اُٹھانے کی۔ اَب تو اور کمزوریوں کے باوجود سڑکوں کا جال ایسا بچھ چکا ہے کہ چھوٹے شہر بڑے شہروں کے قریب آ گئے ہیں۔ میرا گاؤں تو اب ایسا ہے کہ آس پاس کہیں جانا ہو تو وہ نسبتاً آسان ہو چکا ہے۔ اسلام آباد میری جھونپڑی سے ایک گھنٹے کی مسافت پہ ہے۔ ہر ہفتے مزدوری کیلئے لاہور جانا پڑتا ہے۔ جھونپڑی سے لاہور کی جس سرائے میں قیام رہتا ہے تین گھنٹے لگتے ہیں۔ تلہ گنگ نزدیک ہے۔ چکوال کی طرف سڑک اچھی بن چکی ہے۔ اپنا اپنا خیال ہوتا ہے اور اپنا شوق دوسروں پہ نہیں ٹھونسنا چاہیے۔ لیکن میں اکثر سوچتا ہوں کہ مثلاً اسلام آباد میں کیا پڑا ہے؟ وہاں کون سے موسیقی کے دربار لگتے ہیں جن سے بھگوال میں رہتے ہوئے میں اپنے آپ کو محروم سمجھوں؟ خاص قسم کی محفلیں ہوتی ہیں تو وہ نجی نوعیت کی ہوتی ہیں اور ایسی محفلیں تو شہر کی نسبت دیہات میں بھی منعقد ہو سکتی ہیں۔ بات تو ہے ذرا سوچنے کی۔
ہاں، ایک زمانے میں بڑے شہروں کی کشش رہتی تھی اور وہ بھی اس لئے کہ... اب احتیاط برتتے ہوئے میں کیا کہوں... خوبصورتی وغیرہ کا پڑاؤ بڑے شہروں میں زیادہ دیکھا جا سکتا تھا۔ بات عیاں ہے کہ اُس قسم کے مواقع دیہاتوں میں زیادہ نہیں مل سکتے‘ لیکن یہ حقیقت تو عمر کے ایک حصے پہ صادق آتی ہے۔ اب جب ہم سینئر سٹیزن بن چکے تو دوسرے تقاضے بھی بدل چکے ہیں۔ اور زندگی کا معمول بھی تبدیل ہو چکا ہے۔ ایک زمانے میں جلدی سونا ہم اپنے اوپر تہمت سمجھتے تھے۔ اب دل کرتا ہے کہ کھانا جلدی کھایا جائے اور نیند کی وادی میں جلد گم ہوا جائے۔ ایسے میں بڑے شہروں سے ہمارا کیا لینا دینا رہ جاتا ہے؟
اِس دفعہ تو گندم کی کٹائی کا خوب مزہ رہا۔ فصل بھی اچھی تھی، زیادہ تردّد بھی نہ کرنا پڑا کیونکہ گاؤں میں چند ایک بہی خواہ ہیں جو کہے بغیر سب کام سمیٹ لیتے ہیں۔ میں بس اسی پہ خوش ہو جاتا ہوں کہ اِتنی بوریاں گندم کی آئیں۔ کچھ معمولی رقبے پہ دیسی مونگ پھلی کی کاشت بھی کر ڈالی ہے۔ دیسی اس لئے کہا کہ ہائبرڈ (hybrid) مونگ پھلی کی بیماری آہستہ آہستہ پھیل رہی ہے۔ ہمارے بھی بیچارے کاشت کار کیا کریں۔ جو سبق اَن پڑھ اہلکار اُنہیں پڑھاتے ہیں اُسی ڈگر پہ چل نکلتے ہیں۔ مکئی کی قسمیں بھی خراب ہوتی جا رہی ہیں اور اب زیادہ کاشت کار ہائبرڈ مکئی ہی کاشت کرتے ہیں۔ ان ہائبرڈ اشیا کی مقدار تو زیادہ ہوتی ہے لیکن ذائقہ گم ہو چکا ہوتا ہے۔ 
بہرحال دیہات کی افادیت کی کہانیاں کس کو سنائیں۔ یہاں تو شہر پھیلتے جا رہے ہیں اور نئی سے نئی فضول قسم کی ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہر اطراف معرض وجود میں آرہی ہیں۔
بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *